قیصر عباس صابرکالمکشمیرلکھاری

رتی گلی کے موسم مہربان نہ تھے۔۔صدائے عدل/قیصر عباس صابر

اب کی بار ہمارے لئے رتی گلی کے موسم مہربان نہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
دواریاں ایک آباد اور پررونق قصبہ تھا جو دریائے نیلم کے اس کنارے پر بسایا گیا تھا جہاں سے ایک ندی جو دریا کی سی روانی اور تیزی سے اوپر سے اترتی تھی اور پل کو بامقصد کرتے ہوئے نیلم کے پانی میں اپنے رنگ شامل کرتی تھی پھر وہ ندی نہ رہتی تھی ایک دریا کے رنگ میں رنگی جانے والی داستاں بن جاتی تھی کہ جو پانی اس ندی کے تھے وہ نیلم کے سلیٹی پانی کو دور تلک جداکرتے جاتے تھے ۔ سفید اور سلیٹی رنگت دور تک گواہی دیتی تھی کہ یہ پانی جو دواریاں سے شامل ہوئے ہیں وہ کشن گنگا کے گدلے پانی کو بھی پاک کرتے جاتے تھے ۔ دواریاں آبادی کے لحاظ سے ایک قصبہ اور سیاحت کے لحاظ سے دروازہ تھا جو پھولوں، رنگوں اور خوبصورت موسموں کے دیس کی طرف کھلتا تھا جہاں پر کھڑی فور بائی فور جیپیں آپ کو نئے جہانوں سے آشنا کرتی تھیں اس لئے مہنگی تھیں۔
ہم اپنی کار کو روکے ہوئے جیپ کے بکنگ آفس کے کلرک سے رتی گلی جھیل کی طرف جانے والے سارے امکانات پر بات کرتے تھے ، کار میں ہر سفر کی ہم سفر اہلیہ اور بچے منتظر تھے اور زیر لب دعائیں مانگتے تھے کہ راستے کھلے ہوں تو گھر واپسی کچھ دن کے لئے مزید ٹل جائے ۔ جیپ ڈرائیوروں کی سرد مہری بتاتی تھی کہ معاملہ گڑ بڑ ہے۔ کلرک نے تصدیق کی کہ ” دواریاں سے رتی گلی کا کل فاصلہ سولہ کلومیٹر ہے جس میں سے آٹھ کلو میٹر تک جیپ جاسکتی ہے باقی نصف پیدل طے کرنا ہوگا اور مسلسل برف پر چلنا ہوگا ۔ گھوڑے بھی مل سکتے ہیں“۔
رتی گلی کے راستے بند تھے جس کی تصدیق ہوچکی تھی مگر شوقِ پرواز کو سلام کہ جب ہم نے فوزیہ سے پوچھا تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہاں برف پر آٹھ کلومیٹر پیدل چل لیں گے مگر آیت زہرا کی کم عمری راہ کی دیواربن گئی اور ہم رتی گلی کے بند راستوں پر جمی برفوں پر چلنے سے بچ گئے۔
دواریاں تک پہنچنے کے لئے ہم صبح سویرے دوسڈ کے کشمیر لاجز سے نکلے تھے تو ہمیں باقاعدہ دعاؤں اور محبتوں میں رخصت کیا گیا ۔سید اکبر بخاری، غلام مرتضیٰ ، رانا مشتاق اور ان کے درجنوں احباب اپنی محبتیں نچھاور کرنے کے لئے چلے آئے تھے ۔ کتابوں سے شغف رکھنے والے شعبہ تعلیم سے وابستہ استاد، ڈاکٹرز اور سبھی دوست ہمیں رخصت کرتے تھے اور ہم رتی گلی جھیل کے خواب سجائے روانہ ہوتے تھے۔ دریائے نیلم کے کھلے پاٹ کے کناروں پر جو میدان تھا اس پر قائم سکول صبح صبح ”اقراء“ کے حکم کی لاج رکھتا تھا اور سینکڑوں بچے حاضر تھے ۔ وادی نیلم کی ٹھنڈ ی صبح میں ہم زرد دھوپ کے سائے میں رخصت ہوئے تھے اور خم دار رستوں سے ہوتے ہوئے دواریاں پہنچے تھے مگر یہ دروازے بند تھے۔ رتی گلی سے آنے والی ندی کے پانی جہاں نیلم میں گدلی رنگت شفاف کرتے تھے وہیں سیاحوں کے لئے ایک ریسٹورنٹ تھا جو دراصل دریا میں بہتا ہوا محسوس ہوتا تھا ۔ وہیں قریب ہی کار پارکنگ تھی ۔ رتی گلی جھیل کے عشق میں مبتلا جتنے دل جلے برف کی آغوش میں راتیں بسر کرتے تھے ان کی سواریاں اسی پارکنگ میں پارک ہوتی تھیں اور محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔ دواریاں سے رتی گلی جھیل تک جیپ کا کرایہ چھ ہزار روپے مقرر تھا اگر واپسی آئندہ روز ہوتی تھی تو ایک ہزار روپے مزید بڑھ جاتا تھا کہ جیپ آپ کے انتظار میں کھڑی رہتی تھی۔
ہم رتی گلی کے شوقِ دیدار میں کتنی شامیں اور صبحیں برفیلے خیموں میں گزار سکتے تھے مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ یہ موسموں کی مرضی تھی کہ کب مہرباں ہوں اور ہم اس باپردہ اور ملفوف جھیل کی ایک جھلک دیکھ پائیں ۔ ہم نے ہر خوبصورت جھیل کے یکساں مزاج دیکھے تھے کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو بھلا کب قریب آنے دیتی تھیں؟
جھیل کرومبر ، نانگا پربت جھیل ، راما لیک اور شیو سر کے مزاج ایک جیسے تھے مگر اس قدر باپردہ نہ تھے ، ایسے دھند کے ملفوف کہیں نہ تھے جو رتی گلی کے تھے ۔ رتی گلی جھیل کی قربت کے لئے جس وجدان کی ضرورت تھی اس کےلئے ہم جوگی بھی بن سکتے تھے ۔اس تک پہنچنے کے لئے کتنی رگوں میں دوڑتا خون منجمند ہوا تھا اور کتنے دیوانے برفیلے صحراؤں کی ریت چھانتے چھانتے غرق دریا ہوئے تھے۔ ہم نے جسے مدتوں سوچا تھا، چاہا تھا اور جس میں تیرتے راج ہنس ہمارے خواب سجاتے تھے ، ہمارے سینو ںمیں رنگ بھرتے تھے اور آنکھوں کے عدسوں کو شفاف کرتے تھے ہم اس کی قربت میں تھے مگر وہاں تک پہنچ نہ سکتے تھے ، اسے چھو نہ سکتے تھے کہ خواب شائد اپنا بھر م رکھنا جانتے تھے کہ خواب اکثر حقیقتوں سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔
ہم نے دواریاں سے نکل کر اٹھ مقام سے ہوتے ہوئے مظفر آباد پہنچنا تھا اور سارا سفر رائیگانی کا تھا کہ جب منزل کے قریب پہنچ کر بھی آپ حسرتِ ناکام لئے واپس لوٹتے ہیں تو رائیگانی ہی رائیگانی آپ کے اطراف میں پھیل چکی ہوتی ہے ، قہقہے لگاتی ہے ، دھند میں ملفوف رتی گلی جھیل کے سب دروازے برف کی زنجیروں میں جکڑے تھے ۔ رتی گلی جھیل بھی تیرے جیسی تھی جسے ملفوف رہنا، پردے میں چھپنا پسند تھا۔
اب کی باررتی گلی کے موسم مہرباں نہ تھے ۔
( بشکریہ : روزنامہ جہان پاکستان )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker