اہم خبریں

کورونا : پاکستان میں مزید 118 ہلاکتیں ، بغداد کے ہسپتال میں آتشزدگی سے 82 ہلاک

اسلام آباد : پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5611 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 118 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے ملک کے ہپستالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ملک کے تمام بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز اور آکسیجن بیڈز پر مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ وزیِرِ اعظم عمران خان نے قوم کو خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا قواعد و ضوابط پر عمل نہ کیا گیا تو ا تو انڈیا جیسے حالات ہو جائیں گے۔پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 55128 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے اتوار کو فراہم کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق کرونا وائرس کی مختلف ویکسینیں متعارف کروائے جانے کے بعد دنیا بھر میں لوگوں کو اب تک ایک ارب سے زیادہ خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔ سرکاری ذرائع سے حاصل کیے ڈیٹا کے مطابق 207 ملکوں اور علاقوں میں ویکسین کی ایک ارب دو کروڑ نو لاکھ سے زیادہ خوراکیں لگائی گئی ہیں۔ تین ملکوں میں 58 فیصد خوراکیں لگائی گئیں۔ امریکہ میں 22 کروڑ 56 لاکھ، چین میں21 کروڑ 61 لاکھ اور بھارت میں13 کروڑ 84 لاکھ خوراکیں دی گئی ہیں۔
ادھر عراقی دارالحکومت بغداد میں اتوار کو کرونا وائرس کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں آگ لگنے سے 82 افراد ہلاک ہو گئے۔ طبی اور سیکورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکہ ’آکسیجن سلینڈروں کے ذخیرے میں خرابی‘ کی وجہ سے ہوا ہے اور اس میں کئی درجن افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر فائٹرز عراقی دارالحکومت کے جنوب مشرقی مضافات میں واقع ابن الخطیب ہسپتال میں آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے جب مریضوں اور ان کے رشتہ داروں نے عمارت سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
ہسپتال کے ایک طبی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ بغداد میں کوویڈ-19 کے شدید ترین کیسز کے لیے مختص ’30 مریض انتہائی نگہداشت یونٹ میں تھے۔‘ شہری دفاع نے عراقی سرکاری خبروں کو بتایا کہ انہوں نے جائے وقوعہ پر موجود 120 مریضوں اور ان کے رشتہ داروں میں سے 90 افراد کو بچایا لیکن وہ مرنے والوں اور زخمیوں کی صحیح تعداد نہیں بتائیں گے۔
عراقی وزارت داخلہ نے بتایا کہ دارالحکومت بغداد کے کووڈ19 ہسپتال ابن الخطیب میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 82 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ110 افراد زخمی ہیں۔ وزارت کے ترجمان خالد المحنہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں کہا کہ ’ہمیں تمام ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کے فوری جائزے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی ایسے اندوہناک حادثے سے بچا جا سکے۔‘

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker