کسی بھی شہر کے ادبی یا ثقافتی تاریخ لکھنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں ۔ آپ کچھ اداروں ، شخصیتوں یا یادگار تقاریب کو مرکزی اہمیت دے کر رُوداد نویسی کرسکتے ہیں اور بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہر بڑے شہر کے حوالے سے اس طرح کی غیر تخلیقی کتابوں کا انبارروز بروز افسردہ ہونے والے کتاب خانوں کے ویران شیلفوں کی زینت یا بوجھ بنا ہوا ملتا ہے۔ تاآنکہ اُس شہر کی تاریخ اور ادب وثقافت کا کوئی عاشق ِ زار یہ اعتراف کرے کہ میں فرضی یا قلمی ناموں سے کالم لکھتا تھا اور لوگ تجسس میں رہتے تھے کہ یہ کون ہیں کہ وہ حوصلے کے ساتھ اپنے آپ کو بھی طنز کی لپیٹ میں لے لیتا تھا یا کوشش کرتا تھا کہ کچھ کی شناخت متعین نہ ہو۔ایسے کالم نگاروں اور تحریروں کےلئے زیادہ زرخیز تجسس اُس وقت پیدا ہوتا تھا جب کسی چائے خانے یا درس گاہ میں دس بارہ لوگ ان تحریروں کو جان کا روگ یا ذوق کی تسکین کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک طرف تو بابا ہوٹل تھا اور دوسری طرف گورنمنٹ کالج سول لائنز جہاں کچھ منتخب استاد جمع ہوگئے تھے جن میں جابر علی سید ،مبارک احمد مجوکہ ، انور جمال ،ڈاکٹر محمد امین ،حسین سحرنمایاں تھے ۔تب ڈاکٹر محمد امین اور مبارک احمد مجوکہ شام کے وقت اور بھی متحرک ہوجاتے تھے اور جب وہ ارشد ملتانی یا اصغر علی شاہ سے بات کرتے تھے تو ان کالموں کے بعض کٹیلے جملے ناصرف اور زیادہ گردش میں آتے تھے بلکہ لکھنے والے کی ذات کے بارے میں تجسس بھی پیدا ہوجاتا ۔میں خود یہ کام کرتا رہا اور زیادہ تر اصغر ندیم سید کی فرمائش پر کہ فلاں بزرگ کو پڑ جاﺅ۔ممکن ہے کہ اُن بزرگوار سے چھیڑ خانی کو میرا اپنا بھی جی چاہتا ہو تاہم میں چھپانے کی ضرورت اس لئے سمجھتا تھا کہ دوست احباب لکھنے والے کے بارے میں میرے سامنے بھی تجسس کا اظہار کرتے تھے ۔
اس لئے جب کبھی رضی الدین رضی کا ذکر آتا تھا کہ وہ فلاں قلمی نام کے پیچھے ہے یا فلاں شخص پر اُس نے کوئی جملہ اُچھالا ہے تو میری اُس سے محبت میں اور اضافہ ہوتا تھا ۔ ماجرا یہ تھا کہ ہمارا دوست فیاض تحسین شاعر ضرور تھا مگر افسر بھی تھااور اُس کی مجبوریاں چند کمشنروں یا ڈپٹی کمشنروں کی فرمائش پر مضافات میں کچھ مشاعرے کرانا یا کانفرنسیں کرانا تھا صرف اُسی کی نگاہ ِ انتخاب نہیں بلکہ کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ ساتھ ہمارے استاد عرش صدیقی کی بھی نظر ڈاکٹر طاہر تونسوی پر پڑتی تھی۔ وہ لاہور اور ملتان کے درمیان کسی بگولے کی طرح سفر کرتے تھے اور کبھی کبھار کراچی بھی پہنچ جاتے تھے ۔ پاکستان ہی نہیں بھارت کے بھی متعدد اہل قلم سے اُن کے روابط تھے اورمرحوم نے ایک مرتبہ مجھے خود بتایا تھا کہ اُن کے استاد محترم ڈاکٹر وحید قریشی بدخط تھے ، اس لئے وہ اپنے ہونہار شاگرد طاہر تونسوی سے بہت سے لوگوں کے نام خط لکھواتے تھے اور اُس کی اجرت طاہر تونسوی خط پوسٹ کرنے سے پہلے یوں وصول کرتے تھے کہ وحید قریشی کے دستخطوں کے نیچے ایک سطر کا اضافہ کرتے تھے کہ ڈاکٹر وحید قریشی کا ایک ادنیٰ شاگرد طاہر تونسوی بھی سلام عرض کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ بھارت میں مسعود حسن رضوی ادیب سے متعلق مواد کی تلاش میں گئے تو سبھی نامور اہل قلم اُن کے بارے میں برسوں سے شناسا تھے۔ اس لئے رضی کی اس کتاب میں کچھ چھیڑ خانیاں ہمارے اس دوست کے ساتھ ہوئی ہے ، کہنے کو کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرحوم کے بارے میں یہ تعریضی فقرے ایڈٹ کردئیے جاتے مگر اس سے اُن کی حکام رسی یا بہت زیادہ طباع نہ ہونے کے باوجود ہر مشاعرے میں شرکت ،ایک دو خواتین کی جانب اُن کا جھکاﺅ ہر طنز نگار کو دعوت ِ سخن دیتا تھا۔ یہی نہیں وہ جب رضی کی شکایت کرتے ہونگے یا اُس سے آزردہ لوگوں کو اکساتے ہونگے کہ اس نیم بےروزگارصحافی کو مکمل بیروز گار کردیا جائے تو ادبی محفلوں میں منظر اور دلچسپ ہوجاتا تھا۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ طاہر تونسوی یا انور جمال جیسے انتظامیہ کے پسندیدہ کرداروں پر رضی کی ہلکی پھلکی تبصرہ نگاری ہماری ادبی تاریخ کا ایک تناظر پیش کرتی ہے۔یہی نہیں سول لائنز کالج اور ہمارے شہر کے بہت بڑے عالم جابر علی سید کا دل بھی اس کالج کی کینٹین پر ادبی کسوٹی کھیلنے میں یا اس طرح کی شخصیت کو بوجھنے میں صرف ہوجاتا تھا اورشاید یہی وجہ اُن کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا سانحہ بھی لائی کہ جابر صاحب کو اپنے تدریس کے ٹائم ٹیبل سے زیادہ دلچسپی نہ تھی۔ اور اُن کا مشہور جملہ ہے کہ تدریس اچھا پیشہ ہے مگر اس میں جو کبھی کبھار پڑھانا پڑتا ہے وہ مشکل ہے۔
زندگی میں مصروفیات، نئی نسل کی ترجیحات ،جامعات کی ادھ کچی تحقیق اور کتابوں کی کساد بازاری دیکھ کے بعض اوقات خیال آتا ہے کہ ایسی کتابوں کا مستقبل کیا ہے؟ تاہم ہر لکھنے والا امید پرست ہوتا ہے اور پھر رضی الدین رضی تو ویسے بھی ایک فائٹر ہے مشکلات سے نہیں گھبراتا،بے روزگاری اس کا راستہ نہیں روکتی،پیسے دبا جانے والے مالکان جرائد اسے زیادہ دیر افسردہ نہیں کر سکتے وہ تمام یاس انگیز منظر کو اپنے قلم سے اور اپنے ایک قہقہہ سے توڑ سکتا ہے۔
انوار احمد

