قیصر عباس صابرکالمکشمیرلکھاری

جھیل رتی گلی کی نیلاہٹ اس کی آنکھوں میں اتر آئی ۔۔صدائے عدل /قیصر عباس صابر

مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے بھی عجیب سی لذت محسوس ہوئے جاتی ہے کہ گلگت بلتستان کی جھیلوں، وادیوں ، آبشاروں ، چشموں ، ندیوں اور دریاؤں کے ہر سفر نے ہمیشہ اپنے حصار میں رکھا، اپنی روداد لکھوائی اور باربار بلایا مگر ایک منظر جو فطرت کے تمام رنگوں کی آمیزش سے مدتوں بعد بھی یادداشت کی تختی پر نمایاں رہا ، وہ گلگت بلتستان کا منظر نہ تھا سد پارہ جھیل کی نیلاہٹ اور راما لیک کی خاموشی سے بھی زیادہ نمایاں، فیری میڈوز کے موسموں اور نانگا پربت کے برفانی جزیرے سے بھی بڑھ کر فرحتِ جاں ، راکا پوشی کی چاندی سی چوٹی اور دیو سائی کے پھولوں سے بھی زیادہ دلکش، جی ہاں ان تمام مناظر کی سلطنت کا واحد بادشاہ منظر، جس نے مجھے بے بس کردیا کہ میں اور کچھ نہ کرسکا، جب تک اس منظر کو ذہن کے طاقچوں سے نکال کر انگلیوں کی پوروں کے ذریعے تحریر میں نہ ڈھال لیا ۔ ہاں ،وہ منظر صرف رتی گلی جھیل کا منظر تھا۔
میرے لئے بہت دشوار تھا کہ خود کو رتی گلی جھیل سے چڑھائی کے اس پار دھند میں ملفوف خوشنما بدن کی برفیلی حدت سے، باپردہ وجود کے ہر ابھار کے لمس سے ، برف کی ہر کرچی میں دفن مردہ تتلی کے زندہ رنگوں سے ، پانی پر تیرتے برف کے راج ہنسوں اور ہزاروں رنگوں کے لاتعداد پھولوں سے نکل کر کچھ اور کرسکوں ۔ مجھے یہ بھی اعتراف ہے کہ میں رتی گلی جھیل سے کسی صورت بھی باہر نہ نکل سکا ، بے شک حادثاتِ زمانہ ، معاشرتی تلخیاں اور غمِ روزگار کے گہرے سائے میرے آس پاس منڈلاتے رہے مگر میں ہمیشہ غمِ دنیا کو غمِ یار میں شامل کرکے ان شرابوں کا نشہ بڑھاتا رہا جو بقول احمد فراز ” نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں“ کے جہاں آباد کئے رکھتا تھا۔ میں ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں رہا، میری آنکھوں کے ہزاروں عدسے ان کرچیوں کو چشمِ تصور میں بھی پہچان لیتے رہے جن میں تتلیوں کے رنگ دفن تھے جو میری خواہش لایعنی کی تکمیل کے لئے میرے ساتھ ساتھ تھیں۔
میں نے جب مسلسل بلند ہوتی ہوئی بلندی کی طرف چڑھنا شروع کیا تو مجھے ہر گز شائبہ نہ تھا کہ صرف اسی بلندی کے پار جو دنیا ہے وہی وہ تعبیر ہے اس خواب کی جسے کھلی آنکھوں بھی اکثر دیکھا جاتا رہا ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ جسے سوچتے رہے ہوں وہ اس سوچ سے بالکل مختلف ہو جب مجسم عکس سامنے ہو، تو پھر وہ اپنے تصور سے بڑھ کر حسین ہو۔ یہ بھی ایک خوبصورت حقیقت تھی کہ وہ حقیقت تھی، وہم یا خیال نہ تھا ۔ جب اس کے کنارے پر کھڑے ہوکر ،اس میں تیرتے راج ہنس پر میں نے اپنے پاؤں رکھے تو راج ہنس پھسل چکا اور میرے پاؤں اس پانی کے لمس سے آشنا ہوئے تو یہ حقیقت ہی تھی، راج ہنس کے پھسل جانے کے بعد جب میں پانی کے سپرد ہونے کو تھا بلکہ کچھ کچھ ہوچکا تھا تو وہ دیکھتی تھی، اس نے دیکھتے ہی چیخنا ، چلانا شروع کردیا۔ یہ سارا منظر وہم یا خیال نہ تھا، کسی ڈرامہ سیریل کی کوئی قسط نہ تھی، جب میں نے اس کی خوبصورت آنکھوں میں ستارے دیکھے تھے وہ بھی تو وہم یا سپنا نہ تھا۔
جھیل کی دھند آلود نیلاہٹ ، برفیلی کرچیاں ، جھیل کے کنارے کھلے ہزاروں پھول اور پھولوں کے بیچوں بیچ گزرتی ندی جو جھیل کے پرانے پانی دریائے نیلم کے سپرد کرنے کے لئے بہت نیچے ، کہیں دور گہرائی میں گراتی تھی وہ سب وہم یا خیال ہوسکتے تھے اگر ان کا شاہد صرف میں بذاتِ خود ہوتا کہ میرے ذہن کی کسی اختراع ، میرے دماغ کا کوئی فتور ایسا منظر چشم تصور میں بھی ترتیب دے سکتا تھا مگر اس کو حقیقت مانتے ہوئے اب کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا کہ یہ سارے منظر اس کی آنکھیں دیکھتی تھیں اور ان آنکھوں کی شہادت بھلا کیسے جھوٹ ہوسکتی ہے؟ جب جھیل کے اس پار بلند پہاڑی دیوار کے پاس دھند چھٹی تو بھی انہی آنکھوں نے گواہی دی کہ یہ دیوار کسی ہزاروں سال پہلے اجڑ جانے والے قلعے کی دیوار جیسی ہے جس پر کائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں مگر وہ منظر بہت مختصر تھا کہ بہت جلد اس پر دھند نے اپنے دھندلکے سائے پھیلا دیے تھے۔اس قدر حسین منظر کو مسلسل دیکھنا ہماری آنکھوں کو بے یقینی کی کیفیت میں لیے جاتا تھا کہ یہ جھیل ایک ایسی حسینہ تھی جسے صرف دور سے دیکھا جاسکتا تھا، اس کی پلکیں گنی جاسکتی تھیں ، اس کے ماتھے پر پڑنے والی سلوٹیں محسوس کی جاسکتی تھیں مگر قربت میں وہ ایک دھندلاہٹ زدہ ایسا منظر تھا جسے دیکھنے کے لئے بار بار آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے ملنا پڑتا تھا۔
میں نے ہر طور پر اسے دیکھا کہ اگر وہ خیال ہے تو پھر کب خواب بنے مگر وہ سر تا پا حقیقت میں رتی گلی تھی ، ایک زندہ جھیل جس پر دھند ساکت نہ تھی، طواف کرتی تھی ۔ ایک لمحے کے لئے ساری دھند پتھریلی چار دیواری کے پاس چلی جاتی تو دوسری سمت کے سارے راج ہنس ایک کونے میں جمع ہوجاتے ، قطار اندر قطار اکٹھے ہوجاتے اور پھر ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر تیز بہاﺅ کی زد میں آکر نیچے بہتی ندی کے سپر د ہوجاتے ۔ وہی ندی جو دواریاں کے پل کے نیچے سے گزر کر دریائے نیلم کو شفاف کردیتی تھی ۔
مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے بالکل کوئی خوف محسوس نہیں ہورہا کہ گلگت بلتستان کی وادیوں کے حسین و جمیل قصے جو میں نے لکھے اور کہانیاں جو میں نے بیان کیں اور جا بجاتحریر کی شکل میں سامنے لایا وہ دھندلانہ جائیں، رتی گلی جھیل کے حسد میں کہیں وہ سارے موسم روٹھ نہ جائیں ، میں نے وہ سفر نامے لکھے تھے مگر اب کی بار سارا احوال سفر رتی گلی جھیل مجھ سے لکھوا رہی ہے کہ اس کا شاہد میں ہی نہیں اس کی آنکھیں بھی ہیں جو کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker