کوئٹہ:کراچی یونیورسٹی میں مبینہ طورپر خود کش حملہ کرنے والی بلوچ خاتون شاری بلوچ کے بارے میں یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ اس کا شوہر لاپتہ نہیں تھا۔ وہ ایک ڈینٹسٹ ہے اور مکران میڈیکل کالج میں ڈیمانسٹیرٹرکے طورپر کام کررہاہے۔ اس نے اپنی بیوی کی موت پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ اس نے ہمارا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ شاری بلوچ کے تین بھائی اور چاربہنیں ہیں۔یہ ساری فیملی اعلی تعلیم یافتہ فیملی ہے۔ خود شاری بلوچ بھی ایم ایس سی زوالوجی اور ایم فل ایجوکیشن تھی۔ اس کا ایک بھائی گریڈ 16میں تحصیلدار ہے ۔دوسرا بھائی ضلع کچہری میں کام کرتاہے۔ شاری کے چچا ریٹائرڈ پروفیسر اورادیب ہیں۔ اس کے دوکزن ڈاکٹر ہیں۔ شاری کے والد تربت یونیورسٹی میں رجسٹرار کے طورپر کام کرتے رہے۔ وہ تین سال تک ضلعی محتسب ٹیم کاحصہ بھی رہے اور واسا کا ڈائریکٹر کے طورپربھی کام کرتے رہے۔ خود شاری بلوچ سیکنڈری سکول ٹیچر تھی اورچھ ماہ سے سکول سے غیرحاضر تھی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اسے شوکاز نوٹس بھی دیئے مگر اس نے جواب نہیں دیا۔ بلوچوں کی مزاحمت کے حوالے سے کام کرنے والے صحافی Kiyaبلوچ کے نام سے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پرمزید تفصیلات دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شاری دوسال سے کالعدم تنظیم کے مجید بریگیڈسے منسلک تھی۔ کالعدم تنظیم کاکہنا ہے کہ ہم نے اس سے خودبھی کہا تھا کہ وہ اپنے خودکش حملے کے فیصلے پرنظرثانی کرلے۔ لیکن وہ اپنے فیصلے پرڈٹی رہی۔ اس کا ایک کزن 2018میں کیچ میں فوجی آپریشن کے دوران مارا گیاتھا۔
دریں اثناءحملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم تنظیم 2011سے اب تک88حملے کرچکی ہے جس میں سات خود کش حملے شامل ہیں۔پہلا حملہ دسمبر 2011ءمیں کوئٹہ میںشفیق مینگل کے گھر پرہوا۔ اگست 2018ءمیں دالبندین میں چینی انجینئرز پر حملہ کیاگیا،نومبر2018ءمیں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ ہوا۔2019میں پرل کانٹی نیٹل ہوٹل پر حملہ کیاگیا۔2020ءمیں کراچی سٹاک ایکس چینج پر حملہ کیاگیا۔ فروری 2022ءمیں پنجگور اورنوشکی میں ایف سی کیمپوں پر حملے ہوئے جو کئی روز جاری رہے۔26اپریل 2022ءکو کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پرحملہ کیاگیا۔ان حملوں میں مجموعی طورپر 145افراد مارے گئے جبکہ 67زخمی ہوئے۔
فیس بک کمینٹ

