کہتے ہیں کہ احسان فراموش کا پہلا شکار اس کا محسن ہی ہوتا ہے۔ ایک کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک بھیڑیا شکاریوں کے نرغے میں تھا کہ بھاگ نکلا، ایک مسافر کا وہاں سے گزر ہوا، بھیڑیئے نے مسافر سے التجا کی کہ وہ اس کی جان بچالے تو وہ ساری زندگی اس کا ممنون رہے گا۔ مسافر نے اسے اپنے سامان کی بوری میں چھپا لیا ، جب شکاری گزر گئے تو اس نے اسے باہر نکال دیا ، بھیڑیا جیسے ہی بوری سے باہر آیا مسافر کو کھانے کی تیاری کرنے لگا۔ مسافر نے کہا کہ ارے میاں بھیڑیئے میں نے تو آپ کی جان بچائی ہے ، تو بھیڑیا بولا کہ میں تو اپنی فطرت سے مجبور ہوں، محسن سے وفا کرنا میرے لئے ممکن نہیں ہے ۔
خیر کہانی کافی طویل ہے مگر ہمار ا مقصد یہاں تک کے بیان سے ہی پورا ہو رہا ہے۔
قصہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے جذبہ انسانی ہمدردی و خیر سگالی خوراک کی بدترین قلت کے شکار افغانستان کو خوراک سے بھرے کنٹینر ز بھیجے تاکہ افغانوں کو کچھ آسودگی حاصل ہوسکے، ابھی باقی دنیا صرف زبانی جمع خرچ میں ہی مصروف تھی کہ پاکستان نے عملی طور پر ان کی مدد بھی کردی، مگر لوگوں پر حیرت کے پہاڑ اس وقت ٹوٹ پڑے جب افغان طالبان نے ان ٹرکس پر سے پاکستانی جھنڈے انتہائی نفرت و حقارت سے نہ صرف نوچ لئے بلکہ اللہ اکبر کے ایسے نعرے لگائے جیسے انہوں نے امدادی ٹرک پر سے محسن ملک کا جھنڈا نہیں نوچا بلکہ امریکہ فتح کرلیا ہو۔ ساتھ ساتھ شرمناک نفرت انگیز جملے بھی سنے جا سکتے ہیں کہ اس جھنڈے کو جلا دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ ویڈیو کلپ میں با آسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ جھنڈا اتارنے کے بعد وہاں موجود افغان طالبان اور عام شہری ایسے خوشیاں منا رہے ہیں جیسے انہوں نے پاکستان کا نہیں کسی دشمن ملک کا جھنڈا اتارا ہے۔ ان کا یہ طرزعمل افغان طالبان اور عوام کے دلوں میں پاکستان کیلئے چھپے بغض، عناد اور نفرت کو ظاہر کرتا۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک اور گھٹیا حرکت تھی جو افغانوں کے من حیث القوم پاکستان کیلئے جذبات و احساسات کی آئینہ دار تھی۔
ظاہر ہے افغان طالبان نے یہ حرکت اپنے نام نہاد آقاؤں بھارت، ایران اور امریکہ کو خوش کرنے کیلئے کی ہے، مگر اس بد اخلاقی سے تمام پاکستانیوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ بیس سال مسلسل افغانستان کی غیر مشروط مدد و حمایت کی ہے اور افغان جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، اور خود دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، 80 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا ہے، امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی محالفتیں مول لیں، بھارت کی مکاری سہی ، مگر اس کے صلہ میں پاکستان کو افغانستان کی جانب سے ہمیشہ مخالفت و دشمنی ہی ملی ہے۔ افغانستان ہمیشہ بھارت، ایران اور امریکہ کا پٹھو بن کر ان کے مفادات کے حصول کیلئے مقامی اور بین القوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا رہا ہے۔ افغان حکمران دو دہایئیوں سے پاکستان مخالف بیان کے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
امریکی فوج کے انخلاء کے بعد طالبان کے پاور میں آتے ہی افغانستان زبردست بد نظمی کا شکار ہے ، اور ایک عجیب بے یقینی کی کیفیت ہر طرف طاری ہے، ملک بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں جن میں برھ چڑھ کر پاکستان مخالف اور نفر ت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستانی قونصلیٹ کا گھیراؤکرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ جاری ہے، مگر امر استعجاب یہ ہے کہ ایران میں بھی پاکستانی سفارتخانے کے سامنے پاکستان مخالف مظاہرے کئے گئے جن میں پاکستان اور ISI کو برا بھلا کہا گیا۔ اگر ہم غور کریں تو پائیں گے کہ دہشت گردی اور بم دھماکوں میں ملوث کل بھوشن یادیو جو کہ ایک انڈین جاسوس ہے ایران کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ یہ تمام عوامل اس بات کی جانب نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ میں پاکستان کا کون دوست ہے اور کون دشمن۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ افغان اتنے احسان فراموش ہیں کہ اپنے برادر اسلامی پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں وہ بھی بھارت جیسے دشمن کے ساتھ مل کر، اس پورے قضئے میں ایران کا رویہ پاکستان کے حق میں نہایت ہی دوغلا اور منافقانہ رہا ہے۔
پاکستان وہ ملک ہے جس نے ہمیشہ ہی افغانستان کی دامے ، درمے، سخنے مدد کی ہے اور ایک بہترین ہمسایہ ہونے کا حق ادا کردیا ہے مگر عاقبت نا اندیش افغان دشمنوں کے کاندھے سے کاندھا ملا کر اور ان کی آواز میں آواز ملا کر پاکستان مخالفت کا راگ الاپتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی اور عزت حاصل کرلے گا، تو وہ جان لیں کہ اپنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے کبھی بھی عزت و وقار حاصل نہیں کرسکتے ، میر جعفر و میر صادق اس کی زندہ مثال ہیں۔
ابھی افغانوں کو ایک طویل سفر طے کرنا ہے ، ملک کی ہر سطح پر بحالی rehabilitation ہونا ہے، خوراک، انتظام، مواصلات، تعلیم، نقل و حمل غرض یہ کہ افغانوں کو بیس سال کی خانہ جنگی کے ملک کو زندگی گزارنے کے لائق بنانے کیلئے شدید محنت کرنا ہوگی، اور پاکستان واحد وہ ملک ہے جو منافقت کے بغیر ان کی ہر شعبہ میں بطریق احسن مدد کرسکتا ہے جیسے کہ پہلے کرتا رہا ہے، لہذا انہیں ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنے اور پرائے کی تمیز کرنا چاہئے اور بھیڑ کی کھال میں چھپے بھیڑیوں کو پہچان لینا چاہئے۔
وقت پڑنے پر ہو ظاہر کون بیری کون میت۔
فیس بک کمینٹ

