اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جلسے،جلوس،ریلیاں،الزام تراشیاں،دھمکیاں اور حکومت ختم کرنے کے دعوے ٹھیک اسی طرح انجام کو پہنچ رہے ہیں جیسا کہ تحریک انصاف کی حکومت تبدیلی اور احتساب کا نعرہ اور دعویٰ ٹھس ہوچکا ہے،کرپشن الزامات پر اندر جانے والے باہر آرہے ہیں،وفاقی بجٹ بغیر کٹوتی تحریکوں کو تسلیم کرنے کے پاس ہوچکا ہے،مہنگائی عروج کی طرف گامزن ہے حکومت اور اپوزیشن کی حد تک تمام امور امن میں ہیں البتہ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں رسوا ہورہا ہے اس کی پروا پہلے والی حکومتوں کو تھی اور نہ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے لہذا اب آئندہ عام انتخابات کیلئے نئی صف بندیوں کی بات ہورہی ہے صاحب اقتدار جماعت دعویدار ہے کہ اگلے پانچ سال وہ مزید حکومت کریں گے جس کی مثال اب تک کی سیاسی یا پارلیمانی حکومتوں کی نہیں رہی ہے مگر اپوزیشن کچھ اور توقع لگائے بیٹھی ہے اور اپنے اول اور سیکنڈ لائن قیادت کے ذریعے عام آدمی کو یہ باور کرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہے کہ ”ان“سے بات چیت اور معاملات طے ہوگئے ہیں یہی دعویدار تحریک انصاف بھی ہے اب کون سچا اور کون چکمہ دے رہا ہے یہ تو آنے والے انتخابات کے نتائج ہی بتا سکیں گے لیکن پیپلز پارٹی نے باقاعدہ طور پر کام شروع کردیا ہے اور ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر جنوبی پنجاب کی سیاست پر گرفت حاصل کرنے کیلئے تابڑ توڑ کوشش ہورہی ہے پیپلز پارٹی کے قائد اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری بھی ایک عرصہ دراز کے بعد کراچی اور اسلام آباد سے نکل کر لاہور پہنچ گئے تھے اور وہاں مسلم لیگ (ق)کی قیادت چوہدری پرویز الہی اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات میں کافی شکوے و شکایت کے بعد کچھ نہ کچھ معاملات سیدھے ہوئے ہیں جو اپر پنجاب کی حد تک ہوسکتے ہیں جس میں سابق وزیر اعظم پرویز اشرف ان کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں البتہ جنوبی پنجاب میں سیاسی رابطوں اور بارگینک کا اختیار سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کو سونپا گیا ہے اس ٹاسک کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مخدوم احمد محمود نے اپنی وراثتی زمین واقع پرانا شجاع آباد روڈ پر ایک بڑ ا فارم ہاؤس تعمیر کرلیا ہے جہاں وہ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔
واضع رہے کہ سید یوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد محمود حقیقی کزن ہیں اور اس مرتبہ مل کر جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک الگ بھونچال لانے کیلئے آمادہ ہیں کہ ہر دو سیاسی شخصیات ڈرائنگ روم سیاست کے ماہر تصور ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کا ادراک بھی ہے کہ جنوبی پنجاب کے سیاسی اشرافیہ اس پارٹی کے ساتھ دیا کرتی ہیں محض اقتدار ملنے کی توقع یا اشارہ ہو اب یہ انہیں کس طرح باور کراتے ہیں یہ تو جلد معلوم ہوجائے گا مگر یہاں پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے نائب صدر خواجہ رضوان عالم کا یہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں معرض وجود میں آنے والا جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ اپنی آواز اور اہمیت کھو بیٹھا ہے اور جس نقطے پر ان کا اتحاد ہوا تھا وہ اب تک پورا نہیں ہوپایا لہذا اب اس محاذ کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے البتہ پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کو سیکرٹریٹ نہیں بلکہ الگ صوبے کا تشخص دینے کے دعوے پر آج بھی قائم ہے اور اسے پورا کرے گی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنوبی پنجاب کی اہم سیاسی شخصیات نے نہ صرف آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے بلکہ پارٹی میں شمولیت کا عندیہ بھی دیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔یہ کس حد تک درست ہے آنے والا وقت اس بارے حقائق لے آئے گا مگر ایک بات بڑی اہم ہے کہ ہر مرتبہ جنوبی پنجاب کے سیاست دان ہی کیوں اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا آسان شکار ہوتے ہیں اور اس کے عوض آج تک اپنے علاقوں میں بنیادی سہولتوں اور انفراسٹریکچر حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں سوشل میڈیا کے اس دور میں انہیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ وہ کیوں اور کن کہنے پر اپنے ووٹرز کے مینڈیٹ سے رو گردانی کرتے ہیں۔
دوسری طرف اگلے مالی سال کیلئے جنوبی پنجاب کیلئے مختص بجٹ کو خرچ کرنے اور ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جو حکم دیا ہے اس کے مطابق 31جولائی سے قبل تمام ترقیاتی سکیموں کی سفارشات بمعہ ٹیکینکل پلان مکمل کیا جائے تاکہ ان پر جلد از جلد کام شروع کئے جاسکیں۔اب سوال یہ ہے کہ جو سکیمیں محض ایک ماہ میں ترتیب پائیں گی ان کی تکینکی اہمیت کیا ہوگی اگر تعمیر ہوں گی تو ان کا معیار کیا ہوگا؟یا پھر ماضی کی طرح محض بجٹ کو ”ٹھکانے“لگانے منصوبہ بن رہا ہے،قبل ازیں بھی جلد بازی میں بننے والی میٹرو بنیادی ڈھانچہ سیوریج لائنوں کے بند ہونے سے سخت ترین خطرے میں ہے کیونکہ میٹرو روٹ کیلئے بنائے بھاری پلرز میں سیوریج پائپ لائن کو نظر انداز کرکے بنا دئیے گئے اب شہر کا ایک بڑا حصہ سیوریج کے پانی میں گھرا ہوا ہے اور شنید ہے کہ اوپر سے گزرنے والے میٹرو روٹ کے کچھ پلرز جگہ جگہ سے اندر کی طرف دھنس رہے ہیں جو شہر کیلئے انتہائی خطرناک صورت حال ہے کہ مون سون میں بارشیں معمول سے زیادہ متوقع ہیں تقریبا 30ارب روپے سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ دراصل ابھی تک نامکمل ہے اور شہر کیلئے کسی بھی وقت عذاب ہوسکتا ہے لیکن تبدیلی سرکار آج تک اس کے ذمہ داروں کو نہیں پکڑ سکی جن کے مقدمات نیب اور اینٹی کرپشن میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں اب اس کا کیا بنے گا اس بارے میں راوی ماضی کی طرح خاموش ہی ہے البتہ مختص ہونے والے بجٹ کو صیحح طریقے سے خرچ کیلئے پلاننگ بہت ضروری ہے چاہے اس میں کچھ دیر ہی کیوں نہ ہوجائے۔جنوبی پنجاب میں کپاس ایک اہم اور نقد آور فصل تھی لیکن”کاریگروں“ نے بوجوہ اس کا حشر کردیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ کپاس جیسا سنہر ی ریشہ پیدا کرنے والے کسان آج گنے اور دوسری فصلوں کی طرف منتقل ہوچکے ہیں جس میں بنیادی کردار زرعی ادویات اور بیج کا کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا یہ ایک بڑی کہانی ہے مختصر یہ کہ اس مرتبہ جنوبی پنجاب میں تعینات ہونے والے سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل نے اس حوالے سے بڑی سمجھ اور بوجھ کے ساتھ ہر کام کیا پہلے تو گندم اور کپاس کی کاشت اور برداشت کا کلینڈر بنایا اور اس کے بعد بہت سے ایسے اقدامات کئے جس سے عام کسان کو اعتماد حاصل ہو جس کی تفصیل پھر سہی مگر اب انہوں نے جو حکم نامہ ڈائریکٹر جنرل سے کروایا ہے ہے کہ آئند کوئی زرعی دوائی بغیر کیش میمو کے فروخت نہیں ہوگی کسان کا نام،رابطہ نمبر سمیت زرعی دوائی کا نام اور کس مقصد کیلئے خریدی تحریر کرنا ہوگا۔زرعی ادویات بیچنے والے ڈیلر کو کسان کا تمام ریکارڈ رکھنا ہوگا کہ وہ کس جگہ اور کون سی فصل پر یہ دوائی استعمال کرے گا اور کیا یہ دوائی اس مقصد کیلئے ہے بغیر وجہ کے ادویات استعمال یا سپرے کرنے سے منع کردیا گیا ہے یہ تمام فصلوں پر موثر ہوگا خصوصا کپاس اور چاول کی فصل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے،یہ ایک ایسا کام ہے جو پہلی مرتبہ ہوا ہے اس سے جعلی زرعی ادویات کا خاتمہ اور دو نمبر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے ساتھ کاشتکار کو حوصلہ اور فصل پر اٹھنے والے اخراجات میں واضع کمی اور فی ایکڑ زیادہ فصل ہوگی۔
فیس بک کمینٹ

