کوئٹہ : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم سواتی کے وکلا نے کہا ہے کہ سینیٹر کو کوئٹہ میں سندھ پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔اعظم سواتی کے وکیل اقبال شاہ نے تصدیق کی کہ انہیں سندھ پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے جبکہ اس سے قبل بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کے خلاف درج تمام پانچوں مقدمات خارج کرنے اور کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہونے کی صورت میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اعظم سواتی کو سندھ پولیس کے حوالے کرنے پر شدید تنقید کی اور اس کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بتایا کہ ’سینیٹر اعظم خان سواتی پر بلوچستان ہائی کورٹ سے 5 ایف آئی آرز ختم کروائیں 2 اور نکال لیں، انہیں بھی ختم کروانے کی قانونی کارروائی کر رہے تھے کہ سندھ پولیس انہیں اپنے خصوصی طیارے میں نامعلوم مقام پر اغوا کر کے لے گئی‘۔انہوں نے کہا کہ ’ آئین و قانون کا کیا مذاق بنایا ہوا ہے، پھر کہتے ہیں کہ لوگ ان کی عزت کریں’۔
پی ٹی آئی کے نائب صدر فواد چوہدری نے کہا کہ ’اس وقت انسانی حقوق کے حالات یہ ہیں کہ بلوچستان ہائی کورٹ اعظم سواتی پر مقدمات خارج کرنے کا حکم دیتی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ کا جہاز کوئٹہ پہنچتا ہے اور اعظم سواتی کو سندہ پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’انہی مقدمات میں جو بلوچستان ہائی کورٹ نے خارج کیے ان میں سندھ پولیس گرفتاری ڈالتی ہے‘۔فواد چوہدری نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے جہاز پر اعظم سواتی کو لاڑکانہ پہنچایا جاتا ہے جہاں قمبر پولیس اداروں پر تنقید کا جعلی کیس بناتی ہے اور انہیں لاڑکانہ سے قمبر پہنچایا جاتا ہے، پاکستان کے سینئر سیاست دان اور سینیٹر کے انسانی حقوق یہ ہیں‘۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے کہا کہ ’اعظم سواتی بلوچستان سے رہا اور اسی الزام میں سندھ میں گرفتار، روزانہ قانون کا جنازہ نکل رہا ہے‘۔
شیریں مزاری نے کہا کہ ’سینیٹر اعظم سواتی کو درجنوں ایف آئی آرز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور خصوصی طیاروں کے ذریعے پولیس کی حراست میں ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل کیا جا رہا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ان کے چند الفاظ پاکستان کی سلامتی کے لیے زیادہ خطرہ اور دہشت گردی یا بھارتی منصوبے خطرہ نہیں ہیں‘۔
قبل ازیں بلوچستان ہائی کورٹ نے سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف صوبے میں درج تمام مقدمات ختم کرنے اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے سماعت کے دوران 5 مقدمات درج کرنے پر پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ آئی جی کو ان کیسز کے اندراج کا علم ہے؟ جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ پانچوں ایف آئی آرز آئی جی پولیس کے علم میں نہیں ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اعظم سواتی کے مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں، جو پہلا ریمانڈ دیا وہ کس بنیاد پر تھا؟ پولیس کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اعظم سواتی کا مزید ریمانڈ درکار نہیں ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

