لاہور : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ہم جن حالات سے گزررہے ہیں اس سے نکلنے کے لیے ہمیں متحد ہونا پڑے گا، میں سیاست اپنے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے کررہا ہوں، میں سب سے بات کرنے اور سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہوں اور میرے اوپر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو بھی ملک کی خاطر معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔
عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں، میں نے اپنی حکومت تحلیل کردی تھی اور کہا کہ الیکشن کراؤ لیکن سپریم کورٹ میں ہمیں شکست ہو گئی جو ہم نے قبول کر لی، ہم ان کی طرح روتے نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میں بار بار کہتا رہا کہ جب تک آپ اس ملک میں الیکشن نہیں کرائیں گے، ملک سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہو گا اور اگر سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہو گا تو معاشی استحکام بھی نہیں آئے گا، جیسے جیسے ہماری معیشت گرتی رہی، میں طوطے کی طرح کہتا رہا کہ الیکشن کراؤ لیکن پی ڈی ایم کی جماعتیں اور ان کے ہینڈلرز الیکشن کرانے سے ڈر گئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن اس لیے نہیں کرا رہے تھے کہ عوام تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہوتی گئی، پاکستان کی تاریخ میں کوئی حکومت گرائی گئی تو کبھی عوام اس کے لیے نہیں نکلی، حتیٰ کہ مارشل لا بھی لگتا تھا تو لوگ آ کر مٹھائیاں بانٹتے تھے، 90کی دہائی میں جو بھی حکومت گرتی تھی تو لوگ مٹھائیاں بانٹتے تھے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم سازش کر کے تبدیل کی گئی حکومت کو ہم نہیں مانتے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میری بات سننے کے بجائے ہمارے کارکنوں پر وہ سختیاں کی گئیں کہ میں جنرل مشرف کے مارشل لا سمیت ملک کی تاریخ میں کبھی وہ سختی نہیں دیکھی جو انہوں نے ہم پر کی، کارکنوں کو جیلوں میں ڈالا، کارکنوں پر ایف آئی آر پر ایف آئی آر کاٹتے رہے، کچہریوں میں چکر لگائے، ہراساں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے اوپر اب تک 73 ایف آئی آر کی گئیں، صرف اس لیے کہ شاید ان کی نظر میں ہم ڈر جائیں گے، گھبرا جائیں گے، دلبرداشتہ ہو جائیں گے، محب وطن صحافیوں پر ظلم کیا اور جو ارشد شریف کے ساتھ کیا وہ بھی قوم نہیں بھولے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی اور شہباز گل پر دوران حراست تشدد کیا گیا، ننگا کر کے تشدد کیا گیا اور ویڈیو بنائی گئیں، اعظم سواتی کی ویڈیو ہمارے رکن صوبائی اسمبلی کو دکھائی گئی جس سے کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ(ن) میں چلے جاؤ، عمران خان پر کانٹا ماردیا ہے، اسے اعظم سواتی پر تشدد کی ویڈیو دکھائی گئی، گندی ویڈیو، آڈیو لیکس، اعظم سواتی کی بیوی اور بیٹی کو گندی ویڈیو بھیجی گئی، اس ملک میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ جیل بھرو تحریک میں انہوں نے ہمارے لوگوں پر خاص ظلم کیا، انہیں مجرموں کی طرح رکھا گیا، کوئی سیاسی قیدیوں کے ساتھ یہ حرکت نہیں کرتا، مجھے معلوم ہے کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ کس نے کیا، وہ لوگ جو طاقت میں بیٹھے ہیں جیسے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور ہماری ایجنسیوں کے سب سے ظالم آدمی نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی لیکن پاکستان کی تاریخ میں اللہ نے کسی جماعت کو وہ عزت نہیں دی جو تحریک انصاف کو دی ہے۔
انہوں نے کہاکہ 37ضمنی انتخابات ہوئے، ساری جماعتیں ایک طرف تھیں، الیکشن کمیشن ان کی مدد کو آیا، انتظامیہ نے ان کی مدد کی، جو اپنے آپ کو نیوٹرل کہتے تھے وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے، اس کے باوجود 37 میں سے 30ضمنی انتخابات تحریک انصاف نے جیتے، جام پور کے ضمنی انتخابات میں لوگوں کو ڈرایا گیا، انتظامیہ اور ایجنسیوں نے زور لگایا، ڈرایا دھمکایا لیکن پوچھیں وہاں کیا ہوا، سای جماعتوں سے زیادہ ووٹ تحریک انصاف کے امیدوار محسن لٖغاری کے تھے، جنرل الیکشن سے بھی زیادہ ووٹ پڑ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اس صورتحال سے مزید ڈر گئے اور آئین میں 90دن کے الیکشن کا جو لکھا ہوا ہے لیکن گورنرز نے تاریخ نہیں دی، الیکشن کمیشن نے تاریخ نہیں دی تو بالآخر سپریم کورٹ نے اس پر ایکشن لیا اور آج ساری قوم سپریم کورٹ کی شکر گزار ہے کہ آپ نے اس ملک کے آئین کی حفاظت کی اور آپ نے ملک کو الیکشن کی راہ پر گامزن کیا۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان کو اس دلدل سے نکالنے کا ایک ہی طریقہ الیکشن ہے، اس کے علاوہ آپ جو بھی کریں گے ملک مزید دلدل میں دھنستا جائے گا، آج انہوں نے اس ملک کا وہ حال کردای ہے کہ جو دشمن بھی اس ملک کے ساتھ نہ کرے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

