ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹوئٹر کو چلانا بہت تکلیف دہ اور کسی رولر کوسٹر رائیڈ جیسا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے اعتراف کیا کہ ٹوئٹر کو چلانا بہت تکلیف دہ اور مشکل کام ثابت ہوا۔
انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر کوئی درست فرد ملا تو وہ اس سوشل میڈیا کمپنی کو فروخت بھی کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایلون مسک نے اکتوبر 2022 میں ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالرز میں خریدا تھا۔
انٹرویو کے دوران جب ایلون مسک سے ٹوئٹر کے سی ای او کے طور پر گزارے گئے وقت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ‘یہ بیزار کن نہیں بلکہ کسی رولر کوسٹر کی طرح ہے، گزشتہ چند ماہ بہت زیادہ تناؤ میں گزرے، مگر اس کمپنی کو خریدنا درست فیصلہ تھا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اکثر میں دفتر میں ہی لائبریری کے ایک صوفے پر سوتا ہوں’۔
ایلون مسک نے بتایا کہ انہوں نے ٹوئٹر کو اس لیے خریدا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ایسا کرنا چاہیے۔
ٹوئٹر کے مالک نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بہتر بنایا جائے گا اور ان کا مقصد اسے مستند ترین پلیٹ فارم بنانا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ کوئی نظام مثالی نہیں ہوتا مگر ہمارا مشن ٹوئٹر کو ہر ممکن حد تک سچ بولنے والا بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب حالات کافی حد تک بہتر ہو گئے ہیں اور آنے والے مہینوں میں کمپنی کے مالی حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔
ایلون مسک نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ اکثر متنازع ٹوئٹس کرتے ہیں۔
اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘کیا میں نے اپنے پیروں کو متعدد بار گولیاں ماری ہیں؟ ہاں یہ درست ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر کے کام کرنے والے افراد کی تعداد اب 1500 ہے، جو اکتوبر میں 8 ہزار کے قریب تھی۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

