کبھی کبھی مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مسلمان ممالک کا مسئلہ آخر ہے کیا؟ انتہائی کوششوں کے باوجود بھی یہ ملک مغربی دنیا سے پیچھے کیوں ہیں ؟ اِن ملکوں میں ترقی کا وہ ماڈل کیوں نہیں پنپ سکا جویورپ اور امریکہ میں کامیابی سے رائج ہے؟ حالانکہ یورپی یونین کی طرح مسلمان ملکوں نے بھی اپنا اتحاد بنا رکھا ہے ،تیل اور معدنیات کے ذخائر اِن کے پاس ہیں ،تعلیم پر بھی اب اِن کی خاص توجہ ہے ،جدیدیت کی طرف بھی مائل ہیں ، پھر کیا وجہ ہے کہ بات بن نہیں پا رہی !او آئی سی ۱۹۶۹ میں قائم ہوئی تھی ، اقوام متحدہ کے بعد یہ سب سے بڑی عالمی تنظیم ہے جس میں ستاون مسلم ملک شامل ہیں جن کا جی ڈی پی اٹھائیس ٹریلین ڈالر ہے ۔اِس کے مقابلے میں یورپی یونین ۱۹۹۳ میں بنی ، ستائیس ممالک اِس کے رکن ہیں اور اِس اتحادکا جی ڈی پی سترہ ٹریلین ڈالر ہے۔اسی طرح ’تیل اور معدنیا ت کی دولت سے مالا مال‘ والا سبق تو ہم نے طوطے کی طرح سکول سے رٹا ہوا ہے ، مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ تعلیم پر بھی مسلم ممالک خاصے وسائل استعمال کر رہے ہیں ، قطر نے تو دنیا کی بہترین جامعات کے کیمپس اپنے ملک میں قائم کر دیے ہیں جہاں ذہین طلبا کو وظائف بھی دیے جاتے ہیں، شاہ عبد اللہ سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی دنیا کی پہلی پانچ سو جامعات میں سے ایک ہے ۔رہی بات جدیدت کی تو سعودی عرب جیسے ملک میں سنیما گھر کھل رہے ہیں ، ترکی ، انڈونیشیا، ملائشیا اور دبئی تو خیر اِس سے کہیں آگے ہیں ۔ پھر مسئلہ آخر ہے کہاں ؟
ایک توجیہہ تو یہ دی جا سکتی ہے کہ مغرب کو اِس مقام تک پہنچنے میں لگ بھگ چار سو سال لگے ، نشاة ثانیہ کا آغاز ہوا، صنعتی انقلاب آیا ،رومانویت اور سیکولرازم کی تحریکیں پروان چڑھیں ، بادشاہ سے اقتدار چھین کر عوام کو حاکم بنایا گیا ، جنگیں لڑی گئیں ،کروڑوں لوگ مارے گئے اور پھر کہیں جا کر یورپ حکمرانی کا وہ ماڈل بنانے کے قابل ہوا جس پر پوری دنیا آج رشک کرتی ہے ۔ چاہے ہمیں یہ بات پسند آئے یا نہ آئے مگر حقیقت یہی ہے کہ مسلمان یورپ میں خود کو آزاد اور محفوظ تصور کرتے ہیں اوروہاں جا کر رہنا پسند کرتے ہیں ۔ گو کہ مغرب کی معاشرت اور طرز زندگی مسلمانوں کے مذہب ،اقدار اور خاندانی روایات سے ہم آہنگ نہیں ، اِس کے باوجود بے حد مذہبی رجحانات رکھنے والے گھرانے بھی موقع ملنے پر اپنی بہو بیٹیوں سمیت وہاں منتقل ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہ بات درست ہے کہ مسلمان ممالک کو ابھی چار سو سال نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اپنے ممالک میں انقلابات برپا کرنے کے لیے یورپ کی طرح جدو جہد کی ہے مگر یورپ کے برعکس مسلم ممالک کے سامنے ایک ماڈل پہلے سے موجود ہےاِس لیے ضروری نہیں کہ مسلمانوں کو بھی چار سو سال ہی لگیں اور وہ آپس میں جنگ و جدل کرکے کروڑوں لوگوں کا خون بہائیں ۔ بظاہرمسلم ممالک فلاحی ریاست کے اُس ماڈل کو اپنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں مگر کامیاب نہیں ہو پارہے ۔ آخر اِس کی کیا وجہ ہے ؟
اِس کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے اور وہ ہے عدم جمہوریت ۔’فریڈم ہاؤس‘ امریکہ کی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، اس کی تحقیق کے مطابق دنیا کے جن ممالک کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ ہے وہاں انتخابی جمہوریتوں کا تناسب چھپن فیصد ہے جبکہ مسلم ممالک میں یہ تناسب صرف بیس فیصد ہے ۔ اگر ہم ایک سے سات تک کے پیمانے پر جمہوریت کو ماپیں (جس میں ایک بہترین جمہوریت اور سات بد ترین ہو) تودنیا کے ممالک کی جمہوری اوسط ساڑھے تین بنتی ہے جو مسلمان ممالک کی اوسط سے کہیں بہتر ہے جو پانچ بنتی ہے ۔ ۲۰۲۱ میں امریکی جریدے ٹائم نے ایک اشاریہ مرتب کیا جس میں دنیا کے تمام ممالک کی طرز حکمرانی کی پڑتال کرکے بہترین اور بدترین جمہوری ممالک اور آمرانہ اور استبدادی ریاستوں کی فہرست تیار کی ۔یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اِس فہرست میں بہترین جمہوری ملکوں کے درجے میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ۔پہلا مسلم ملک جو اس فہرست میں شامل ہے وہ ملائشیا ہے جو انتالیسویں نمبر پر ہے اور اسے بھی ’ناقص جمہوریت‘ کے درجے میں ڈالا گیاہے۔اور یہ بات بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ انسٹھ استبدادی ممالک کی فہرست میں مسلم ملک آگے پیچھے جگ مگ کر رہے ہیں ۔اب اگر ہم اِس مفروضے کو درست مان لیں کہ جمہوریت کی وجہ سے مسلم ممالک تنزلی کا شکار ہیں تو پھر چین ہمارے سامنے ایک دیو کی طرح کھڑا ہو جاتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ اگر جمہوریت ہی ترقی کی ضامن ہے تو پھر مجھے کس خانے میں فِٹ کرو گے ؟یہیں سے وہ بحث جنم لیتی ہے جس کا آج تک کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا کہ فرد کی آزادی زیادہ ضروری ہے یا اُس کی خوشحالی ۔یہ بالکل ویسی ہی بحث ہے کہ ادب برائے ادب ہونا چاہیے یا اُس میں مقصدیت بھی ضروری ہے ۔کسی بھی نظام حکومت کو اگراِس کسوٹی پر پرکھا جائے کہ عوام کی اکثریت کس قدر خوشحال ہے تو کیا یہ بات کافی ہوگی ؟ خوشحالی کی تعریف کیا ہے ؟ کیا اِس سے مراد محض مالی آسودگی ہے ؟ اگر کسی ریاست میں اکثریت آسودہ حال ہو جائے تو کیا اُس ریاست کواپنے شہریوں کے خلاف استبدادی ہتھکنڈے آزمانےکا جواز مل ہو جاتا ہے ؟ ایک ایسا ملک جو معاشی ترقی کے ریکارڈ توڑ رہا ہو،جہاں لاکھوں لوگ وہاں غربت کی لکیر سے باہر نکالے جا چکے ہوں ،جہاں مڈل کلاس خوشحال ہو اور دنیا اُس ملک کی ترقی کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہو، اُسی ملک میں اگرشہری آزادیوں پر پابندی ہو، آزاد میڈیا کا تصور نہ ہو، انٹر نیٹ کنٹرول کیا جاتا ہو ، یک جماعتی سیاسی نظام ہو، قانون سب پر یکساں لاگو نہ ہوتا ہو، عدالتیں بھی حکومت کی مرضی اور منشا سے فیصلے سنانے پر مجبور ہوں،آزاد ٹریڈ یونین نہ ہوں،اقلیتوں کے لیے زمین تنگ ہو، ریاست تشدد کا بے محابہ استعمال کرتی ہو اور ملک کا سب سے امیر شخص بھی غائب کر دیا جاتا ہو،تو کیا ایک آزاد انسان ایسے ملک میں رہنے کو ترجیح دے گا یا وہ اُس ملک میں ہجرت کرنا پسند کرے گا جہاں اسے دو روٹیاں کم مل جائیں مگر یہ خوف نہ ہو کہ اٹھا لیا جائے گا!
ہم اپنے بنیادی سوال پر واپس آتے ہیں ۔ مسلمان ممالک کے پاس دو راستے ہیں ۔ ایک تو وہی جس پر وہ گامزن ہیں اور دوسرا وہ جو ترقی یافتہ مغربی ممالک نے اپنایا۔دوسرا راستہ اپنانے کے لیے ضروری ہے کہ گاڑی جمہوریت کی موٹر وے پر ڈالی جائے ۔یہ بنیادی شرط ہے ۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ اپنی رفتارتو ایک سو بیس کلومیٹر رکھنا چاہتے ہیں مگر راستہ وہ چُن لیں جہاں گاڑی چالیس سے اوپر نہ جا سکے۔مسلم ممالک کا مسئلہ یہ ہےکہ وہ یونیورسٹیاں تو بنا رہے ہیں مگر سوچنے کی آزادی نہیں دے رہے۔نشاة ثانیہ کا اصل ثمر وہ آزادی تھی جس پر یورپ آج بھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔مسلم ممالک کی بد قسمتی یہ ہے کہ نہ وہ چین کا ماڈل اپنا سکے اور نہ یورپ کا۔رہا اپنا اسلامی ماڈل ، اُس کی تو ہم تشکیل ہی نہیں کر پائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کے جدید دور میں گورننس کا اسلامی ماڈل تشکیل دیا جا سکتا ہے ، کیا ماضی میں اِس کی سنجیدہ کوشش کی گئی اورکیا یہ کوشش کامیاب ہوئی ؟ اِن سوالات کا جواب پھر کبھی!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

