ادبرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کااختصاریہ : ملتان لٹریری فیسٹیول اور اہل ملتان

برادرم علی نقوی نے پہلا ادبی میلہ کرایا تو میں اس میں شریک نہ ہو سکا ۔۔ میں ہی نہیں بہت سے لوگ اس میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔ گمان تھا کہ شاید یہ کسی میڈیا گروپ کا میلہ ہے ۔ گزشتہ برس دوسرا میلہ ہوا تو علی نے مجھے ایک سیشن کی نظامت سونپ کر میرے فرار کی راہیں مسدود کر دیں ۔ اور اس مرتبہ تو خیر ہم خود اس کا حصہ بن گئے اور ملتان لٹریری فیسٹیول نے وہ دھوم مچائی کہ ہر طرف ملتان اور اس کے میلے کا تذکرہ تھا ۔۔
یہ میلہ ہمارا ایک خواب تھا جسے تعبیر علی نقوی نے دی ہے ۔ میلہ ادبی تو خیر تھا ہی لیکن ترقی پسندی کا جو ر نگ اس میں نمایاں ہوا وہ باعث اطمینان ہے لیکن اس میلے میں تمام تر کامیابیوں کے باوجود ابھی بہتری کی بہت سی گنجائش موجود ہے ۔ جنون اپنی جگہ لیکن کچھ معاملات سکون کے بھی متقاضی ہوتے ہیں ۔ اب جب کہ میلہ ختم ہو چکا ، ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ میلہ میڈیا پر اس طرح نمایاں کیوں نہیں ہو سکا جیسے لاہور ، کراچی اور اسلام آباد کے فیسٹیول ہوتے ہیں ۔
اس میلے سے بہت سی ایسی خبریں نکل سکتی تھیں جو ملکی سطح پر دلچسپی سے دیکھی اور سنی جاتیں ۔ خاص طور پر جاوید ہاشمی ، علی حیدر گیلانی ، وسعت اللہ خان اور محمد حنیف جیسے سٹارز میڈیا کی توجہ ضرور حاصل کرسکتے تھے اگر اس جانب مناسب توجہ دی جاتی ۔
ایک بات یہ بھی غور طلب ہے کہ اہل ملتان اس میلے کی جانب اس طرح متوجہ کیوں نہیں ہوئے جیسے لاہور ، کراچی اور اسلام آباد والے ہوتے ہیں ۔ یا تو اس کی تشہیر ویسے نہیں ہوئی جیسے ہونا چاہیے تھی یا پھر ملتان والوں کو اس میلے کی ضرورت ہی نہیں ، بالکل اسی طرح جیسے ملتان میں ٹی ہاؤس کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن ہم نے بنوا دیا ۔
اس تحریر کا مقصد علی نقوی کو مایوس کرنا بھی نہیں لیکن مبارک باد کے باوجود کچھ باتوں پر توجہ دینا بہر حال ضروری ہے ۔
اگلے برس کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا بہت اچھی بات ہے لیکن اگلے برس سیشن اگر دو تین مقامات پر پھیلا دئے جائیں تو زیادہ خوبصورتی پیدا ہو گی اور ایک ہی جگہ پر جو” گھڑمس “ کی صورت بنی اور اگلے سیشن کے لیے پہلے والے سیشن کو جس طرح جلد سمیٹنا پڑا اس صورت حال سے بھی بچا جا سکے گا ۔ ۔۔
آخر میں علی نقوی کے لیے ایک مشورہ کہ اسے میلہ کا کریڈٹ ضرور لینا چاہیے اور بلا وجہ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اسے ٹیم ورک قرار نہیں دینا چاہیے ۔ ٹیم ہمیشہ دکھاوے کی ہوتی ہے کام تو بس ایک ہی جنونی کو کرنا ہوتا ہے اور مجھے معلوم ہےعلی جنونی ہے ۔۔۔۔علی نقوی کی صحت اور سلامتی کے لیے دعائیں اور برادرم اختر علی سید اور ڈاکٹر مقبول گیلانی کو بھی کامیاب میلے پر دلی مبارک باد کہ علی نقوی کو ان کی رہنمائی بہر حال درکار ہوتی ہے ۔۔
رضی الدین رضی
انیس نومبر دو ہزار اکیس

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker