ایک بار ایک ٹی وی کے مزاحیہ شو میں انور مقصود نے "بجلی ” کے کردار میں ڈھلی اداکارہ بشریٰ انصاری سے پوچھا کہ آپ کے خاندان میں سب سے ماڈرن کون ہے تو بجلی نے جواب دیا کہ میرے بھتیجے تار کیونکہ سارا دن سڑکوں پر ننگے پڑے رہتے ہیں یہی حال ہمارے ہاں کے نام نہاد ” لبر لز ” کا ہے۔
کل مجھے سوئیڈن میں ہو نے والے دل سوز ، غیر اخلاقی ، غیر انسانی اور جہالت اور مذہبی تعصب پر مبنی واقعے پر لنڈے کے لبرل کی ایک پوسٹ اور اس طرح کے دیگر ریشنلسٹ نام نہادوں کے خیالات دیکھ کر حیرت ہوئی جو مڈل ایسٹ میں کچھ دہشت گردوں کی اسلام کے نام پر قتل غارت کو جواز بنا کر پیش کررہے تھے ان کا خیال تھا کہ یہ واقعہ داعش ، طالبان ،القاعدہ النصرہ نامی مذہبی گروہوں کے ظلم و تشدد کا ردعمل ہے۔
تو اے لنڈے کے لبرل سنو
1-سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ جتنی بھی جہادی تنظیمیں یا جتنے بھی گروہ ہیں ان گروہوں کو کسی بھی اسلامی ملک نے نہیں بنایا پہلے روس کے خلاف افغانستان میں امریکہ نے اپنی جنگ کرنے کے لیے ان گروہوں کو پالا مسلح کیا اسلحہ دیا اور ہمارے اسلام کے ایک خاص فرقے کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر وہاں پر بہت سارے مسلح لوگ بھرتی کیے گئے اور یہ جہادی گروہ پیدا کیے گئے۔
جب یہ جہادی گروہ پیدا ہو گئے تو امریکہ کی سابق وزیر خارجہ اپنے وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی خارجہ کمیٹی اور سینٹ کی کمیٹی کے اجلاس میں جب اپنی رپورٹ پیش کی تھی تو دہشت گردی کے اسباب پر اس نے کہا تھا کہ ہم نے وہابی طرح کے اسلام کو سپورٹ کیا ان گروہوں نے جو ہے وہ دہشت گردی دنیا میں کر رہے ہیں اور امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اس کے بعد اسی طرح کی حرکتیں جب عراق پر قبضہ کرنے اور عراق کی تقسیم کی کوشش کی گئی تو وہاں پر بھی لوکل قوتیں کچھ ملک استعمال ضرور ہوئے لیکن وہاں پر بھی اس عراق کی تقسیم کے لیے بھی داعش/ ائی ایس کو جب بنیاد بنایا گیا تو جان مکین کی زیر صدارت یہ ساری کی ساری کاروائی سامنے آ ئی تو اس میں کوئی تحقیقات ہونی چاہیں اور یورپ کو بتائی جانی چاہئے کہ یہ دہشت گردی جو امریکہ اور یورپ نے پروان چڑھائی ہے اور اگر یورپ اتنا جاہل ہے اور اس کے اسباب جانے بغیر وہ قران پاک کو جلاتا ہے تو جاہل اور انتہا پسند وہ ہیں اور ہم نہیں ہیں۔ چلیں اب آ گے چلتے ہیں دوسری بات یہ ہے میرے بھائی اس بات کو وہ دیکھیں کہ کیا کسی بھی اسلامی ریاست ، اسلامی ملک چھوٹی یا بڑی سرکاری اور سول تنظیم نے ان دہشت گردوں کو تسلیم نہیں کیا اگر انہوں نے کسی کرسچن کو مارا تو کیا پورے اسلامک ورلڈ میں کسی کونسلر نے بھی صدر وزیراعظم تو دور کی بات ہے اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ ٹھیک ہوا ہے کیونکہ اسلام میں ایمان مکمل ہی تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں پر ایمان لائے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور پاکستان کے تو حلف میں بھی شامل ہے۔
ہمارے پاکستان میں واقعات ہوئے سخت سے سخت سزائیں دی گئی کئی لوگ ابھی تک جیلوں میں ہیں جو سزائے موت کے منتظر ہیں جو کہ اقلیتوں کے خلاف کار روائیوں میں مصروف ہیں اور ہمارے ہاں کسی بھی دنیا بھر میں اس ایکٹ کو کسی نے نہیں سراہا کیا کسی بھی ریاستی سطح پر لیکن اس کے دوسری طرف اپ دیکھیے کہ جیسے ہی یہ واقعہ ہوتا ہے سب سے پہلے ہالینڈ میں خاکے بنتے ہیں تو ہالینڈ کا وزیر داخلہ حمایت کرتا ہے فرانس میں چار لی ایبڈو خاکے شائع کرتا ہے تو مسٹر میکرون اس پہ خوش بھی ہوتے ہیں اور دوبارہ کرنے کا بھی کہتے ہیں اور اب تو غضب خدا کا کہ سویڈن کی حکومت اس کو سرکاری سطح پر اس کی سربراہی کر رہی ہے اور اس ملعون کو پولیس والا بجائے پکڑنے کے تحفظ دے رہا ہے اور ہمارے لوگ اللہ جانے ان کو کیا ہے کہ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے کہہ رہے ہیں او جی اس کی تحقیقات ضروری ہے کہ عراق سے وہ ایا تھا اور عراق کا وہ بندہ تھا اور یہ ردعمل تھا بھائی مجھے یہ بتائیں کہ کیا اب ایسے موقع پہ کہ اسلامک سینٹر کا انتخاب کرنا عید کے دن کا انتخاب کرنا یہ ایک بہت بڑی سازش ہے اس سازش کی تحقیق ہونی چاہیے کہ سویڈن نے کچھ ملکوں میں اپنے سفارت خانے بھی پہلے بند کیے اور اس کے بعد دو مہینے بعد یہ حرکت ہو گئی اور ہمارے ہاں یہ لنڈے کے لبرلز جو ہیں وہ اس بات کی توجیح پیش کر رہے ہیں اب سن لیں کہ میں لنڈے کے لبرل کیوں کہہ رہا ہوں ہمارے ہاں یورپ سے لنڈے کا لباس اتا ہے ہم وہ پینٹ کوٹ پہن کر اپنے اپ کو یورپین نہیں سمجھ جاتے اسی طرح یہ جو لبرلز ہیں یہ امریکہ اور برطانیہ کی خوشامد کر کے ویزا تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن برطانوی اور امریکی شہری نہیں بن سکتے لبرلزم یہ نہیں ہے کہ اپ کو ازادی حاصل ہے کہ جس کی مرضی دل آ زاری کریں جس کی مرضی دل سوزی کریں لبرلزم یہ ہے کہ خود بھی جییں اور دوسروں کو بھی جینے دیں ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک خاص مکتبہ فکر اسلام کا جو ہے وہ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہے اگر آ پ کو ان سے اختلاف ہے تو اس کو اس میں رکھیں خدانخواستہ اسلام کی یا پاکستان کی شکل کو نہ بگاڑیں ٹھیک ہے نا برائے مہربانی اپنے مسلکی جھگڑے کو مسلک تک رکھیں مسلک جھگڑے کی دشمنی کے نتیجے میں یہ نہ کہیں کہ جی یہ جو واقعہ ہے اس کا جواز وہ دہشت گردی ہے اسی لیے لنڈے کے لبرلز کو خیال کرنا چاہیے اور اگر وہ تھوڑے بہت کوالیفائیڈ ہیں تو اب ایجوکیٹڈ بھی ہو جائیں اور میں ہمیشہ کہتا ہوتا ہوں کہ جاہل ہونے کے لیے ان پڑھ ہونا ضروری نہیں یہ لوگ بڑی کتابیں پڑھ چکے ہیں بڑے ایک ہمارے ہاں ایک ریشنلسٹ یا ایک حقیقت پسند یا عقل پسندانہ اپروچ بھی شاید ہی اپنے اپ کو کہتے ہیں تو میرے بھائی عقل اپ کو یہ تو بتاتی ہے کہ میں نے کب اٹھنا ہے کب سونا ہے میری ازادی کیا ہے میری سوچ کیا ہے اپ کا ریشنل یا اپ کی عقلمندی اپ کو یہ نہیں بتاتی کہ دوسرے کا دل کیا ہے دوسرے کی سوچ کیا ہے دوسرے کے جذبات کیا ہیں اگر اپ کی یہ ریشنلسٹ اپروچ اپ کو اس بات پر سوچنے پر مجبور نہیں کرتی تو خدارا اپ عقل کے اندھے ہیں اپ کو خدا سے مدد مانگنی چاہیے کہ خدا اپ کو عقل سلیم عطا کرے کہ اپ کو اریشنلزم یہ تو بتا دے کہ کسی کے دوسرے کے مذہبی جذبات کی یا ذاتی جذبات کی توہین کر دو ریشنلزم کے نام پر تو اسی لیے میرے بھائی میرے الفاظ ذرا سخت ہیں میں سخت الفاظ پر بالکل معافی نہیں مانگوں گا میں خدا کے ہاں سرخرو ہونا چاہتا ہوں میں ان دیسی قسم کے لنڈے کے لبرل/ ترقی پسند /ریشنلسٹ جو کہ اتنے ہی ملعون ہیں جتنا کہ وہ شخص جس نے قران پاک کی بے حرمتی کی اگر یہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں تو امید ہے کہ روز قیامت اسی کے ساتھ ہی اٹھیں گے ،
فیس بک کمینٹ

