اب جب کوئی راز راز نہیں رہا ، کوئی مقدس مقدس نہیں رہا ، سب کچھ کھل کے سامنے آ گیا ، سب شرفاء بیچ بازار ایک دوسرے کی دستار کشائی ہی نہیں جامہ کشائی بھی کر چکے ، وہ سیاہ ہوں یا سفید ، سبز ہوں یا سرخ ، بھلے خاکی ہوں سب کے اصل رنگ سب نے دیکھ لیے ۔۔۔۔ تو اب کیا کرنا چاہیے ۔۔۔ پس چہ باید کرد اے اقوامِ منتشرہ !
وہ سب متحد ہیں متفق ہیں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے اور آپ کو حقوق سے محروم رکھنے کے لیے۔
آپ نے دیکھ لیا کہ جن کی حفاظت کے لیے آپ گھر چھوڑ کر ان کے محلات کے سامنے خیمہ زن اور صف بستہ تھے انہوں نے بیک جنبش لب آپ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ۔ جو عشروں سے حکومت کر رہے ہیں انہوں نے واٹر مافیا سے پانی خریدنے والوں کے اطمینان قلب کے لیے اعلان کر دیا کہ میں بھی پانی ٹینکر والے سے خریدتا ہوں۔۔۔ لیکن گاف کورسز کے لیے اور غریب کاشت کاروں کے گوٹھ مسمار کر کے اور کھیت اجاڑ کر امرا کے لیے محلات تعمیر کرنے والے کے لیے پانی کی کمی نہیں ۔
وہ جن کے خون کے خلیے ایک دم نیچے چلے گئے تھے اور انہیں باہر بھیج دیا گیا تھا ، آپ ان کے لیے سڑکوں اور چوراہوں پر خوار ہو رہے تھے اور جیلوں میں جا رہے تھے ، وہ اپنی سرکار ہونے کے باوجود واپس وطن لوٹنے کو تیار نہیں جب تک جیل جانے کا صفر اعشاریہ صفر صفر کچھ بھی امکان ہے ۔
بڑے بڑے عہدوں کی بندر بانٹ جاری ہے ، کرکٹ کا چیرمین میرا ، بجلی کا تمہارا ، احتساب کا چیئرمین میرا ، انتخابی ادارے کا تمہارا ، نگراں وزیراعظم میرا اور وزیر اعلیٰ تمہارا ، بیشمار وزارتیں ، مشاورتیں ، معاونین خصوصی ، معاونوں کے معاون ، مشیروں کے مشیر ۔۔۔۔۔ اور آپ کے لیے ہر ماہ منہگائی انڈیکس بڑھا دیا جاتا ہے ، آپ کے ہاتھ پائوں باندھ کر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیا گیا وہ بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر آپ کا ماس کھا گئے لیکن ہڈیاں اور کھال چھوڑ دیے ، کھانے سے انکاری ہو گئے۔ اب منصوبہ ب آ رہا ہے لیکن یقین رکھیں وہ بھی آپ کے لیے نہیں ہے۔
کیا اب بھی آپ کے پاس کوئی جواز ہے کہ اس نام نہاد اشرافیہ کے لیے اپنی جانیں قربان کریں یا دامے درمے قدمے سخنے ان کے واری واری جائیں !
مجھے معلوم ہے کہ ان کے شر سے بچنے کے لیے آپ کو ان سے تعلق رکھنا پڑے گا ، آپ کی مجبوری ہے لیکن واجبی سا رکھیے ، عالم اضطرار میں خنزیر کھانا بھی جائز ہو جاتا ہے ۔ لیکن کام کیجیے کام کام اور کام ، حقیقی آزادی کے حصول کے لیے قدم بڑھاتے رہیں ، یاد رہے غلاموں کی غلامی آزادی نہیں ، حقیقی آزادی معاشی آزادی سے ملے گی ۔
میں نے اپنے قریبی قصبے کی ایک نئی کالونی میں کچھ سٹال دیکھے پکوڑے سموسے دہی بھلے وغیرہ کے اور وہاں کھانے والوں کا ہجوم بھی دیکھا تو اپنے ایک سیانے اور حقیقت آشنا دوست سے پوچھا یہ بھلا ایک دن میں کتنا کما لیتے ہوں گے ! بولے تم سے زیادہ اور انہوں نے اس مہنگی کالونی میں پلاٹ بھی خرید رکھے ہیں جو تم نہیں خرید سکتے۔ یقین کریں بہت خوشی ہوئی ، یہ لوگ حقیقی آزادی کی طرف تیز رفتار سفر کر رہے ہیں ۔ دوستو یہ ایم اے اردو ، ایم اے سرائیکی ، ایم اے ہسٹری ، ایم اے اسلامیات۔۔۔ ان میں کچھ نہیں رکھا ، وسائل ہیں تو بچوں کو کمپیوٹر کا علم دلائیے ، ڈیٹا سائنس، ، نیٹ ورکنگ ، ویڈیو میکنگ اور ایڈیٹنگ ، اس کے علاوہ اکاؤ نٹنگ ، مارکیٹنگ مینیجمینٹ سائنسز، آرکیٹیکچر، فوڈ انجینئرنگ ، انوائرمنٹ سائنسز ،بیالوجی وغیرہ ۔۔۔ ویسے یہ بھی لمبے پراجیکٹ ہیں ، بچوں کو بزنس کرائیے ، بیشک تھوڑے سرمائے سے شروع کیجیے ، کاٹیج انڈسٹری کی طرف توجہ دیں ، ایسے بیشمار چھوٹے چھوٹے یونٹ ہیں جنہیں آپ گھر میں انسٹال کر کے معاشی آزادی حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے وسیب ،اپنے ملک، دھرتی ماں اور دھرتی واسوں کی خدمت بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔ سیاسی شہزادوں سے کہیں زیادہ۔
آپ کاشتکار یا باغبان ہیں تو اپنی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کر سکتے ہیں ، یوٹیوب پر ایک بھنڈار ہے بلکہ ایک پورا جہان ہے ایسی ویڈیوز کا جو آپ کو یہ کاروبار اور یہ مینوفیکچرنگ سکھاتی ہیں ، اپنے پیسے اور وقت ٹک ٹاک دیکھنے یا تجزیہ کار یوٹیوبرز کی بکواس سننے میں ضائع کرنے کی بجائے ایسی ویڈیوز دیکھیں اور ان سے سیکھیں۔ یہ سچے لوگ ہیں ، محنت کش ، حق حلال کی روزی کمانے والے اور ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے والے ۔۔۔
یوٹیوب کے یہ گرو آپ کو حقیقی آزادی کے گر سکھائیں گے ۔۔۔
بچوں کو چپراسی چوکیدار ، کلرک ، لائن مین ، پٹواری ، کانسٹیبل بھرتی کرانے کے لیے وڈیروں کی کوٹھیوں پہ حاضریاں دینے سے نہ صرف آپ اپنی عزت نفس مجروح کرتے ہیں بلکہ بچوں کے ساتھ بھی ظلم کرتے ہیں۔
ایک بار پھر دہراتا ہوں معاشی آزادی ہی حقیقی آزادی ہے فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔

