جسٹس اطہر من اللہ کے پنجاب و خیبر پختون خوا میں انتخابات کے بارے میں سوموٹو نوٹس لینے کے سوال پر اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے سوموٹو کیسز پر غور معطل کرنے کے فیصلہ کو بدستور نافذ العمل قرار دینے کے اختلافی نوٹس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ اس دوران وہ سپریم کورٹ میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور اپنی انتظامی غلطیوں کی اصلاح کا کوئی اقدام کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی تصادم کی خراب ہوتی صورت حال میں عدالت عظمی میں انتشار کی کیفیت سے مزید بگاڑ پیدا ہونے کا امکان ہے۔
اس دوران سیاسی لیڈروں، حکومت اور بعض دیگر عناصر کی طرف سے چیف جسٹس سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آج خیبر پختون خوا کی بار کونسل نے بھی چیف جسٹس کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ اس دوران ایک شہری کی طرف سے چیف جسٹس کے خلاف مس کنڈکٹ کی بنیاد پر ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا گیا ہے۔ پاکستان بار کونسل نے اگرچہ اس ریفرنس کی مخالفت کی ہے لیکن یہ ایک قانونی عمل ہے جس کا راستہ محض قرارداد یا بیانات سے نہیں روکا جاسکتا۔ چیف جسٹس کو خود بھی اس صورت حال کا ادراک ہو گا۔ اب وفاقی کابینہ نے چیف جسٹس کی قیادت میں سہ رکنی بنچ کے اس حکم کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب میں انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو 10 اپریل تک 21 ارب روپے فراہم کرے۔ قومی اسمبلی پہلے ہی ایک قرارداد میں سپریم کورٹ کا حکم مسترد کرتے ہوئے حکومت کو پابند کرچکی ہے کہ وہ عدالتی فیصلہ پر عمل نہ کرے کیوں کہ یہ فیصلہ قانونی طور سے نافذالعمل نہیں ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اختلافی یا وضاحتی فیصلوں نے اس موقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کی اس رائے سے اتفاق کیا ہے کہ یکم مارچ کے فیصلہ میں سوموٹو کے تحت دو صوبوں میں انتخابات پر غور کرنے کا معاملہ چار تین کی اکثریت سے مسترد کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کبھی بنچ سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے۔ اس طرح چیف جسٹس اور ان کے ساتھی چند ججوں کی اس رائے کو مسترد کیا گیا ہے کہ یکم مارچ کا فیصلہ پانچ رکنی بنچ کا حکم تھا جس میں سے تین ججوں نے فوری انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔ کسی فیصلہ کے بارے میں اتنا واضح اختلاف سامنے آنے کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ چیف جسٹس تن تنہا کیسے یہ اصرار کر سکتے ہیں کہ ان کا حکم ہی حرف آخر ہے اور حکومت یا انتظامیہ اس پر عمل کروانے کی قانونی و آئینی طور سے پابند ہے۔
چیف جسٹس مسلسل اس معاملہ میں فل کورٹ بنچ قائم کرنے یا کوئی ایسا وسیع بنچ بنانے سے انکار کرچکے ہیں جس میں ایسے جج بھی شامل ہوں جنہیں براہ راست چیف جسٹس کے گروہ میں شامل نہ سمجھا جاتا ہو۔ چیف جسٹس نے اگرچہ تحریک انصاف کی پٹیشن پر غور کرتے ہوئے دو ججوں کے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اصرار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججوں میں عام طور سے بھائی چارہ موجود ہے اور سپریم کورٹ میں بطور ادارہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ چند روز کے دوران جو حالات سامنے آئے ہیں، ان سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے سوموٹو نوٹس کے حوالے سے قواعد میں مناسب تبدیلی سے پہلے تمام سوموٹو کیسز پر عدالتی کارروائی معطل کرنے کے حکم کو جائز اور نافذالعمل حکم قرار دینے کے فیصلہ نے صورت حال کو مزید پیچیدہ اور چیف جسٹس کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس حکم کو رجسٹرار کے ذریعے جاری ہونے والے ایک سرکلر کے ذریعے ایک لارجر بنچ کے فیصلہ سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا۔ سرکلر کے مطابق پانچ رکنی بنچ پہلے ہی چیف جسٹس کو ’ماسٹر آف روسٹرز‘ قرار دے چکا تھا، اس لیے کوئی سہ رکنی بنچ چیف جسٹس کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں محدود نہیں کر سکتا۔
البتہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے تازہ حکم میں لکھا ہے کہ ماسٹر آف روسٹرز کا لفظ آئین میں کہیں نہیں ملتا۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام جج ملکی آئین کے مطابق کام کرتے ہیں۔ آئین نے طے کیا ہے کہ عدالتیں کن معاملات کو کن اختیارات کے تحت سن سکتی ہیں یا ان پر فیصلے کر سکتی ہیں۔ کوئی عدالت ماورائے آئین طریقے سے کسی معاملہ پر حکم صادر نہیں کر سکتی۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے چیف جسٹس تو درکنار سپریم کورٹ کو بھی سماعت کے غیر محدود اختیارات نہیں دیے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے 4 اپریل کو سہ رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے پنجاب میں انتخابات کا حکم دینے کے فوری بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے اس حکم کو مسترد کروانے کے لئے 6 رکنی بنچ بنایا تھا جس کی سربراہی جسٹس اعجازالاحسن نے کی تھی۔ اس بنچ نے چند منٹ سماعت کے بعد میڈیکل کالجوں میں ڈگری کے لئے قرآن کے حفاظ کو اضافی بیس نمبر دینے کا سوموٹو کیس نمٹا دیا۔ بعد میں جاری کیے گئے حکم میں سوموٹو معاملات پر غور اور چیف جسٹس کے اسپیشل بنچ بنانے کے اختیارات معطل کرنے کے حکم کو بھی یہ کہتے ہوئے ختم کر دیا گیا تھا کہ یہ فیصلہ عدالتی اختیار سے متجاوز تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے تازہ حکم میں اس بنچ کی تشکیل کو ہی غلط قرار دیا ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ’رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے وفاقی حکومت کی جانب سے عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود 6 رکنی بنچ کی تشکیل کے روسٹر پر دستخط کر کے مس کنڈکٹ کیا‘ ۔ واضح رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے حکم کے خلاف سرکلر جاری کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک نئے حکم میں رجسٹرار کی سرزنش کی تھی اور اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے بعد وفاقی کابینہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ’رجسٹرار سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کیسز کی سماعت روکنے کے فیصلے کو غیر قانونی طور پر سرکلر سے ختم کیا۔ جب یہ اندازہ ہوا کہ رجسٹرار کا سرکلر غیر قانونی و غیر آئینی ہے تو 6 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا‘ ۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ چیف جسٹس کے لئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔ دائرہ اختیار کے بغیر جاری کردہ فیصلے کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوتا۔ ’متکبرانہ آمریت کی دھند میں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے‘ ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ عدلیہ کی ساکھ کو مجروح کیا گیا تو عدلیہ اور پاکستانی عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
اس دوران پارلیمنٹ نے چیف جسٹس کے سوموٹو نوٹس لینے کے اختیار کو سہ رکنی کمیٹی کے حوالے کرنے کا قانون منظور کیا تھا لیکن صدر عارف علوی نے گزشتہ روز اسے پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیا تھا۔ اب یہ معاملہ سوموار کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دوبارہ پیش ہو گا۔ پارلیمنٹ سے دوبارہ منظوری کے بعد بھی اگر صدر نے اس پر دستخط نہ کیے تو چیف جسٹس کا تن تنہا سوموٹو نوٹس لینے کا اختیار ختم کرنے کا قانون دس روز بعد نافذ ہو جائے گا۔
صدر نے اگرچہ یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ سپریم کورٹ ایسے کسی قانون کو آئین سے متصادم قرار دے کر مسترد کر سکتی ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ حکومت و پارلیمنٹ کے علاوہ ساتھی ججوں کی طرف سے تنقید کی زد میں آئے ہوئے چیف جسٹس کیسے اپنے ہی اختیارات کو محدود کرنے والے ایک قانون کے خلاف کارروائی کا حوصلہ کرتے ہیں۔ خاص طور سے سوموٹو اختیار کے ناجائز طور سے استعمال کے خلاف وکلا تنظیموں کی طرف سے احتجاج سامنے آتا رہا ہے۔ اس لیے نئے قانون کو وقت کی ضرورت اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے مماثل سمجھا جا رہا ہے۔ صدر نے بھی اپنے اعتراض میں اعتراف کیا ہے کہ سوموٹو کیس میں فیصلہ کے خلاف اپیل کا حق ایک مناسب اقدام ہے۔ عام طور سے بھی قانونی حلقے اس رائے سے مطمئن ہیں۔
چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے کا قانون نافذ ہونے سے پہلے چیف جسٹس اگر رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو سپریم کورٹ میں اس وقت پائی جانے والی بے چینی کم ہو سکتی ہے۔ یوں چیف جسٹس عمر عطا بندیال اپنے خلاف ریفرنس کا سامنا کرنے کی شرمندگی سے بھی بچ سکیں گے۔ چیف جسٹس وکلا تنظیموں کے اصرار کے علاوہ سوموٹو نوٹس کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے حکم کو بھی مسترد کرنے کی اپنی سی کوشش کرچکے ہیں۔ اب یہ معاملہ بھی پنجاب میں انتخابات ہی کی طرح غیر واضح اور مشکوک ہو چکا ہے۔ وکلا اپنی سیاسی وابستگی کے حوالے سے اس قانونی صورت حال کی تفہیم عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس سے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے لیے نیک نامی کا کوئی پیغام نکالنا مشکل ہو چکا ہے۔
ایسے میں چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ کے مقررہ وقت سے چار پانچ ماہ پہلے استعفی دے کر پیچیدہ اور مشکل معاملات حل کرنے میں اہم اور قابل قدر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ اور بار کونسلز بھی انہیں وقار سے الوداع کہیں گی۔ البتہ اگر چیف جسٹس نے استعفیٰ دینے سے گریز کیا تو کچھ کہنا مشکل ہے کہ آئینہ چند ہفتوں میں حالات کیا رخ اختیار کر لیں۔
(بشکریہ کاروان ناروے)

