وارث شاہ کے 224ویں عرس کی ہفت روزہ تقریبات کے سلسلے میں ہیر گائیکی کی محفل جاری تھی۔ منجھے ہوئے گائیک سینکڑوں حاضرین و سامعین کے سامنے اپنی پسند کا کلام گا کر اُس کی پرتیں کھول رہے تھے۔ وہ معنی و مطلب عیاں ہو رہے تھے جو متعدد بار کلام پڑھ اور سمجھ کر بھی دل کی دسترس میں نہ آ پائے تھے۔ محسوس ہوا کہ روح کی آواز روح کے ذریعے ہی دل پر اثر کرتی ہے تو لفظوں کے صندوق میں پنہاں راز کھلتے ہیں۔ جن کے دل کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی ان کے من میں دھمال جاری تھی۔ ان پر وجد اور کرم کا عالم تھا۔ وہ کسی اور جہان کی سیر کر رہے تھے اس لئے چہرے پر جلال اور جمال کا پہرہ تھا۔ ہیر کی لَے میں ایک خاص تڑپ اور تشنگی ہے جو بانسری کی سنگت میں اور شدید ہو جاتی ہے۔ ہیر گائیکی کے ساتھ بانسری کی سنگت بھی ایک الوہی راز کی طرح ہے۔ دونوں اصل کی جدائی میں تڑپ کا وہ اظہار ہیں جو ہر ذی روح کو ایسی کیفیت عطا کرتا ہے جس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس میں سرگوشی بھی ہوتی ہے اور کچھ کھو جانے کی کسک بھی۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حیات و کائنات کا سارا فلسفہ، ساری گتھیاں، سارے راز، سارے وصال اور سارے ہجر اس لَے اور لفظوں کی پناہ گاہ میں سما گئے ہوں۔ وارث شاہ ایک گیانی شاعر، نفسیات دان، فلسفی اور روحانی ہستی تھا۔ اُس نے قدرت کی طرف سے عطا ہوئی حکمت اور روحانیت کو خلقت تک پہنچانے کے لئے ہیر رانجھا کی داستان کا انتخاب کیا جو خالصتاً پنجاب کی دھرتی کی کہانی ہے۔ اس کا ہیرو رانجھا وہ زمینی کردار ہے جس کی دھرتی سے جڑت اُسے توانا کرتی ہے۔ وہ ہریالی، فصلوں، شادابیوں اور نشوونما کا وسیلہ ہے۔ زمین کی یہ طاقت اُسے آسمانوں کی روشنیوں یعنی ہیر تک رسائی دیتی ہے۔ وہ جسم ہے اور ہیر روح۔ رانجھے کا وجود جسم اور روح کی وحدت میں ڈھل کر کائنات کے رازوں تک رسائی حاصل کرتا ہے اور پھر اس پیغام کو پیغامِ محبت بنا کر خوشبو کی طرح دنیا میں پھیلاتا ہے۔ صوفی پر جو راز افشا ہوتا ہے وہ اُسے لوگوں پر عیاں نہیں کرتا بلکہ قدرت کی منشاء اور پیغام کو اپنے عمل کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر فرد کی روحانی اور فکری استعداد مختلف ہوتی ہے۔ ہر فرد ہر بات کو ہضم نہیں کر سکتا۔ اگر کم بصیرت والے شخص کے سامنے الہامی راز منکشف کئے جائیں تو وہ یا تو انہیں ماننے سے انکار کر دے گا یا ایسی بات کرنے والے پر کڑی تنقید کرے گا کیوں کہ اس کی سمجھ بوجھ کی ایک حد ہے اور وہ وہیں تک دیکھنے کا پابند ہے۔ صوفیاء اور اولیاء ربّ کے خاص اور کرم یافتہ بندے ہوتے ہیں جن کو روحانی قوتوں سے مستفید کر کے بھیجا جاتا ہے اسلئے اولیاء اور صوفیاء رازِ حقانی عام لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے سختی سے گریز کرتے ہیں۔ اس ضمن میں وارث شاہ کا یہ شعر دیکھئے:
بھیت دسنا مرد دا کم ناہیں مرد سو اِی جو ویکھ دَم گھُٹ جاوے
وارث شاہ نہ بھید صندوق کھلے بھاویں جِند دا جندرا ٹُٹ جاوے
اس شعر میں وارث شاہ نے اسی حقانی راز کا تذکرہ کیا ہے اور یہاں مرد سے مراد فرد یعنی انسان ہے مطلب یہ کہ جب کسی انسان پر الوہی راز ظاہر ہو تو وہ اسے خود میں جذب کر لے اور راز والا صندوق نہ کھلنے دے بے شک اس کی جان چلی جائے۔ وارث شاہ نے ہیر رانجھا کی داستان اس طرح تحریر کی کہ رانجھا ہر انسان کے دل میں بس گیا۔ خود وارث شاہ بھی رانجھے کے روپ میں ڈھل گیا اور ہر ہیر کی پکار میں شامل ہو گیا۔ آج ہیر کی داستان کو وارث شاہ کی ہیر کہا جاتا ہے۔ بھلے وہ مادی دنیا میں کسی بھاگ بھری کا قرب حاصل نہ کر سکا مگر ہمیشہ کے لئے ہیر کے ساتھ امر ہو گیا۔ یہی وحدت کا راز ہے۔ جسم (رانجھے) کو روح (ہیر) کے ساتھ اِک مِک ہو کر روحانی کامرانی نصیب ہوتی ہے۔ اس صوفیانہ کلام کی تفہیم کے لئے ہیر گائیکی بہترین ذریعہ ہے۔ آنکھیں بند کریں تو سُر اور روحانی پکار آپ کو لفظوں کی تہہ میں پوشیدہ رازوں سے روشناس کرتے جاتے ہیں جو عام پڑھائی کے دوران بالکل نہیں کھُلتے۔ وارث شاہ پنجاب کی ثقافتی، سماجی اور روحانی قدروں کا محافظ ہے۔ آج پنجاب کو اپنی کھوئی قدروں اور اجلی شناخت کے لئے اس کلام سے استفادے کی اشد ضرورت ہے، اپنی صدیوں پرانی عظیم تہذیب سے جڑت بنیادی ضرورت ہے جو وقار سے جینے کا حوصلہ عطا کرے گی اور دنیا میں امن اور رواداری کا پیغام عام کرنے کے لئے متحرک کرے گی لیکن اس سے پہلے ہمیں شر یا خیر کے درمیان تمیز کرنا ہو گی اور مختلف طاقتوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اس پر یقین کرنا ہوگا کہ محبت اور دین میں توحید کا راج چلتا ہے۔
دنیا تے کدی سکھ نہیں پاندا
جیہڑا دو پاسے دا سانجھا
اِکو پاسا رکھ لے ہیرے
یاں کھیڑے یاں رانجھا
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

