ذوالفقار بھٹی ہے تو پرانا ملتانی لیکن اس سے میری ملاقات 1977 کے موسم سرما میں سعادت حسن منٹو نے کروائی تھی ۔ منٹو سے میرا تعلق تو سکول کے دنوں ہی سے قائم ہو گیا تھا جب ایک دن اس نے سکول کی لائبریری میں مجھے آنکھ مار کر اپنی طرف بلایا اور چپکے سے اپنی ایک کتاب "منٹو کے افسانے” میرے ہاتھ میں تھمادی۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا چسکا مڈل سکول کی کلاسوں سے ہی پڑگیا تھا لیکن میں ان دنوں الف لیلہ اور طلسم ہوشربا کے قصوں ، نسیم حجازی، ایم اسلم، قیسی رامپوری، رضیہ بٹ ، ابن صفی وغیرہ کے ناولوں کے علاوہ تاریخ اسلام اور مختلف مذہبی کتابوں کا بے حد حریص قاری بن چکا تھا علامہ اقبال کی قومی اور پاکیزہ شاعری ہمارے اساتذہ بہت توجہ سے ہمارے ذہن نشین کروایا کرتے تھے میر ،سودا، غالب، مومن و ذوق وغیرہ کی شاعری بھی اکرچہ نصاب میں شامل تھی لیکن اساتذہ حقیقت اور مجاز کے قصے لے بیٹھتے جو ان دنوں ہماری سمجھ سے بالکل ہی باہر ہوتے تھے اس لئے منٹو کے افسانے پڑھنے شروع کئے تو جسم وجاں میں عجیب نئی نویلی سی سنسنی دوڑنے لگتی ، ایک عجیب سی لذت لیکن افسانہ ختم ہوتے ہوتے اس کے اکثر کرداروں اور اور ان ماحول سے ایک عجیب سی کراہت ، بیگانگی اور ہمدردی سی بھی محسوس ہوتی۔۔۔ یہ پہلے کتاب تھی کہ گھر میں چھپا کر رکھنی پڑی کہ ابا حضور اٹھا کر نہ دیکھ لیں، حالانکہ وہ اسلامی کتب کے علاوہ کسی کتاب کو اٹھا کر،بھی نہ دیکھتے تھے۔۔۔
تھوڑے ہی عرصے میں منٹو کو پڑھتے ہوئے بےنام سی اس لذت اور سنسنی کا عنصر کم سے کمتر ہوتا چلا گیا اور منٹو مجھے اپنا ہم عمر اور رازدار دوست لگنے لگا جو چپکے چپکے اپنے مشاہدے، تجربے اور دل کی باتیں بے دھڑک میرے کانوں میں انڈیل دیا کرتا تھا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا اس کی بعض افسانے پڑھ کر میرے اندر اس کے بعض افسانوی کرداروں اور ان کے ماحول سے بے زاری اور بعض اوقات گھن اور کبھی ترس کا احساس بھی ضرور جاگتا جس کی اس وقت مجھے وجہ سمجھ میں نہ اتی تھی۔ ادب کا باقاعدہ طالب علم بننے کے بعد یہ باتیں کچھ نئے انداز میں سمجھ میں آنے لگیں تو منٹو سے دوستی اور زیادہ گہری اور پائیدار ہوتی چلی گئی اگرچہ میرے کئی اساتذہ اور دوست احباب ہماری اس دوستی کو کچھ پسند نہیں کرتے تھے لیکن ایسی دوستی شراب کی علت کی مانند ہوتی ہے کہ جس کے بارے میں استاد ذوق کہہ گیا ہے کہ
چھٹتی نہیں یہ کافر منہ سے لگی ہوئی
میں ان دنوں کچھ خود اپنے شوق اور کچھ یاروں کی ضد میں منٹو سے دوستی نبھانے کے چکر میں گھن چکر بنا ہوا تھا اور ان دنوں میرا زیادہ وقت اسی کی ہمراہی میں گزرا کرتا تھا اسی چکر میں ایک روز منٹو ہی کے توسط سے ہی ڈوالفقار بھٹی سے اس درویش کا آمنا سامنا ہوا تھا۔ منٹو صاحب کی صحبت میں میرے اندر ایک عجیب سی بات یہ پیدا ہو گئی تھی کہ سیدھے سبھاو زندگی کرنے والے سیدھے سادے لوگ میرے دل کو ہی نہیں لگتے تھے۔۔۔ پہلی ملاقات میں ذوالفقار بھٹی مجھے سیدھا سادہ دیہاتی بندہ لگا لیکن پھر بھی نا معلوم کیوں دل کو بھا گیا اور منٹو صاحب نے بھی اس کی طرف معنی خیز انداز میں دیکھتے ہوئے آنکھ مار کر کہا "اجھا ہے۔۔۔چلے گا!!” منٹو صاحب کی بھٹی کی حمایت کی وجہ بعدمیں سمجھ میں آئی۔
اب یاد کرتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ بھٹی میری زندگی میں منٹو کے افسانوں کے کرداروں کی سی سادہ بے ساختگی اور بے تکلفی سے در آیا تھا اور پھر جیسے میری ذات کا ایک لازمی جزو بن گیا بالکل ایسے ہی جیسے استاد منگو، بابو گوپی ناتھ ، ممد بھائی ، دودا پہلوان، خوشیا، ہا موذیل، سوگندھی، شاردا اور کلونت کور وغیرہ میرے وجود کا حصہ ہیں اور میں انہیں اپنے بہت سے دوستوں کی شخصیتوں سے زیادہ جاننے کا وہم رکھتا یوں۔
ہوا یہ تھا کہ میں ادب کا باقاعدہ طالب علم بننے کے بعد منٹو کو کچھ اور زیادہ جاننے کے چکر میں پڑ گیا تھا اور بزعم خویش ایک "محقق” بننے کی ٹھان لی تھی اور سعادت حسن کی اچھی طرح خبر لینے کیلئے منٹو پر ایم اے اردو کا مقالہ لکھنے کی ٹھان لی تھی پھر میں نے اپنے مقالے کے لئے مواد جمع کرنے اور منٹو کے فن کی تفہیم کی کوششوں میں سرگرداں ہوگیا (یہ 1977 کی گرمیوں کی بات ہے) ۔ اس سلسلے میں ملتان اور لاہور کی مختلف لائبریریوں کے چکر لگنےلگے اور منٹو صاحب کی ذات/ شخصیت اور فن کو جاننے اور اس کی تفہیم رکھنے والے لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہونے لگیں (اسی عرصے میں مجھے یاد پڑتا ہے کہ احمد ندیم قاسمی، احمد راہی ، صفدر میر، انتظارحسین، انور سجاد، مسعود اشعر، منو بھائی، کشور ناہید، مستنصر حسین تارڑ، یونس جاوید، رشید امجد،احمد داؤد، مرزا حامد بیگ اور اعجاز راہی وغیرہ سے بھی تعارف ہوا اور تفصیلی ملاقاتیں رہیں اور ان میں کسی نے منٹو کی شخصیت اور کسی نے اس کے فنی مقام و مرتبے کے بارے دل کھول کر اپنی اپنی اپنی شناسائی اور آگہی کے راز کھولے مجھے اچھا لگا کہ سبھی منٹو کے بارے بڑی اپنائیت سے بات کرتے تھے) ۔
ملتان کے اکثر ادیبوں سے تعارف و تعلق خاطر تو پہلے ہی تھا لیکن اب میں منٹو کو اپنے ساتھ لئے پھرتا تھا جس سے خود یہ لوگ مجھے نئے انداز میں سمجھ میں آرہے تھے اور ان سے تعلق کے نئے انداز پیدا ہورہے تھے۔ اس لئے ان دنوں مجھےجو بھی ملتا چھوٹتے ہی منٹو کے فن سے اپنے تعارف اور لگاو یا بےزاری (ایسے لوگ خال خال تھے) کا اظیار کرتا۔۔۔ اس طرح کے ٹاکروں کی ایک الگ دلچسپ کہانی ہے ۔۔۔
ان دنوں ایک بڑا مسئلہ اس کے بارے میں تحقیقی و تنقیدی مواد کی فراہمی کا بھی تھا خود منٹو کی اپنی کتابیں اس قدر آسانی سے میسر نہیں تھیں اس لئے مجھے لالچ ہوتی کہ شاید کوئی کتاب یا مضمون ، کوئی حوالہ کہیں سے مل جائے اس لئے ان،دنوں میری خوش اخلاقی ، انکساری اور برداشت میں بہت کافی اضافہ ہو گیا تھا ۔ میرے
حلقہءاحباب میں جتنا اضافہ ان دنوں ہو پھر شاید ہی کبھی ہوا ہو۔
ان ملاقاتوں میں ایک یادگار ملاقات پروفیسر لطیف الزماں کے ساتھ یوں ہوئی کہ ان کی نجی لائبریری کی شہرت مجھے کھینچ کر ان کے پاس لے گئی ان سے اگرچہ مجھے کئی کم یاب کتابیں ضرور ملیں لیکن انہوں نے میرے شوق کا جس طرح امتحان لیا اس کی داستان الگ ہے جس کا تذکرہ کبھی ہوگا مرحوم کیا وضعدار اور دلچسپ انسان، تھے رب مغفرت کرے۔۔۔
اس دور کی سب سے اہم سوغات ذوالفقار علی بھٹی کی ذات ہے جس کیلئے میں منٹو صاحب کا شکرگزار ہوں
(جاری ہے)
فیس بک کمینٹ

