لالہ موسی ٰ : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر الزامات لگائے گئے ہیں کہ ہم نے آرمی چیف کی تعیناتی متنازع کر دی، میں نے کبھی متنازع نہیں بنایا، میں تو کہتا ہوں کہ جو میرٹ پر ہے اس کو آرمی چیف بنانا چاہیے۔
لالہ موسی میں جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ مجھے تو اپنا آرمی چیف نہیں چاہیے، مجھے اپنا جج، آئی جی اور نہ ہی اپنا نیب کا سربراہ چاہیے، مجھے بہترین میرٹ پر لوگ چاہئیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر آدمی ان (نواز شریف) کا اپنا ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اسلام آباد کا آئی جی بنایا، اس آئی جی کو سیف سٹی کیس میں سزا ہونے والی تھی کیونکہ وہ کرپٹ ہے اس لیے اس (شہباز شریف) کی خدمت کرے گا اور ہر ناجائز کام کرے گا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اخبار کے اوپر ہرجانہ کیا کہ میری توہین کی گئی ہے، یہ عدالت میں چلے گئے، اب انہوں نے 8 یا 9 دسمبر کو شہباز شریف کا بلا لیا ہے، اس سے جواب مانگے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ فون اٹھا کر جج کو کہیں گے کہ بے نظیر کو تین نہیں پانچ سال کی سزا دو۔
عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کو یہ نہیں پتا کہ وہ کدھ جا کر پھنس گیا ہے، اور ان کے لیے یہ سب سے بڑا چیلنج ہوگا، اب شہباز شریف کو عدالت کو بتانا پڑے گا، اخبار ڈیلی میل نے اس (شہباز شریف ) کی چوری کے اوپر بڑے سنگین الزامات لگائے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ اس ملک کے چوروں کا ٹبر وہ اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے، کسی دنیا کے مہذب معاشرے میں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ ہوگا کہ ملک کے اہم فیصلے ملک کے باہر ہوں، اور وہ لوگ کریں جو 30 سال سے ملک کا پیسہ چوری کرکے لے کر جا رہے ہیں۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

