محبت کا ادھورا سا فسانہ یادآتا ہے
نئے چہرے کودیکھوں تو پرانا یادآتا ہے
دل بیتاب کہتا ہے بھلا نفرت زمانے کی
مگر وہ یادآئے تو زمانہ یادآتا ہے
دیے کی ایک مدھم لو بھی ہم کویادآتی ہے
اوراس کے بعد خوداس کوبجھانا یادآتا ہے
تمہارے بعد اجڑے بام ودر کو دیکھتا ہوں اور
تمہارے واسطے گھرکوسجانا یادآتا ہے
رضی میں سوچتاہوں ہم نے جس پر نام لکھے تھے
کبھی اس کوبھی وہ برگد پرانا یادآتا ہے ؟
( دن بدلیں گے جاناں : مطبوعہ مئی 1995)
فیس بک کمینٹ

