حق تو بنتا تھا کہ سید حسین جہانیاں گردیزی کی گرفتاری کے خلاف کبیروالا میں ان کے کارکن نکلتے، احتجاج کرتے اور رہائی کا مطالبہ ہوتا لیکن آپ دیکھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہوا، کسی نے اخباری بیان تک جاری نہیں کیا۔
کبیروالا میں سیاست کرتے ہوئے حسین جہانیاں گردیزی کو چالیس سال ہو گئے ہیں وہ فیصل آباد یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ لیڈر رہے پھر ممبر ضلع کونسل خانیوال رہے ، بعد میں ایم پی اے بن کر کئی مرتبہ وزیر رہے، گزشتہ الیکشن 20ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیتے ، کبیروالا میں ان کا وسیع حلقہ احباب موجود ہے۔
وہ جیل میں بیٹھ کر سوچتے ضرور ہونگے کہ کبیروالا کی سیاست ان کیلئے کوفہ ثابت ہوئی ہے وہ بے گناہ ہونے کے باوجود حکومت کے سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ کوئی ہے جو ان کیلئے نکلا ہو کہ یہ سرا سر زیادتی ہے۔ کوئی بھی نہیں نکلا ۔
کل میں نے حسین جہانیاں گردیزی کی ہتھکڑیاں لگی تصویر فیس بک پر لگا کر پوچھا کہ ان کی فیلنگز ان حالات میں کیا ہو سکتی ہیں ؟
تو چوری کھانے والے کچھ ورکرز نے اپنی سیاسی نا فہمی کی وجہ سے اس کا غلط مطلب نکالا اور اوٹ پٹانگ حملے بازی کی ،زرعی سائنسدان راؤ عمران مانی سمیت چند پڑھے لکھے سمجھدار سیاسی ورکرز نے فیس بک پر کھل کر حسین جہانیاں گردیزی کو سراہا اور اس کے ساتھ سٹینڈ کرنے کا دعویٰ کیا۔
اگر حسین جہانیاں گردیزی صاحب اپنے اقتدار کے دنوں میں خوشامدی ٹولے سے بچ کر،چوہدریوں ، ملکوں، خانوں کی بجائے عام ورکرز کے ساتھ ڈائریکٹ ہوتے اور اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں ان کی سیاسی تربیت کرتے تو آج یقیناً لوگ ان کیلئے نکلتے۔ پر امن احتجاجی مظاہرے کرتے۔مذمتی بیانات جاری کرتے رہائی کا مطالبہ ہوتا،
کتنی حیران کن بات ہے کہ ایک شہر کا محسن کبیروالا لقب رکھنے والا شریف النفس سیاستدان دو ہفتوں سے جیل اور عدالتوں میں رُل رہا ہے لیکن اس کیلئے کارکن نہیں نکل رہے۔
دراصل کارکن لوگوں کی سیاست جو حسین جہانیاں گردیزی کو نیچے سے اوپر لائی وہ اب نہیں رہی اب کوٹھی کار بنگلے والے کی سیاست ہے جو بوقت ضرورت بندے ہائر کر کے شو کر سکے ۔
گردیزی صاحب کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے کارکنوں کو سائیڈ لائن کر کے کوٹھی کار بنگلے والے کو اہمیت دی انہی کو نوکریاں دلوائیں ، عام ورکرز نظر انداز ہوتے رہے۔نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
فیس بک کمینٹ

