پاکستان کو برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد( جسے ”عظیم تقسیم“ کا نام بھی دیا گیا مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو دوبارہ آباد کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ لیکن پاکستان کی جاگیردار قیادت نے پہلے دن سےہی اپنا کھیل شروع کر دیا ۔ انہیں ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی اور اقتدار پر قابض ہونے کی جلدی تھی کیونکہ آزادی کے ایک سال کے اندر ہی بابائے قوم کا انتقال ہوگیا تھا۔ پاکستان میں مفاد پرست قوتیں اپنے استعماری آقاؤں کے کہنے پر ایک ایسی سوچ پیدا کرنے کے لیے صف آراء ہوئیں جو آج تک موجود ہے۔
حکمران جماعت کی دائیں بازو کی سازشوں کی بدولت جلد ہی آزاد خودمختار پاکستان امریکہ کی سرپرستی میں تشکیل پانے والے بغداد معاہدہ یا سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (CENTO) اور جنوب مشرقی ایشیائی ٹریٹی آرگنائزیشن (SEATO) میں شامل ہو کر سامراجی طاقتوں کا آلہ کار بن گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کی پاکستان کی غیروابستہ حیثیت مجروح ہوئی اور ملک کو مغربی سامراج کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس سارے عمل کو ایلیٹ کلاس اور سول، ملٹری بیوروکریسی کی پشت پناہی حاصل تھی جو اس کے ذریعے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی تکمیل چاہتے تھے ۔
سینٹو اور سیٹو میں شمولیت کا فیصلہ عوامی لیگ کی حکومت نے کیا تھا، جس کی قیادت حسین شہید سہروردی کر رہے تھے ، عوامی لیگ کے منشور کو مسترد کرتے ہوئے مولانا بھاشانی نے جو ، عوامی لیگ کے شریک بانی اور بانی صدر تھے اس فیصلے کی مخالفت کرنے اور NAP کی تشکیل کے لیے اپنی جماعت سے الگ ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
پاکستان کے سچے محب وطن ایک ایسے شخص کی قیادت میں جدوجہد کے لیے متحد ہو گئے جسے ”سرخا مولوی “ (سرخ مولانا) کہا جاتا ہے اور جس نے اپنے سیاسی دوروں کے لیے مغربی پاکستان میں آتے ہی اکثر جلاؤ گھیراؤ کا نعرہ بلند کیا۔
( جاری)
فیس بک کمینٹ

