عمران خان پر حملہ ملکی سیاست کا افسوسناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کسی بھی لیڈر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور اس کے دلائل یا نقطہ نظر کو مسترد کیا جاسکتا ہے لیکن حقیقی جمہوری سپرٹ کا تقاضہ ہے کہ یہ سب کام متبادل نقطہ نظر پیش کرکے کیا جائے یا کسی سیاسی لیڈر کی کمزوریوں کے بارے میں دلائل دیے جائیں لیکن کسی بھی شخص کو سیاسی خیالات کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنانا اور ہلاک کرنے کی کوشش کرنا ، ناقابل قبول طرز عمل ہے جسے پوری قوم کو تہ دل سے مسترد کرنا چاہئے ۔
لانگ مارچ کے دوران تشدد اور کسی ناخوشگوار واقعہ کا اندیشہ موجود تھا تاہم یہ امکان نہیں تھا کہ اس دوران عمران خان جیسے قومی اور مقبول لیڈر پر براہ راست حملہ کرنے اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یک و تنہا شخص کی طرف سے عمران خان پر براہ راست فائرنگ اور اس کا اعتراف اس معاملہ کو سنگین بناتا ہے۔ عوامی اجتماعات اور قومی لیڈروں کی حفاظت کے ذمہ دار سب اداروں کو اس سانحہ کا جائزہ لے کر طے کرنا چاہئے کہ حفاظتی انتظامات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی دوسرا واقعہ رونما نہ ہو اور ملک میں سیاسی جمہوری عمل جاری ساری رہے ۔ اور وہ تمام لوگ جو کسی بھی حکومت کے خلاف کسی بھی طریقہ سے اپنا احتجاج رجسٹر کروانا چاہتے ہیں، وہ کسی خوف و پریشانی کے بغیر ایسا کرسکیں۔
یہ امر خوش آئیند ہے کہ وزیر اعظم نے فوری طور سے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور دن کے دوران نواز شریف اور آصف زرداری سمیت تمام قابل ذکر لیڈروں و حکومتی ترجمانوں نے عمران خان پر حملہ اور سیاسی لانگ مارچ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی اس ناقابل معافی اور افسوسناک کوشش کی شدید مذمت کی ہے۔ اور عمران خان اور دیگر لوگوں کی مکمل صحت یابی کے لئے دلی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اسی جذبہ سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی عمران خان پر حملہ کو مسترد کیا ہے اور عمران خان کی صحت کے لئے دعائیہ کلمات کہے ہیں۔ یہ بیانات اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان میں شدید مخالفت اور تنازعہ کت باوجود تمام سیاست دان اور ادارے سیاسی سرگرمیوں کے خلاف کسی قسم کے تشدد کو مسترد کرتے ہیں اور کسی لیڈر کو قتل کرنے کا رویہ کسی بھی گروہ یا ادارے کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ ملک میں سیاسی گروہ بندی، شدید نفرت اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کے طرز عمل کے باوجود ، اس موقع پر سامنے آنے والا اظہار یک جہتی صورت حال کی ایسی تصویر دکھاتا ہے جو مشکلات و پریشانیوں کا شکار اس قوم کے لئے اطمینان کا باعث ہونا چاہئے۔
اس خوش نما پہلو کا بیان کرنے کے ساتھ ہی اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ عمران خان جیسے قد کاٹھ کے لیڈر کی سیکورٹی پر مامور لوگوں کی گرفت ہونی چاہئے اور اس وقوعہ کے حوالے سے ان لوگوں سے جواب طلب ہونا چاہئے جن پر لانگ مارچ کے شرکا اور بطور خاص عمران خان کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اپنے وسیع تر دائرہ اختیار اور قومی اداروں کی نگران کے طور پر وفاقی حکومت کو بھی اس سانحہ پر اپنا مؤقف سامنے لانا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ کیا کوئی ایسی انٹیلی جنس جمع کی گئی تھی جس میں عمران خان پر حملہ یا لانگ مارچ کے خلاف کسی تشدد کی اطلاعات موجود تھیں ۔ اور کیا ان معلومات کو تحریک انصاف اور حکومت پنجاب کے ساتھ شئیر کرکے کوئی ایسی منصوبہ بندی کی گئی تھی کہ عمران خان کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہوتا۔ افسوس اور مذمت کے بیانات کے بعد اس بارے میں وفاقی وزیر داخہ رانا ثناللہ کو تمام صورت حال عوام کے سامنے رکھنی چاہئے تاکہ یہ جانا جاسکے کہ کوتاہی کہاں اور کس سے ہوئی ہے۔
تاہم وفاقی حکومت کی عمومی ذمہ داری سے قطع نظر عمران خان کی سیکورٹی کا بنیادی فریضہ پنجاب حکومت اور تحریک انصاف کی سیکورٹی ٹیم پر ہوتا ہے۔ عام طور سے ایسے اہم لیڈر کی سیکورٹی کی ذمہ داری انتہائی قابل اعتماد لوگوں کو دی جاتی ہے جو سیکورٹی پلان کو خفیہ رکھتے ہیں ۔ خاص طور سے کسی احتجاج کی قیادت کرنے والے لیڈر کے عوام کے روبرو ہونے کے کی وجہ سے کئی تہوں پر مشتمل حفاظتی حصار استوار کیا جاتا ہے۔ لانگ مارچ میں ملک بھر سے ہر طبقہ کے لوگوں کو جمع کیا گیا ہے، اس لئے تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں سیکورٹی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے پلان کے بارے میں بھی معلومات سامنے ہونی چاہئیں تاکہ جانا جا سکے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ سیکورٹی پلان مکمل طور سے ناکام ہوگیا۔ حملہ آور نہ صرف تمام حفاظتی حصار توڑنے میں کامیاب رہابلکہ اس نے براہ راست عمران خان پر فائر کیا۔ اسےقوم و ملک کی انتہائی خوش قسمتی کہنا چاہئے کہ وہ عمران خان کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکا۔ اس کے اسلحہ سے فائر ہونے والی گولی سے تحریک انصاف کے چئیر مین کی صرف ٹانگ پر زخم آیا ہے۔ بدقسمتی سے اگر یہ گولی ایک یا دو فٹ اوپر عمران خان کے جسم کے بالائی حصے میں کسی عضو کو نشانہ بناتی تو یہ حملہ زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔
حملہ کے تناظر میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ کوئی سیاسی پارٹی یا کوئی شخص خواہ کیسے ہی حفاظتی اقدامات کرکے ، حفاظت کی حتمی ذمہ داری بہر صورت صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس وقت پرویز الہیٰ کی نگرانی میں پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود وہ مسلسل پنجاب ہی کے شہروں میں گھوم رہے ہیں۔ پرویز الہیٰ نے ہسپتال میں عمران خان کی عیادت کے بعد خدا کا شکر ادا کیا ہے کہ دشمن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا لیکن یہ کلمات تشکر بہر حال بطور وزیر اعلیٰ انہیں ذاتی طور پر اور ان کے زیر انتظام کام کرنے والی پنجاب حکومت کو سیکورٹی میں ناکامی کی بنیادی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرسکتے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے فوری طور سے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرنا ایک روٹین کی کارروائی ہے۔ پرویز الہیٰ محض واقعہ کی تفصیلات فراہم کرکے سرخرو نہیں ہوسکتے بلکہ انہیں بتانا چاہئے کہ ان کی انتظامیہ نے جو سیکورٹی پلان بنایا تھا ، وہ کیوں اور کیسے ناکام ہؤا۔ کیا واقعی پنجاب حکومت نے لانگ مارچ کی سیکورٹی کو سنجیدگی سے لیا تھا یا اس زعم میں کہ عمران خان ایک مقبول لیڈر ہیں ، کوئی ان پر حملہ کرنے کی جرارت نہیں کرسکتا تھا، ان کی انتظامیہ روائیتی سست روی کا شکار ہوئی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آنی چاہئے کہ کہ پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان لانگ مارچ کی سیکورٹی اور عمران خان کی حفاظت کے حوالے سے کوئی مؤثر اور قابل عمل رابطہ موجود تھا یا عدم ربط کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہؤا ہے۔
یہ حقیقت نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ مبینہ حملہ آور خطرناک اسلحہ سمیت نہ صرف اجتماع میں شامل ہونے میں کامیاب رہا بلکہ وہ کنٹینر کے اتنا قریب پہنچ گیا جہاں سے وہ عمران خان پر براہ راست حملہ کرسکا۔ میڈیا میں اس حملہ آور کا ایک بیان نشر کیا جارہا ہے جس میں وہ عمران خان کی سیاست پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے علاوہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ’اذان کے وقت لانگ مارچ کے اسپیکر استعمال کئے جارہے تھے، جو مجھے پسند نہیں تھا‘۔ یوں اس نے ذاتی مخالفت کے علاوہ اپنے اس مذموم فعل کو مذہبی جذبات سے ملانے کی کوشش بھی کی ہے۔ مبینہ حملہ آور کے حوالے سے یہ معلومات بھی شائع و نشر کی جارہی ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے ہی ایک ایم این اے عالمگیر خان کا گارڈ تھا اور اس نے جوش میں ہوائی فائرنگ کی تھی۔ جبکہ خود عالمگیر خان نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے حملہ آور کو اپنا گارڈ بتایا ہے اور کہا ہے کہ اسے غلط فہمی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس بڑے سانحہ کے بعد ایسی متضاد معلومات کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے تھی تاہم اس سے بھی ناقص سیکورٹی پلان کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کسی بھی لیڈر کو اپنے مسلح گارڈ عوامی اجتماع میں لانے کی اجازت دی گئی تھی اور وہ جوش یا ہوش میں فائرنگ کرنے میں بھی ’ آزاد ‘ تھے ۔ البتہ میڈیا میں گرفتار شخص کا اعترافی بیان بھی سامنے آیا ہے جس سے بے اعتباری و بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ حقیقی صورت حال فوری طور سے منظر عام پر آنی چاہئے۔
اس دوران تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے عمران خان سے ملاقات کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وفاقی حکومت اور فوج پر اس حملہ میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ ’اس حملہ میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور ایک فوجی افسر شامل ہیں‘۔ تحریک انصاف اور عمران خان کی طرف سے واقعاتی تفصیلات سامنے آنے سے پہلے ہی ملکی حکومتی شخصیات اور سینئیر فوجی افسرپر ایسے سنگین الزام کا مقصد محض سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔ ماضی قریب کے واقعات شاہد ہیں کہ عمران خان سیاسی مقاصد کے لئے کسی بھی غلط بیانی سے گریز نہیں کرتے۔ اب وہ خود پر ہونے والے جان لیوا حملہ کا الزام سیاسی مخالفین اور عسکری قیادت پر عائد کرکے اپنے حامیو ں کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔
عمران خان ایک سیاسی لیڈر ہیں ۔ ان کے پاس کوئی ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ وہ اس سانحہ کے عوامل اور اس کے درپردہ کرداروں کے بارے میں فوری طور پر اس یقین سے کوئی دعویٰ کرسکیں۔ ملک میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نفرت اور اختلاف کا ماحول پہلے ہی بہت کشیدہ ہے۔ غیر ذمہ دارانہ بیان اور الزام تراشی کا نیا سلسلہ انہیں مزید سنگین بنادے گا۔ اس کے علاوہ ایک فوجی افسر کی طرف انگشت نمائی کرکے عمران خان نے عسکری قیادت سے حساب چکتا کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ عمران خان پر حملہ درحقیقت ملکی سالمیت کے خلاف اقدام ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو اس مجرمانہ فعل کی بنیاد پر سیاسی دکان چکانے سے گریز کرنا چاہئے ورنہ سیاسی لیڈروں کا رہا سہا اعتبار بھی ختم ہوجائے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

