ملک کے تمام سیاستدان مل کر اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کو متنازعہ بنائے جا رہے ہیں آئے روز کسی ایک شق سے مرضی کی تشریح حاصل کر لیتے ہیں اس تشریح سے متاثر ہونے والے سیاست دان پہلے ہائی کورٹ اور اب سیدھے سپریم کورٹ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کیلئے فاضل ججوں پر سیاسی دباؤ ڈالا جاتا ہے اور پھر اب تو بڑا آسان ہو گیا کہ اگر آپ کی من مرضی کا فیصلہ نہیں آتا تو آپ عدالت سمیت کسی پر بھی پیسے لینے یا پھر دوسرے سیاسی گروہ کے آلہ کار ہونے کا الزام عائد کر سکتے ہیں جس کیلئے اب عدالتیں غیر موثر ہو رہی ہیں تنقید کیلئے بہت مواد ہے کہ چاروں طرف سے کچھ اچھا نہیں ہو رہا جو یقیناً سیاسی عدم استحکام کا تسلسل ہے جو معاشی عدم استحکام پیدا کر چکا ہے جس سے ملک کے اندر معاشی بد حالی نمایاں نظر آ رہی ہے بارشوں نے کراچی جیسے شہر کو برباد کر رکھا ہے یہی حال وفاقی اور دارلخلافہ کا ہے جنوبی پنجاب تو خیر توجہ کے قابل ہی نہیں ہے بارشوں اور اب سیلاب نے جو تباہی مچانی ہے اس کیلئے توجہ دینے کیلئے حکومت ہے اور نہ ذمہ دار انتظامیہ ہے افسوس کا عالم یہ ہے کہ راجن پور کے علاقے ماچھکہ کے ساتھ دریا ئے سندھ کے پتن پر خوشیوں کی بارات لے کر جانے والوں پر غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے 50سے زیادہ قیمتی انسانی جانیں انسانی غفلت سے دریا برد ہوئیں ماضی کی طرح رہتی دنیا تک اس وقوعہ کے قصورواروں کا تعین ہو گا نہ سزا ہو گی آج بھی کچھ نعشیں دریا برد ہیں لیکن وطن عزیز کے کسی سیاست دان کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ غمزدہ خاندانوں کی اشک شوئی کیلئے ایک بیان بھی دے دیتے۔
یہ سیاستدان اگر اپنے ووٹرز کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں تو پھر باقی چیزیں ان کیلئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی عام آدمی کو یقین ہونا چاہیے کہ یہ لڑائی محض اقتدار کی کرسی کیلئے جہاں بیٹھ کر طاقت کا استعمال کیا جا سکے اگر انہیں ملک اور قوم اور عام آدمی کا خیال ہو تو ایسا تماشا لگانے کی بجائے یہ تمام صرف ایک مرتبہ مل بیٹھ کر اپنے بنائے ہوئے آئین پر اتفاق کر لیں تو معاملات کو سلجھایا جا سکتا ہے البتہ عدالتیں ان کے معاملات کو سلجھائیں گی تو دیر پا نہیں ہوں گے سیاستدانوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے آئین پر من و عن عمل کرنا ہی ان کی سیاسی بقا ہے ورنہ 1953ء میں ایک مذہبی تنازعے پر صرف لاہور میں مارشل لاء لگوانے والوں کو 1958ء‘ 1977ء اور 1999ء طویل مارشل لاء حکومتوں کو قبول کرنا پڑا تھا گو اس وقت بہت سے سیاستدان انہی ادوار کی پیداوار ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ سنجیدہ اور میچور فیصلے کی بنیاد رکھیں ورنہ دوسرا حل تو ہر وقت موجود رہنا ہے اس کیلئے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ادھر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی گرواٹ نے مارکیٹ اکانمی بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔
گو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تسلی دی ہے لیکن صنعت و تجارت کی وفاقی فیڈریشن کے صدرنے حکومت کو فوری طور پر سٹیٹ بنک کا باقاعدہ گورنر لگانے اور ڈالر کو محدود وقت کیلئے فکس ریٹ پر رکھنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ڈالر کے ریٹ میں آئے روز اضافے سے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات آ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کے آٹو اسمبلرزنے چند روز کیلئے پیدواری یونٹ بند کر دئیے ہیں جس میں ٹویوٹا‘ کیا‘ سوزوکی وغیر شامل ہیں ایسی صورت میں حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر رکھا ہے شہروں کے ساتھ دیہات بھی اس سے خاصے متاثر ہو رہے ہیں بارش کے پانی کا بر وقت نکاس نہ ہونے سے جلدی اور پیٹ کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف عام آدمی کی نقل و حرکت اور کاروباری معاملات کی دیکھ بھال مشکل ہو رہی ہے ملتان سمیت دوسرے ایسے شہروں میں جہاں سیوریج کا نظام موجود ہے وہاں جگہ جگہ کراؤن فیلر ہو رہے ہیں ذمہ دار ادارے خاموش ہیں جبکہ شہری متاثر ہو رہے ہیں بارشوں سے کوہ سلمان کے علاقے میں رود کوہیو ں اور ان سے بہنے والے نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے نچلے درجے کا سیلاب ہے اسی طرح دریائے ستلج‘ چناب و سندھ میں اس وقت پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے خصوصاً چناب کو ستلج میں سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے مزید پیشین گوئی ہے کہ اگر بارشیں جاری رہتی ہیں توسیلاب کا خدشہ بڑھ جائے گا جس کیلئے بر وقت اقدامات ضروری ہیں۔
فیس بک کمینٹ

