کرکٹ کیلئے مشہور ہے کہ کرکٹ بائے چانس Cricket by chance یعنی کرکٹ کے کھیل میں اتفاقات بہت ہیں اور اچھے سے اچھا کھلاڑی بھی اگر فارم میں نہ ہو تو اچھی کارکردگی دکھانے سے قاصر ہو جا تا ہے۔ اسی طرح اور دوسرے عوامل بھی کھلاڑی کی کارکردگی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ بڑے بڑے تجربہ کار اور نامی گرامی کھلاڑیوں پر بھی کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آیا ہوتا ہے کہ ان کی کارکردگی ویسی نہیں ہو پاتی جس کیلئے وہ مشہور ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ذہنی دباؤ، میچ پریشر یا اور بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کھلاڑی جان بوجھ کر خراب کاردگی دکھائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کھلاڑی تفسیاتی طورپر بہت ہی کھرے اور ایماندار ہوتے ہیں ساتھ ساتھ وہ بہت جذباتی بھی ہوتے ہیں، کیونکہ یہ بھی فنکاروں اور تخلیق کاروں کے قبیلہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے لاکھوں مداحوں کے سامنے خود کو رسوا کرلیں۔ ان کی عزت نفس اور ان کے ملک کا وقار ہی ان کے لئے سب کچھ ہوتا ہے۔ ایسا لاکھوں میں ایک بار ہی ہو پاتا ہے جب کھلاڑی غلط ہاتھوں میں جا پھنسیں۔ ورنہ ننانوے فیصد کھلاڑی ایماندار اور سادہ طبیعت کے ہوتے ہیں۔
پاکستانی ٹیم نے حال ہی میں منعقدہ T-20 ورلڈ کپ بہت خوب کھیلا، اور تمام کھلاڑیوں نے بڑی محنت کی جس کی مثال وہ سارے میچز ہیں جو سیمی فائنل تک کھیلے گئے۔ ہر کھلاڑی نے جان ماری اور نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ مگر ہمیں اس بات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہئے کہ صرف ہم ہی نہیں دوسرے بھی پروفیشنل کھلاڑی ہیں اور پوری تیاری سے میدان میں اتر رہے ہیں۔ ہم من حیث القوم کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور کرکٹ کو لے کر اتنے جذباتی ہیں کہ کسی امکانی غلطی کو بھی معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
ایسا ہی حادثہ اس وقت ہوا جب پاکستان سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے ہار کر مقابلہ کی دوڑ سے باہر ہوگیا، بلاشبہ جو لوگ پاکستانی ٹیم کو ٹرافی اٹھاتے دیکھنے کی امید کو یقین میں بدل چکے تھے ان کے لئے یہ ایک بڑا نفسیاتی دھچکہ تھا، ایسے میں بیچارے حسن علی سے آسٹریلیا کے وکٹ کیپر بیٹسمین میتھیو ویڈ Matthew Wade کا کیچ گر گیا، بس پھر کیا تھا ساری توپوں کا رخ اس پیارے سے کھلاڑی کی جانب ہوگیا، لوگوں نے دل بھر کر تنقید کی بھڑاس نکالی مگر یہ محض اتفاق تھا اور کرکٹ کے کھیل کی بے یقینی کیفیت کا ایک انوکھا نظارہ کہ کیچ گر گیا، کیونکہ حقائق گواہ ہیں کہ حسن علی وہ کھلاڑی ہے جو اکیلا گیم چینجر Match Winning Player ہے جس کا ثبوت وہ بارہا پہلے بھی دے چکا ہے اور اس کے بعد پھر بنگلہ دیش کے ٹور میں مین آف دی میچ کی ٹرافی اٹھا کر ایک بار پھر ثابت کردیا کہ یہ وہی حسن علی ہے جو صرف اپنے ملک کیلئے کھیلتا ہے اور جس کے لئے پاکستان کی عزت و وقار اس کی جان سے بھی بڑھ کر ہے۔
حسن علی منڈی بہاء الدین میں پیدا ہوا اور اگست 2016 میں اس نے پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا بین القوامی میچ کھیلا، یہ کھلاڑی کمال صلاحیتوں کا حامل ہے کیونکہ اگلے ہی سال یعنی 2017 میں چیمپئن ٹرافی کیلئے ان کو ٹیم میں منتخب کرلیا گیا۔ پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ جیت لیا اور حسن علی کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا انہوں نے تیرہ وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا اور ایک روزہ میچز میں تیز ترین پچاس وکٹیں لینے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔
حسن علی نے جمعہ کے دن ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں 219 کلو میٹرز فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ترین بال کرا کر سب کو حیران کردیا اور یہ ثابت بھی کردیا کہ وہ ایک نہایت ہی ہونہار و با صلاحیت کھلاڑی ہے۔ قطع نظر تیز رفتاری کے اس میچ میں حسن علی نے نہایت ہی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنی بے مثال کارکردگی سے ناقدین کے منہ بند کردیئے۔ انہوں نے اس میچ میں 22 رنز کے عوض چار اوورز میں تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پاکستان جیت میں اہم کردار ادا کیا، ساتھ ساتھ مین آف دی میچ بھی قرار پائے۔
اس پورے تذکرے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ لوگ تنقید ضرور کریں مگر اس کی ایک حد ہونا چاہئے، فنکار و کھلاڑی بہت ہی حساس طبیعت کے ہوتے ہیں، یہ بڑے ذود رنج ہوتے ہیں، تب ہی تو وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ دنیا سے کچھ الگ کر کے دکھا رہے ہوتے ہیں، یہ حساس لوگ ہمارے جیسے ہی انسان ہوتے ہیں ہنستے ہیں روتے ہیں، اداس ہوتے ہیں اور روٹھ جاتے ہیں، ہمیں اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ ان کی عزت نفس پر ضرب نہ لگنے پائے، ان کا دل نہ ٹوٹنے پائے، ورنہ یہ کسی پھول کی طرح مرجھا جائیں گے اور پھر وہ کارنامہ جن کی امید ہم ان سے لگائے بیٹھے ہوتے ہیں نہیں سرانجام دے پائیں گے۔ اس کا اندازہ پاکستانی کپتان کے ڈریسنگ روم کی بریفنگ سے لگایا جا سکتا ہے، کپتان بابر اعظم نے اپنی عمر سے کہیں بڑی اور تدبر والی گفتگو کی جس کے نتیجہ میں حسن علی اگلے میچ کے لئے کھڑے ہو پائے اور اتنی اعلی کارکردگی بھی دکھا سکے۔ اگر کپتان یہ اعتمار بھری تھپکی نہ دیتے تو شاید حسن علی کے اعتماد اور جوش کا لیول یہ نہ ہوتا جو جمعہ کے میچ کے دوران لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور محسوس کیا۔
یہ کھلاری ہمارا قومی اثاثہ ہیں ہمیں اپنے رویوں میں اعتدال لانا چاہئے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آخر کار یہ بھی انسان ہی ہیں اور کرکٹ میں امکانی غلطی Cricket by chance کو ہمیشہ ہی سامنے رکھ کر اپنے تاثرات اور بیانات دینے چاہئیں۔ تاکہ کھلاڑیوں کی عذت نفس مجروح نہ ہو اور وہ اپنے ملک کیلئے اچھے سے اچھی کارکردگی دکھانے کیلئے خوب محنت و لگن سے کھیل سکیں۔
فیس بک کمینٹ

