Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, اپریل 29, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
  • عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
  • قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
  • جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
  • ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
  • اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»سید مجاہد علی کا تجزیہ : فل کورٹ کا معاملہ ۔۔ جمہوریت کے نام پر آمرانہ طرز عمل
تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ : فل کورٹ کا معاملہ ۔۔ جمہوریت کے نام پر آمرانہ طرز عمل

ایڈیٹرجولائی 26, 20221 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ نے اتحادی حکومت، وکلا تنظیموں اور متعدد دیگر درخواست دہندگان کی طرف سے آئین کی شق 63 اے کے حوالے سے فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ یہ درخواستیں اس آئینی شق کی تشریح، پارٹی لیڈر و پارلیمانی پارٹی کے تعلق کی وضاحت اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کے ضمن میں دائر کی گئی تھیں۔ اب سہ رکنی بنچ ہی پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور حمزہ شہباز کے انتخاب کے سوال پر معاملہ کی سماعت کرے گا۔
عدالت عظمی کے سہ رکنی بنچ نے اگرچہ سارا دن بظاہر تحمل سے فل کورٹ کے سوال پر وفاقی اتحادی حکومت اور دیگر درخواست دہندگان کے وکلا کے دلائل سننے پر صرف کیا لیکن ججوں کے ریمارکس اور طرز عمل سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ان دلائل سے برہم ہیں۔ ججوں نے اصرار کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف چوہدری پرویز الہیٰ کی پٹیشن میں اٹھایا گیا نکتہ آسان اور سادہ ہے اور صرف ایک ہی سوال کا جواب دینا مقصود ہے کہ کیا ارکان اسمبلی کو کسی خاص امید وارکے لئے ووٹ دینے کا حکم پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے یا پارٹی کا لیڈر یہ فیصلہ کرے گا۔
واضح رہے کہ جمعہ کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں چوہدری پرویز الہیٰ کو 186ووٹ ملے تھے جبکہ حمزہ شہباز 179 ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کا ایک خط پڑھ کر سنایا جس میں اپنی پارٹی کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ ان ارکان نے اپنا ووٹ چوہدری پرویز الہیٰ کے حق میں کاسٹ کیا تھا۔ اس طرح ڈپٹی اسپیکر نے ایک رولنگ میں ان دس ووٹوں کو مسترد کرکے حمزہ شہباز کو منتخب وزیر اعلیٰ قرار دیا۔ اسی شب سپریم کورٹ نے چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ہفتہ کے روز اس پر سماعت کی اور ایک مختصر حکم میں حمزہ شہباز کے انتخاب کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی اور معاملہ کی سماعت سوموار تک ملتوی کردی تھی تاکہ فریقین دلائل دے سکیں اور عدالت پوری تصویر سامنے آنے کے بعد ہی کوئی حتمی حکم صادر کرسکے۔
اس دوران اتحادی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور حکومتی جماعت کے خلاف کیسز ججوں کے ایک ہی گروہ کے سامنے پیش کرنے اور فیصلے صادر کرنے کے طریقہ پر شدید احتجاج کیا ہے ۔ سرکاری نمائیندے اور وفاقی وزرا نے ویک اینڈ کے دوران سپریم کورٹ سے شق 63 اے کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف تنازعات اور ان پر دائر درخواستوں کو ملا کر سننے اور اس اہم قومی آئینی معاملہ پر فل کورٹ پر مشتمل بنچ تشکیل دینے کی درخواست کی تاکہ پوری قوم کو عدالت عظمی میں ہونے والی کارروائی پر مکمل بھروسہ ہو۔ اس حوالے سے آج صبح پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فل کورٹ کے حق میں دلائل دیے اور واضح کیا کہ ججوں کے ایک مخصوص گروہ کی طرف سے دیے گئے فیصلوں سے نہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، نہ جمہوریت مستحکم ہوگی اور نہ ہی سپریم کورٹ پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تین جج قوم کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اس اہم معاملہ پر فل کورٹ پر مشتمل بنچ غور کرے تاکہ آئینی ابہام اور سیاسی بے یقینی کا خاتمہ ہوسکے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف رائے رکھنے والے ایک یا دو جج ہمارے ہر معاملہ میں منصف بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب اس طریقہ کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت عظمی کو اپنا وقار و احترام بحال کرنے کے لئے واضح کرنا ہوگا کہ وہ کسی ایک سیاسی گروہ یا رائے کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ میچ فکسنگ کی طرح بنچ فکسنگ بھی جرم ہے، اس پر بھی سو موٹو نوٹس لینا چاہئے۔ سپریم کورٹ اس تاثر کو زائل کرے کہ جو پارٹی یا گروہ بدمعاشی کرے گا ، دھونس و دباؤ کے ہتھکنڈے اختیار کرے گا، عدالت بھی اسی کی بات سنے گی۔ اب انصاف ہوتا دکھائی دینا چاہئے۔
اس پریس کانفرنس کے تھوڑی دیر بعد جب سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے پرویز الہیٰ کی پٹیشن پر سماعت دوبارہ شروع کی تو حکومت، وکلا تنظیموں اور متعدد درخواست دہندگان کی طرف سے فل کورٹ بنانے پر اصرار کیا گیا۔ درخواست دہندگان کے وکلا کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کی پٹیشن اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے کہ اس پر فوری طور سے سہ رکنی بنچ کوئی حکم صادر کردے۔ اس مقصد کے لئے فل کورٹ بنائی جائے اور اس معاملہ سے متعلق سب درخواستوں کو یکجا کرکے اس آئینی نکتہ کی صراحت کی جائے تاکہ ملک میں آئینی اور سیاسی بحران انجام کو پہنچے۔ درخواست دہندگان کا مؤقف تھا کہ اوّل تو آئینی شق 63 اے کے بارے میں صدارتی ریفرنس پر عدالتی فیصلہ وضاحت طلب ہے۔ جیسا کہ اس معاملہ میں پانچ رکنی بنچ کے دو ججوں نے دلیل دی تھی کہ اسمبلی ارکان کے ووٹ کو شمار نہ کرنے کا فیصلہ آئین کو ازسر نو تحریر کرنے کے مترادف ہوگا جو سپریم کورٹ کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔ اس فیصلہ کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان کی رکنیت ختم کردی تھی اور ان نشستوں پر ضمنی انتخاب بھی منعقد ہوچکا ہے۔ لیکن ابھی تک سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف ان ارکان کی اپیلوں کی سماعت نہیں ہوئی۔ اب پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کے ووٹوں اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ وکلا کا کہنا تھا کہ پہلی درخواستوں پر غور سے پہلے تازہ پٹیشن پر کوئی متوازن فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔ اسی لئے سب معاملات کو ملا کرسننے اور سب کے اطمینان کے لئے فل کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا جائے۔
سہ رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال البتہ اس دلیل پر زیادہ خوش نہیں تھے۔ انہوں نے اور ان کے ساتھی دوججوں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے اس بات پر اصرار جاری رکھا کہ زیر غور معاملہ سادہ ہے اور صرف یہ طے کرنا ہے کہ پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کور ٹ کے فیصلہ کو بنیاد بناکر کیسے مسلم لیگ (ق) کے ووٹ مسترد کردیے۔ حالانکہ اس حکم میں پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے ، پارٹی صدر کا تذکرہ نہیں ہے۔ شق 63 اے بھی پارلیمانی پارٹی ہی کا ذکر کرتی ہے۔ فاضل ججوں کا کہنا تھا کہ اس شق اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کا اصل مقصد پارٹیوں میں موروثیت اور شخصی آمریت کو ختم کرنا ہے۔ اس شق پر سپریم کورٹ کی وضاحت کو قبول کرلیا گیا ہے، اسی لئے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے اس فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے رولنگ دی۔ اب ہم نے صرف یہ وضاحت کرنی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط سمجھا ہے۔ اس پر ہی دلائل سنے جائیں گے۔
اس دوران فل کورٹ کے لئے دلائل دیتے ہوئے متعدد وکلا نے ججوں کو اطمیمنان سے معاملہ طے کرنے اور کل تک کا وقفہ کرنے کی درخواست بھی کی۔ یہ نکتہ بھی سامنے لایا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز نے 16 اپریل کو منعقد ہونے والے انتخاب میں 197 ووٹ لئے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کی درخواست منظور کی تھی۔ وکلا نے واضح کیا کہ نااہل ہونے والے ارکان کی اپیلیوں پر ابھی تک سماعت نہیں ہوئی۔ اگر سپریم کورٹ یہ طے کرتی ہے کہ پارٹی صدر ارکان کو کسی خاص شخص کو ووٹ دینے کی ہدایت نہیں کرسکتا تو ان ارکان کے حمزہ شہباز کو دیے گئےووٹ بھی شمار کرنا ہوں گے۔ اس موقع پر بھی تحریک انصاف کی کسی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا بلکہ پارٹی چئیرمین عمران خان نے ایک مراسلے میں اپنے ارکان کو چوہدری پرویز الہیٰ کو ووٹ دینے کی ہدایت کی تھی۔ دلیل دی گئی کہ اگر تحریک انصاف کے پارٹی لیڈر کی ہدایت ماننا لازم تھا تو چوہدری شجاعت کی ہدایت کو یہ کہہ کر کیسے مسترد کیا جاسکتا ہے کہ وہ تو پارٹی لیڈر ہیں ، وہ کیسے ارکان اسمبلی کو حکم دے سکتے ہیں۔ فاضل ججوں نے یہ کہتے ہوئے اس دلیل پر وضاحت سننے کی زحمت نہیں کی کہ یہ دونوں مختلف معاملات ہیں۔ حالانکہ وکلا کے مطابق ان دونوں معاملات میں پارٹی سربراہ نے ہی ہدایت دی ہے ، اس لئے ان کے بارے میں ایک ہی طرح کا مؤقف اختیار ہونا چاہئے۔کئی گھنٹے کی سماعت اور مشاورت کے لئے دو طویل وقفوں کے بعد شام گئے البتہ چیف جسٹس نے سہ رکنی بنچ کا یہ فیصلہ سنایا کہ فل کورٹ تشکیل نہیں دی جائے گی اور تین ججوں پر مشتمل بنچ ہی منگل کو چوہدری پرویز الہیٰ کی پٹیشن پر دلائل سنے گا۔ عدالتی کارروائی کے دوران مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے متعدد بار ملک میں جمہوریت مستحکم کرنے کی بات کی اور کہا کہ ہم نے پارٹیوں میں آمریت ختم کرنی ہے اور جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے لیکن ایک موقع پر اپنے مؤقف کے خلاف دلائل دینے وکیل عرفان قادر کے ساتھ چیف جسٹس کا رویہ اس قدر ہتک آمیز اور درشت تھا کہ عرفان قادر کو آئین کی شق 14 کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا پڑا کہ ’آپ چیف جسٹس ہیں، ڈانٹیں گے تو میں سن لوں گا لیکن ملکی آئین عدالتی احترام ہی نہیں شخصی وقار کی بھی ضمانت دیتا ہے‘۔ اس مکالمہ اور طویل عدالتی کارروائی کے دوران بنچ کے تینوں ججوں کی وکیلوں کے ساتھ کج بحثی اور قانونی کی بجائے سیاسی گفتگو سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ چیف جسٹس اپنے ہم خیال چند ججوں کے ساتھ مل کر ملک کی تقدیر لکھنے کا حتمی ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ اسے ہی جمہوریت، آئین اور انصاف سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے دن کے دوران سوال بھی کیا کہ کیا ’ہم پر اعتبار نہیں ہے؟‘ لیکن اس کا جواب تو مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی دے چکے تھے۔ ملک کی حکمران جماعتوں اور متعدد وکلا تنظیموں کی طرف سے فل کورٹ کی اپیل کو مسترد کرنا دراصل جمہوری نظام میں عدالتی آمریت کو مسلط کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی افسوسناک راستہ پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماضی میں نام نہاد قومی مفاد کے نام پر ملکی آئین و جمہوریت کے خلاف فوج کے اقدامات کی طرح اب سپریم کورٹ سے بھی یہی اشارے موصول ہوئے ہیں کہ بس یہی ایک ادارہ اس ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوری حقوق کی نگہبانی کا سبب ہے۔ ماضی میں بھی سپریم کورٹ نے نام نہاد نظریہ ضرورت کے تحت فوجی حکمرانی کی تائد کرکے ملک میں جمہوریت کو پامال کیا تھا۔ اب فوج تو بظاہر فریق نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ کے بعض جج اپنے تئیں ایک خاص طرح کی جمہوریت مسلط کرنے پر اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس جوش میں انہیں یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ اعلیٰ عدالتی روایت کا تقاضہ ہے کہ اگر کسی جج کی نیت اور طریقہ کار پر کسی ایک فریق کو اعتراض ہو تو وہ فوری طور سے متعلقہ فریق کا مقدمہ سننے سے انکار کردیتا ہے۔ ہمارے فاضل جج اس قسم کی اخلاقی حساسیات سے تہی دست ہیں۔
سپریم کورٹ کے تین ججوں نے ایک اہم معاملہ کو مفاہمانہ طریقہ سے حل کرنے کی بجائے جس طرح یک طرفہ من مانی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے ملکی بحران میں بھی اضافہ ہوگا اور عدالتوں پر اعتبار بھی کمزور ہوگا۔ ملکی معیشت و جمہوریت کے لئے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ فاضل جج حضرات کا دعویٰ ہے کہ وہ آئین کی روشنی میں ملک میں اعلیٰ جمہوری روایات کا فروغ چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور سیاسی پارٹیوں پر بالادستی کا رویہ البتہ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

عمر عطا بندیال
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleحکومتی اتحاد نے حمزہ شہباز کیس کی عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا
Next Article امر جلیل کاکالم:الرجی Allergy
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

عمران خان کی درخواست منظور :چیف جسٹس بندیال نے ملازمت کے آخری روزنواز شریف اور زرداری کے خلاف مقدمے بحال کر دیے

ستمبر 15, 2023

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کی چیف جسٹس بندیال سے ملاقات : تقسیم واضح ہو گئی

مئی 21, 2023

سید مجاہد علی کا تجزیہ : چیف جسٹس کے لیے باعزت راستہ

اپریل 10, 2023

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی اپریل 29, 2026
  • عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 29, 2026
  • فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم اپریل 28, 2026
  • قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے اپریل 28, 2026
  • جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم اپریل 28, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.