Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جون 4, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی
  • لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا
  • فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار
  • امن معاہدہ تو تیار ، صرف سرنامے پر ’اختلاف‘ ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کی یادیں : احمد فاروق مشہدی ،ایک شریف آدمی ( دوسرا حصہ )
ادب

ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کی یادیں : احمد فاروق مشہدی ،ایک شریف آدمی ( دوسرا حصہ )

ایڈیٹرجون 30, 20213 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
alamdar hussain bukhari
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

( گزشتہ سے پیوستہ )
اب میں خاموش کھڑا رہنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکا۔ میں فاروق کے دل کی کیفیت کو سمجھ رہا تھا وہ واقعی ایک صلح جو اور وضعدار شخص تھا اسے کسی بھی استاد سے اس طرح بات کرنا ہرگز پسند نہیں تھا۔۔۔ ) تو بات مل کر پڑھنے اور تیاری کرنے کی ہو رہی تھی ہمیں اس مشق سے کئی فوائد حاصل ہوئے مثلا مجھ ایسے ہڈ حراموں کو باقاعدہ پڑھنے کی عادت پڑ گئی امتحان میں بھی ہم سب کی کارکردگی میں بہت بہتری آئی اور دلچسپ بات یہ ہوئی کہ شاید شعبے کی تاریخ میں پہلی اور آخری بار ہمارے سینئر اور نوجوان اساتذہ پر لڑکیوں کی طرف سے یہ الزام لگا کہ وہ نمبر دینے میں "لڑکوں کی طرف داری” کرتے ہیں (کیونکہ ہمارے ہم جماعتوں میں کم از کم پانچ چھ لوگ مختلف پرچوں میں پوزیشنوں کی دوڑ میں شامل رہتے تھے، اگرچہ اس مقابلے میں طالبات بھی پیچھے نہیں تھیں) ایک طرح سے بظاہر وہ سچی تھیں کیوں کہ وہ بےچاری تو یونیورسٹی کے فارغ اوقات میں بھی لائبریری میں گھسی رہتیں اورکتابیں تلاش کرنے اور نوٹس بنانے میں مصروف اور ہلکان ہوتیں (اس دور میں فوٹو کاپی بہت مہنگی تھی اس لئے نوٹس ہاتھ سے لکھ کر بنائے جاتے تھے اسائنمنٹوں کا عذاب الگ تھا) جبکہ ہم لوگ کینٹین پر بیٹھے بظاہر گپ لگا رہے ہوتے تھے۔ لائبریری کے حوالے سے یاد آیا کہ جاوید سہو کو لائبریری کے عملے سے دوستی بنانے میں بے حد مہارت حاصل تھی لائبریرین چودھری مقبول بھی اس کے علاقے کا تھا اس لئے ہم جاوید کو ضروری کتابوں کی فہرست تھما دیتے اور اس کے توسط سے لائبریری میں موجود ہر کتاب ہمیں مل جاتی ہمیں چار کتابیں جاری ہوسکتی تھیں جب کہ جاوید کیلئے کوئی حد نہیں تھی ۔۔۔ ہمارے نام نہاد ٹیم ورک کی خبر ہماری ہم جماعتنوں کو نہیں تھی اور انہیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کینٹین پر بھی ہم لوگ اکثر کسی نصابی موضوع پر ہی بحث کر رہے ہوتے تھے( ان دنوں ہمیں لڑکیوں سے بات کرنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا تھا اس لئے ہماری محفل میں ہماری کوئی ہم جماعت موجود نہیں ہوتی تھی)اس لئے وہ اپنی شکایت میں بظاہر حق بجانب تھیں۔۔ اسی دوران میں ہم نے یہ بھی محسوس کیا اور دیکھا کہ ہمارے محترم اساتذہ بھی ہماری قدر کرتے تھے اور سوائے صدر شعبہ پروفیسر افتخار حسین شاہ کے سب کا رویہ ہمارے ساتھ دوستانہ تھا، شاہ صاحب بےحد اصول پسند شخص تھے اور ان کے بہت مشفقانہ انداز کے باوجود سبھی شاگرد ان سے احترام کا کچھ زیادہ فاصلہ قائم رکھتے۔۔۔ شاہ صاحب کی کلاس کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آیا شاہ صاحب اپنی مخصوص بھرائی ہوئی سی بلند آواز میں اقبال کے رموز بے خودی پر لیکچر عطا فرما رہے تھے کہ اچانک لڑکیوں کی طرف سے گھبرائی ہوئی سی آوازیں اٹھیں ہم سب نے چونک کر ادھر دیکھا نجمہ پروین غش کھا چکی تھی اور اس کے قریب بیٹھی کچھ لڑکیاں اسے سنبھال رہی تھیں ۔۔۔ بعد میں نجمہ پروین کی بے ہوشی کی وجوہ اور رموز پر بات شروع ہوئی فاروق نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے کہا” در اصل شاہ صاحب کی آواز معمول سے زیادہ بلند ہو گئی تھی اس لئے نجمہ یہ برداشت نہ کرسکی”
سب نے ہنستے ہوئے تائیدی انداز میں اس کی طرف دیکھا میں نے سنجیدہ شکل بنائے ہوئے اس سے اختلاف کیا "نہیں بھائی ہم ان کی آواز کے آہنگ کے تو عادی ہو چکے ہیں اب اس سے نیند تو آتی ہے بندہ بے ہوش نہیں ہوسکتا دراصل شاہ صاحب نے علامہ اقبال کی زندہ دلی کا واقعہ سنا کر اپنا مخصوص دلدوز قہقہے لگایا تھا اور بے چاری کمزور دل لڑکی یہ دھچکا برداشت نہ کرسکی۔۔۔ ”
اس پربےساختہ سب نے مل کر قہقہہ لگایا جس میں خود مریضہ کی ہنسی بھی شامل تھی۔ ہنستے ہنستے فاروق کی آنکھوں میں آنسو آگئے(وہ جب بھی نے ساختہ کھل کر ہنستا اس کی آنکھیں پانی سے بھر جاتیں) بعد میں جب بھی وہ محترم شاہ صاحب کی مخصوص ہنسی سنتا اس کیلئے اپنی ہنسی ضبط کرنا نا ممکن ہوجاتا ۔۔۔۔
اس درویش نے تمام اساتذہ کی طرف سے اپنی کلاس کی قدر افزائی کا ذکر کیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم متعلقہ موضوع پر پہلے ہی پڑھ کر اور باہم بحث مباحثہ کر کے آتے تھے اور کمرہ جماعت میں بھی مکالمے کی فضا کو زندہ اور قائم رکھتے تھے اور آج کے طالب علموں کی طرح ہمیں استاد محترم کی ناراضی اور اس کے نتیجے میں نمبر کٹنے کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ ہمارے اکثر ہم جماعت سمسٹر ٹیسٹ کا اپنا پرچہ چیک کرتے ہوئے دوسروں کے پرچے بھی نظر میں رکھتے اور ضرورت پڑنے پر موازنہ کرکے خود اپنے جواب کی بہتری ثابت کرنے کوشش کرتے ہوئے بہتر نمبروں کا تقاضا بھی کرتے کی ہم میں سے بعض لوگ تو کج بحثی پر بھی اتر آتے اس سلسلے میں ہمارے سب سے زیادہ محنتی اور قدرے سادہ مزاج ہم جماعت مقصود کے معرکے بڑے سخت لیکن دلچسپ ہوتے تھے ، کئی لڑکیاں (خاص طور پر مسرت حفیظ ، نگینہ گل ، شگفتہ حسین اور مبینہ اختر) بھی اس معاملے میں خود اپنے حق کیلئے کافی پرجوش ہوتی تھیں لیکن فاروق مشہدی کو ہم نے کبھی اس سلسلے میں کسی استاد سے جرح کرتے نہیں دیکھا اچھی کارکردگی کے باعث اکثر تو اسے ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی لیکن ایسا بھی نہیں کہ اسے کبھی کوئی شکایت ہی نہ ہوئی ہو لیکن اگر ایسا ہوا بھی اور اس نے ہمارے سامنے اس کا اظہار کیا لیکن کسی استاد سے کبھی کچھ نہ کہا۔۔۔ خود اس درویش کا اپنا انداز بھی کم و بیش یہی تھا اس لئے ہماری باہم خوب نبھتی تھی ہم دونوں اس طرح کی بحثوں سے چپکے چپکے مزے لیا کرتےتھے۔۔۔ بہر حال ہماری کلاس کے کم و بیش سبھی لوگ اساتذہ کرام سے بے جھجک کلام کرتےاور اساتذہ بھی ان کی بات توجہ سے سنتے ۔۔۔ کلاس میں لیکچر کے بعد اور بعض اوقات اس کے درمیان میں بھی اساتذہ سے سوال کرنے میں ہم چند لوگ (شگفتہ حسین، نگینہ گل، مبینہ اختر، فاروق مشہدی، یاسین شاہد، شعیب عتیق اور یہ درویش) دوسروں سے کچھ آگے ہی ہوتے اس سے بعض اوقات کئی اساتذہ کرام زچ آجاتے لیکن ہم باز آنے والے نہیں تھے ۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ بہت یادگار ہے ہوا یہ کہ اپنے دور کی نامور جرمن مستشرق محترمہ این میری شمل ملتان یونیورسٹی میں (اس یونیورسٹی کو بعد میں ضیاء الحق کےاسلامی مارشلائی دور میں مسلمان کرکے اس کا نام بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان رکھا گیا تھا) تشریف لائیں انہوں نے ہماری کلاس میں "علامہ اقبال اور تصوف” کے موضوع پر ایک بسیط لیکچر دیا ہمارے لئے حیرت بلکہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ انہوں نے اقبال کو لگ بھگ ایک صوفی شاعر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی سوال جواب کا سیشن شروع ہوا تو مختلف طلبا و طالبات نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی (ہماری کلاس کے اکثر لوگ اب دنوں ترقی پسندی کے وائرس سے متاثر تھے اور فاروق جواس وقت تک سخت اسلامی ذہن رکھتا تھا لیکن اتناہی پکا وہابی (اہل حدیث) بھی تھا اس لئے ہم میں کوئی بھی اقبال کو صوفی تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھا کیونکہ اس وقت ہم سب کا یہ خیال تھا کہ تصوف انفرادی اور اجتماعی بے عملی پیدا کرتا ہے ۔۔۔ لیکچر سننے کے بعد ہمارا موقف یہ تھا کہ اقبال جو ہمارا قومی شاعر ہے اور جو انفرادی و اجتماعی تحرک اور انقلاب کی بات کرتا اسے آخر کس ایجنڈے کے تحت تصوف کی انفعالیت پسندی کو ابھارنے کیلئے استعمال کیاجارہا ہے؟
یہ ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کے جبری خاتمے اور ضیاء الحق کی مارشلائی اسلامائیزیشن کے ابتدائی دنوں کی بات ہے اس لئے شاید ہم اس کے ردعمل میں کچھ زیادہ پرجوش بلکہ غصے سے بھرے ہوئے بھی تھے۔۔۔ مجھے یاد پڑتا ہے اس درویش اور فاروق کے علاوہ راو تسنیم شعیب عتیق اور لڑکیوں میں شگفتہ حسین مسرت حفیظ اور نگینہ گل نے اس بحث میں بھر پور حصہ لیا تھا۔ محترمہ ڈاکٹر این میری شمل نے بہت پرسکون انداز میں ہمارے سوالوں کے جواب دیکر ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن ہماری تشفی نہیں ہوئی اور ہم جرح میں لگے رہے ۔۔۔ مطالعہءاقبال کا پرچہ صدر شعبہ افتخار حسین شاہ صاحب پڑھایا کرتے تھے وہ کچھ پریشان اور اس سے زیادہ زیادہ حیران ہورہے تھے کہ ان کم بختوں نے یہ سب کچھ کہاں سے پڑھ لیا ہوا ہے کبھی کلاس میں تو بولے نہیں؟(جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہم شاہ صاحب سے بہت ڈرتے تھے اس لئے ان کی کلاس میں عموما خاموش ہی رہتے تھے) اس حوالے سے مزے کی بات یہ ہے کہ اے بی اشرف صاحب اگرچہ ہمین افسانوی ادب کا پرچہ پڑھاتے تھے لیکن وہ ترقی پسند ادب و تنقید سے اپنے خصوصی اور پرجوش شغف کے باعث ہمیں بھی اس طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ وہ اقبال کی شاعری کے بھی ترقی پسندانہ مطالعے کو ترجیح دینے کی ہدایت کرتے تھے اگرچہ ہم ان کے بارے میں بدگمان رہتے تھے کہ ان کی توجہ صنف لطیف کی طرف زیادہ ہوتی ہے لیکن ان کا ہمارے ساتھ رویہ بھی پرشفقت دوستی کا تھا (اور ہم ان سے صنف نازک کی نفسیات کو سمجھنے کے خواہشمندبھی رہا کرتے تھے) اشرف صاحب اپنے اظہار میں ایسی بےساختہ سادگی اور بےتکلفی کا مظاہرہ کرتے کہ اجنبیت کے پردے کم از کم مکالمے کے دورانیے میں یکسر اٹھ جاتے اس لئے ان کی سفارش پر ہم نے انہی دنوں عزیز احمد کی کتاب "اقبال نئی تشکیل” ڈاکٹرخواجہ عبدالحکیم کی فکر اقبال اور یوسف حسین خان کی” روح اقبال” پڑھ لی ہوئی تھیں "اقبال نئی تشکیل "کی کوئی کاپی کسی لائبریری میں مل نہیں رہی تھی اور فاروق کی درخواست پر اشرف صاحب نے کچھ عرصے کے لئے فراہم کردی تھئ۔ بہر حال ڈاکٹر اینا میری شمل سے سوال جواب کے دوران شاہ صاحب نے کسی کو نہیں ٹوکا شاہ صاحب بہت وضعدار شخص تھے (اور یہ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ وہ علمی آزادی کے سخت قائل تھے )، وہ کچھ پریشانی اور کچھ کچھ تحسین کے انداز میں اپنے شاگردوں کی اس کارستانی کو دیکھ رہے تھے(انہوں نے بعد میں بھی ہمارے خدشات کے برعکس ہمیں سخت سست کہنے کی بجائے ہمارے بعض سوالوں کی تعریف کی) لیکن یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین قریشی جو خاص طور پر معزز مہمان کی عزت افزائی کے لئے تشریف لائے تھے، وہ بہت ہی نفیس اور وضعدارانسان تھے لیکن سائنس کے استاد تھے اس لئے انہیں متعلقہ موضوع کے بارے میں تو کچھ زیادہ پتہ نہیں تھا لیکن وہ بظاہر ہماری کج باتوں سے کافی بدمزہ لگ رہے تھے بالآخر انہوں نے ہماری پرجوش کج بحثی میں دخل دیتے ہوئے یہ کہا کہ معزز مہمان نے ایک اور میٹنگ میں بھی جانا ہے اور وہ ڈاکٹر صاحبہ کو ہمارے چنگل سے چھڑا کر لے گئے ۔۔۔
اب ہمیں اساتذہ کی طرف سے ڈانٹ کا خطرہ تھا اور اس معاملے فاروق ہم سب سے زیادہ محتاط ہی نہیں بزدل واقع ہوا تھا لیکن ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ کسی محترم استاد نے کچھ بھی نہیں کہا بلکہ شاہ صاحب،اشرف صاحب اور انوار احمد اور نجیب جمال نے ہماری تعریف اور حوصلہ افزائی بھی کی حیرت ہمیں ڈاکٹر ایس ایم منہاج الدین کی طرف سے تحسین پر ہوئی جو اسلامی تصوف کی ہمہ جہتی کے بہت قائل تھے اس سے ہم مطمئن ہوئے کہ بین الاقوامی شہرت کی حامل اس عالم خاتون سے بحث کرنے میں ہم کچھ غلط بھی نہیں تھے اس سے پوری کلاس کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا اور ہم اس چھچھورے پن پر اتر آئے کہ کئی محترم اساتذہ سے ہماری کج بحثی میں کچھ اور اضافہ ہوگیا بلکہ اب یہ تک ہونے لگا کہ کسی پرچے میں اکثر لوگوں کی تیاری نہ ہوتی تو متعلقہ استاد سے پرچہ ایک دو دن کیلئے ملتوی کردیئے کی درخواست کی جاتی جو اکثر مان بھی لی جاتی۔ اس کا آغاز اے بی اشرف صاحب(جو اس وقت تک باقی کئی اساتذہ کی طرح ڈاکٹر نہیں ہوئے تھے) سے ہوا، اس روز اشرف صاحب کچھ تاخیر سے شعبے میں آئے پرچہ شروع ہونے کا وقت ہوگیا تھا اور ہم سب بےحد مضطرب بے یقینی کے عالم میں استاد محترم کے منتظر تھے ان سے مذاکرات کی ذمہ داری کلاس کے سیاسی لیڈر شعیب عتیق کو سونپی گئی اتنے میں اشرف صاحب اپنے ویسپا سکوٹر(یہ وہ دور تھا جب ویسپا سکوٹر متوسط طبقے خاص طور پر کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کے سٹیٹس کی علامت ہوا کرتا تھا) پر آتے نظر آئے ہم سب مستعد ہوئے اشرف صاحب سکوٹر مقررہ جگہ پر کھڑا کرکے حسب عادت اپنے محمد علی سٹائل(اس دور کی اردو فلموں کے نامور ہیرو جن سے اشرف صاحب کے قد جسامت اور کچھ کچھ شکل وصورت بھی ملتے جلتے تھے) بالوں کو اپنے ہاتھوں سے سنوارتے ہوئے ہمارے طرف بڑھے شعیب نے آگے بڑھ کر اپنی روایتی انکساری میں بہت کافی مبالغہ کرتے ہوئے سلام کیا باقی سب ملزمان کی شکل بنائے اس سے دو قدم پیچھے تھے استاد محترم نے اپنے مخصوص پرشفقت انداز میں حال احوال پوچھا اور کمرہء امتحان کی طرف بڑھے شعیب نے عاجزی سے اور کچھ ہکلاتے ہوئے کہا
” سر ۔۔ وہ ۔۔۔ سب کہتے ہیں۔۔۔ کہ ۔۔۔ کہ۔۔ آج تیاری نہیں ہے۔۔۔!”
اشرف صاحب چلتے چلتے رک گئے ” تو۔۔۔ پھر۔۔۔ بھئی؟ ”
ہم سب بد حواس ہو ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے کئیوں نے تو دوسروں کی آڑ لینے کی کوشش کی لیکن لیڈر نے لیڈری کا بھرم رکھ لیا اور جی کڑا کرکے(اور شاید آنکھیں بند کرکے) کہہ ڈالا کہ ” سر ۔۔۔ سر آج پیپر۔۔۔ نہ۔۔۔ نہ لیں تو۔۔۔۔”
اشرف صاحب بس لمحہ بھر کیلئے رکے کچھ پراستفسار انداز میں کلاس کے باقی لوگوں کی طرف دیکھا جو سر جھکائے چپکے کھڑے تھے
” تو ٹھیک ہے بھئی دیکھ لیں پھر ۔۔۔ چلو کل سہی !”
اور استاد محترم بے حد پرسکون انداز میں سٹاف روم کی طرف مڑ گئے شعیب نے فاتحانہ انداز میں ہماری طرف دیکھا سب کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے تھے باہمی خوش گپیاں شروع ہو گئیں۔ فاروق مشہدی کی تیاری اکثر بہت اچھی ہوتی تھی لیکن بامروت بندہ تھا اس لئے ایسی حرکتوں میں بھی کلاس کی مرضی کے برعکس کچھ نہ کرتا البتہ اپنی واضح رائے ضرور دیتا اس نے دھیمے سے کہا "یار۔۔۔ یہ پرچہ ہوجاتا تو سر سے بوجھ اتر جاتا”
” یہ بندہ نواز گیسو دراز (دور طالب علمی ہی میں فاروق کے سر پر بالوں کا بوجھ نہ ہونے کے برابر تھا اس لئے اسے بندہ نواز گیسودراز کا لقب دیا گیاتھا جسے اس نے بہت خوش دلی سے قبول کر لیا تھا راو تسنیم اس سے جب بھی غصہ کرتا اسے اسی انداز میں مخاطب کرتا بہت پیار آتا تو گنجو کہتا) ہمیشہ ہی اپڑیں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بناوے ہے”
فاروق نے نے تھوڑا جھنجھلا کر راو کی دیکھا لیکن بولا کچھ نہیں اور سب ہنسی خوشی چائے پینے کینٹین کی طرف چل پڑے یہ شعیب کی اور ہماری پہلی سیاسی فتح تھی جس کے بعد یار لوگ کچھ زیادہ ہی دلیر ہوگئے ۔
کچھ عرصہ بعد اس طرح کی ایک اور صورت حال پیدا ہوئی ایک اور محترم استاد جن کا رویہ کلاس کے ساتھ عمومی طور پر بہت دوستانہ ہوا کرتا تھا (اور جن کا نام یہاں دینا مناسب نہیں جس کی وجہ کا پتا واقعہ پڑھ کر آپ کو لگ جائے گا) ایک بار ان کے پرچے کے التوا کی درخواست کرنے کے بارے میں دو دن پہلے ہی یارلوگوں کا پروگرام بن گیا کسی نے کہا استاد محترم مانیں گے نہیں اس پر بحث شروع ہو گئی ایک دو دوست نامعلوم کیوں ان سے نالاں تھے اور بہرصورت پرچے کا التوا یا پھر بائیکاٹ چاہتے تھے میں نے اور فاروق نے بائیکاٹ کی مخالفت کی تو ایک طرف سے آواز آئی "یہ تو ہیں ہی ان کے چمچے!
اس پر اس درویش نے بہت سخت اور فاروق نے اپنے مخصوص دھیمے لیکن مستحکم انداز میں احتجاج کیا اور ماحول بہت تلخ ہوگیا لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی ایکشن کمیٹی بنائی گئی اور ہم دونوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا کچھ لوگوں نے یونیورسٹی کی طلبا یونین کو ملوث کرنے کا شوشہ بھی چھوڑا لیکن اس کی اکثر لوگوں نے مخالفت کی اور معاملہ کلاس کے اندر ہی محدود رکھنے کا طے ہوا اگلے روز فاروق نے اور میں نے باہم مشاورت کرکے طے کیا کہ ہم رضاکارانہ طور پر استاد محترم سےوبل از وقت بات کرلیں تو شاید تلخی کی نوبت نہ آئے۔۔۔ اس لئے ہم نے ان سے الگ سے بات کرنے کیلئے وقت لیا جو موصوف کی گوناگوں مصروفیات (وہ ہمیشہ اساتذہ کی سیاست میں بیت سرگرم اور مصروف رہنے کے عادی ہوا کرتے تھے) کے باعث کافی مشکل سے ملا۔ہم ان کے مزاج سے واقف تھے اس لئے ہم نے پہلے بڑی نیازمندی سے خود اپنی طرف سے پرچے کے التوا کی گزارش کی وہ پر شفقت انداز میں بولے "یار تم لوگوں کو کیا ہوا؟ اچھے طالبعلم ہو کل تک تیاری کرو پورا دن پڑا ہے میں تم لوگوں سے ہرگز یہ توقع نہیں تھی "۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ہم نے کئی مجبوریاں گھڑ کر سنائیں لیکن وہ نہ مانے ۔۔۔ بالآخر ڈھکے چھپے انداز میں انہیں معاملے کی سنجیدگی سے آگاہ کرنے کی کچھ اور کوشش کی ،ہم نے عرض کیا "سر یہ دراصل پوری کلاس کی خواہش ہے اس پر وہ اکھڑ گئے اور غصے سے بولے ” گویا تم لیڈر بن کر آئے ہو؟”
ہم نے کچھ لرز کر عاجزی سے عرض کیا "سر ۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں بلکہ ہم تو خود ہی کسی بدمزگی سے بچنے کے لئے رضاکارانہ آئے ہیں ”
لیکن وہ مزید کوئی بات کئے بغیر ایک طرف کو چل پڑے۔ اب ہمارے لئے مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں کسی نے ان سے بات کرنے کا اختیار تو دیا نہیں تھا اس لئے ان سے مزید کھل کرکچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے ۔۔۔ اور ہم مایوسی سے سر جھکائے واپس ہو لئے۔اس دوران میں یہ ہوا کہ ہماری عدم موجودگی میں یار لوگوں نے ہم جماعت لڑکیوں سے بھی بات کرلی اور دوسری صبح پرچے سے گھنٹہ بھر پہلے استاد محترم سے بات کرنے کا طے کر لیا گیا تھا ادھر ہم دونوں کی "رضاکار کمیٹی” کی بات ہی سننے سے انکار کردیا گیا تھا اور ہمہں پتہ تھا کہ ٹکراؤ لازمی ہے اس لئے ہم نے ایک بار پھر ہم جماعتوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور چمچہ گیری کے طعنے سنے ۔فاروق کی پریشانی دیدنی تھی وہ باربار بڑبڑاتا رہا "یار ساڈی تےکوئی سنڑدا ای نئیں!”
اگلے دن ایکشن کمیٹی نے صبح ہی سے سب ہم جماعتوں کو متنبہ کرنا شروع کردیا کہ جس نے بھی "غداری” کی تو اس کا پوری کلاس بائیکاٹ کرے گی۔ الغرض پرچہ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے شعیب عتیق کی سربراہی میں کمیٹی نے استاد محترم سے پرچے کے التوا کی درخواست کی لیکن انہوں نے ہماری توقع کے مطابق یہ درخواست/ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور وقت مقررہ پر سوالیہ پرچوں کا بنڈل بغل میں دابے کمرہ ءامتحان کی طرف آتے نظر آئے تمام طلباء وطالبات اکٹھے ایک طرف کھڑے تھے مذکورہ استاد صاحب بس لمحہ بھر ہمارے قریب رکے ایک غصہ ور نظر سے سب کو دیکھا اور پھر امتحان کیلئے مخصوص کمرے میں چلے گئے ۔۔۔
لڑکیاں دل کی کچھ زیادہ ہی نرم دل نکلیں اور چند منٹ آپس میں کھسر پھسر کرنے کے بعد سر جھکائے کمرہ امتحان کے اندر چلی گئیں اس پر لڑکے واقعی کافی پریشان ہوئے لیکن ثابت قدمی سے باہر ہی خاموش کھڑے رہے۔۔۔ کمرہ امتحان کے اندر نہ جانے کیا ہوا کہ کلاس کی ذہین اور نمایاں طالبہ اور رول نمبر1 مسرت حفیظ بزدار آنکھوں میں آنسو لئے کمرہ امتحان سے باہر آ تی نظر آئیں اور پھر چند ہی لمحوں میں باقی لڑکیاں بھی باہر آ گئیں ان کے پیچھے پیچھے استاد صاحب بھی باہر آئے اور انتہائی غصے عالم میں اونچی آواز میں کہا "مجھے تم لوگوں سے یہ توقع نہیں تھی۔۔۔” وہ غصے سے کانپ رہے تھے جاتے جاتے رکے اور پھر مزید اونچی آواز میں کہا”۔۔۔ تم سب حرام ۔۔۔۔ ثابت ہوئے ہو!”
ایک دو طالب علم کچھ کہنے ہی کو تھے کے دوسروں نے انہیں باقاعدہ دبوچ کر روک لیا اتنے میں استاد محترم وہاں سےجا چکے تھے۔ یہ ایک غیر معمولی، افسوسناک اور تکلیف دہ واقعہ تھا جس کا بعد میں دونوں طرف سے شدید رد عمل آنے والا تھا۔
( جاری ہے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

احمد فاروق مشہدی زکریا یونیورسٹی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleجبارمفتی کا کالم:کپتان کا نیا جنم!!!
Next Article کینیڈا میں‌گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے : 49 سینٹی گریڈ پر 130 ہلاکتیں
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی اور نصف صدی کا قصہ : خالد محمود رسول کا کالم

اکتوبر 22, 2025

ڈاکٹر احسان قادر اور ڈاکٹر شازیہ میں ہاتھا پائی : فرانزک رپورٹ میں زیادتی ثابت

اکتوبر 8, 2025

زکریا یونیورسٹی : اسسٹنٹ پروفیسر کے ساتھ ہیڈ آف ڈیمارٹمنٹ کا مبینہ ریپ : تحقیقات شروع

ستمبر 30, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم جون 4, 2026
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم جون 3, 2026
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک جون 3, 2026
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار جون 3, 2026
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی جون 1, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.