اسلام آباد : پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا (کورونا) وبا سے 157 اموات ہوئی ہیں جو ملک میں اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ اموات ہیں۔
اس سے قبل گذشہ سال کرونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران 20 جون کو 153 اموات رپورٹ ہوئی تھی۔ ہفتے کی صبح نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 کے مزید 5908 مریض رپورٹ ہوئے۔
اس دوران 52،402 کرونا ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے مثبت کیسز کی شرح 11.27 فیصد رہی۔ ایک روز قبل اس وبا سے متاثر 144 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے کرونا وارڈ میں گنجائش ختم ہونے اور مریضوں کے دباؤ کے باعث ہسپتال انتظامیہ نے تمام دیگر طے شدہ سرجریز ملتوی کر دیں۔
ہسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے وزارت قومی صحت کو کرونا مریضوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے کے لیے حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ خط کے مطابق مریضوں کا ہسپتال کے وارڈز اور ایمرجنسی پر شدید دباؤ ہے جبکہ کرونا کے لیے مختص وارڈز بھر چکے ہیں۔ حکومت کی کویڈ ویب سائٹ کے مطابق پمز میں 10 بستر کرونا مریضوں کی آئسولیشن کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کرونا مریض داخلے کے لیے ایمرجنسی رومز میں انتظار کر رہے ہیں کیونکہ بیڈز خالی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں وارڈ میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔ خط کے مطابق ہسپتال میں کرونا کے مریضوں کو ان آئی سی یوز میں منتقل کیا جائے جہاں آکسیجن پریشر برقرار رہ سکے گا۔ خط میں درخواست کی گئی ہے کہ ایسے مریضوں کے علاج کے لیے دیگر طبی مراکز میں سہولیات بڑھائی جائیں۔
ادھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قوم کو نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماجی فاصلے اور ماسک کے ساتھ نماز اور روز مرہ کے امور کو یقینی بنائیں، کرونا وبا خطرناک مرحلے پر داخل ہو چکی ہے، وزیر اعظم اور حکومت کی ہدایات پرعمل کریں۔ جمعے کو اپنے ٹویٹ میں صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں مساجد و بازار میں لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کڑی نظر رکھیں، سماجی فاصلے اور ماسک کے ساتھ نماز اور کام کو یقینی بنائیں۔ قوم نظم و ضبط کا مظاہرہ کرے گی تو اللہ ضرور مدد کرے گا۔‘ پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد اور وبا سے اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جن شہروں میں مثبت کیسز کی شرح زیادہ ہے وہاں نویں سے بارہویں جماعت کے لیے بھی تعلیمی ادارے عید تک بند رہیں گے۔
جمعے کو اعلان کیے گئے نئے حفاظتی اقدامات کے تحت بازاروں کے اوقات کار شام چھ بجے تک رہیں گے، اس کے بعد صرف انتہائی ضروری اشیا کے کاروبار کی اجازت ہوگی جس کی فہرست جاری کی جائے گی۔ اسی طرح انِ ڈور ڈائننگ پر پہلے سے عائد پابندی کے ساتھ ساتھ اب عید تک آؤٹ ڈور ڈائننگ بھی بند کردی گئی البتہ کھانا خرید کر لے جانے یا گھر منگوانے کی اجازت ہوگی۔ دفتری اوقات کو دو بجے تک محدود کیا جارہا ہے تاکہ چھ بجے تک بازار کھلے ہونے کے باعث لوگوں کو خریداری کا وقت مل سکے، جس میں عید کی خریداری بھی شامل ہے،۔عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ خریداری کے لیے آخری دنوں کا انتظار نہیں کریں۔ دفتر میں 50 فیصد ملازمین کے گھروں سے کام کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے۔
دنیا میں وائرس کی مختلف اقسام کے پھیلاؤ کے پیش نظر بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کی تعداد میں کمی لانے کی پالیسی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کی ٹیسٹنگ، قرنطینہ کے نظام کو مربوط کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ باہر سے وبا آنے کا خطرہ نہ ہو۔
کرونا وائرس سے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر قومی اسمبلی کی تمام تر سرگرمیاں جزوی طور پر معطل کردی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے شعبہ انتظامیہ کے نوٹیفیکیشن میں کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے دفاتر کو 26 سے 30 اپریل تک پانچ دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکریٹریٹ کے ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 26 اپریل سے 30 اپریل تک الیکٹرانک ذرائع کی مدد سے گھر سے کام جاری رکھیں۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی ملازم کو ایک گھنٹے کے نوٹس پر آفس بلایا جا سکتا ہے اور ملازمین کو سٹیشن چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ تین مئی سے مختلف شعبہ جات کے انچارج محدود سٹاف کو ضرورت پڑنے پر آفس بلائیں گے، جن میں شعبہ انتظامیہ، کمیٹی ونگ، قانون سازی اور خصوصی اقدامات کا عملہ شامل ہے۔
( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )

