ملک میں سیاسی تبدیلیاں ہونے لگیں لیکن عام آدمی کے مسائل کی کسی کو فکر نہیں. جنوبی پنجاب کی عوام کا مہنگائی اور انصاف کے بعد اہم مسئلہ الگ صوبہ ہے جس کا مطالبہ عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔ عام انتخابات 2018 میں تحریک انصاف تو منشور میں شامل ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنا سکی۔ اور اپنے اقتدار کے دوران ملبہ عددی اکثریت نہ ہونے اور دیگر سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسبی پر ڈالتی رہی۔۔ لیکن اس سے قبل بھی جنوبی پنجاب کی عوام کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے پاس سال 2008 سے 2013 تک مرکز میں حکومت رہی۔ وزیراعظم بھی ملتان سے تھے لیکن جنوبی پنجاب صوبہ صرف دعووں تک ہی بنتا رہا۔ اور روایتی سیاسی بیانات ہی سامنے آتے رہے کہ مسلم لیگ تعاون نہیں کررہی ۔سال 2013 سے 2018 تک مسلم لیگ ن مرکز اور پنجاب میں براجمان رہی لیکن جنوبی پنجاب صوبے کے معاملے پر سنجیدہ نہ ہوئی اور معاملہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ سیاسی داؤ پیچ ایسے کھیلے گئے کہ پہلے ایک صوبے کی بات ہورہی تھی تو مسلم لیگ ن نے بہاولپور سے دوسرے صوبے کی آواز کھڑی کرکے معاملہ دانستہ کھٹائی میں ڈال دیا۔ تاکہ متحد آواز کو توڑ دیا جائے۔ سال 2018 سے اپریل 2022 تک تحریک انصاف مرکز اور پنجاب میں براجمان رہی لیکن معاملہ جنوبی پنجاب کے دو سیکرٹریٹ اور چند ایک افسران کی بے اختیار تعیناتیوں سے آگے نہ بڑھ پایا۔ اور جب بھی سوال ہوا تو ایک ہی جواب ملا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتیں اس معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں.
اپریل 2022 سے اب مسلم لیگ ن مرکز میں اپنی حکومت بنا چکی ہے جبکہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ ن حکومت بنانے کو تیار ہے.
مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور دیگر تمام جماعتیں مرکز اور پنجاب میں مل کر حکومت بنا رہے ہیں تحریک انصاف استعفے دیکر اسمبلیوں سے باہر ہوچکی ہے ۔ اب نہ تو پیپلز پارٹی کے پاس جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنانے کے حوالے سے کوئی جواز موجود ہے اور نہ ہی مسلم لیگ ن کے پاس. امید یہی ہے کہ اگلے دو تین ماہ کے اندر قانونی و آئینی تقاضے پورے کرکے تمام جماعتیں مل کر جنوبی پنجاب صوبہ بنا دیں گی عوامی حلقے اس حوالے سے بہت پرامید ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے لیے جنوبی پنجاب کی عوام سے ووٹ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا.
فیس بک کمینٹ

