رضی الدین رضی ملتان کے ادب و صحافت کا درخشندہ ستارہ ہیں۔ آپ بہت اعلٰی شاعر بھی ہیں اور نثر نگار بھی۔ نثر نگاری میں آپ کا اصل میدان کالم نگاری ہے۔ آپ کے کالم پچھلے چالیس سال سے مختلف اخبارات کی زینت بنتے چلے آ رہے ہیں۔ آپ بہت دبنگ کالم نگار ہیں اور لگی لپٹی بغیر بڑی جرا ت اور دلیری سے لکھتے ہیں۔ آپ مصلحت سے کام لینے کے عادی نہیں۔ جو بات محسوس کرتے ہیں، اسے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ ڈالتے ہیں خواہ اس کے لیے کتنی ہی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ ملتان کی تہذیب و ثقافت کو جس خوبصورتی سے اپنے کالموں میں محفوظ کر رہے ہیں، یہ صرف آپ ہی کا خاصہ ہے۔ ”پیر سپاہی اور ملتان کی دیگر کہانیاں“ ملتان کے موضوع پر یہ ان کی آٹھویں کتاب ہے۔ شاعری میں بھی وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ غزل اور نظم دونوں میں رضی الدین رضی نے کھل کر لکھا ہے۔ ان کی شاعری میں مزاحمت بھی ہے اور رومان بھی۔ اسی طرح آپ کی شاعری داخلیت اور خارجیت کا حسین امتزاج بھی ہے۔انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی میں بھی لکھا ہے۔ رضی صاحب کی اب تک چوبیس کتابیں شائع ہو کر اردو ادب کی نامور شخصیات اور ناقدین سے دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ آپ کی ڈائریوں میں موجود مواد اور ماضی کے اخبارات میں چھپنے والے کالم اس کثیر تعداد میں ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو مزید چوبیس کتابیں شائع ہو کر مارکیٹ میں آ سکتی ہیں۔ آپ داد و تحسین سے بےنیاز لکھتے رہنے اور کام کرتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔
پیر, اپریل 27, 2026
تازہ خبریں:
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
- ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی
- ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس میں قاتلانہ حملہ : بال بال بچ گئے
- امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اندھیر نگری چوپٹ راج : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی : وجاہت مسعود کا کالم
- ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی
- عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

