پاکستان کے بعض حلقے ابھی چند پاکستانی لڑکیوں کے عالمی مقابلہ حسن میں شرکت کے ’صدمے‘ سے ہی جاں بر نہیں ہوئے تھے کہ ملک کے نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عہدے کا حلف لیتے ہوئے اپنی اہلیہ سرینہ عیسی ٰ کو اپنے ہمراہ کھڑا کیا۔ اس وقت ان دو معاملات کو لے کر سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ بعض مین اسٹریم میڈیا میں بھی مباحث کا سلسلہ دراز ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک کی ترقی کا راستہ خواتین کے حقوق مسترد کر کے اور انہیں نظر انداز کر کے ہی ہموار ہو سکتا ہے؟
اصولی طور سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا عمل بنیادی سماجی و اخلاقی روایات کی عکاسی کرتا ہے اور اس ایک تصویر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام تر ذہنی ابتری کے باوجود اب بھی پاکستان میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے قول و فعل اور طرز عمل سے دنیا کی مثبت، قابل قدر اور انسانی مساوات پر مبنی روایات پر عمل کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں اور اس بارے میں سامنے آنے والے رد عمل سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ درحقیقت یہی رویہ پاکستان کو کسی حد تک عالمی فورمز پر احترام دلوانے کا سبب بنتا ہے اور دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ تمام تر مسائل کے باوجود اس ملک میں اب بھی نارمل کہلانے کی صلاحیت موجود ہے۔ البتہ اس خوبی کو دبانے اور نظرانداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کسی معاشرے میں صنفی مساوات حاصل کرنے کے لیے متعدد عوامل اہم ہوتے ہیں۔ ان میں تعلیم و روزگار کے یکساں مواقع کے علاوہ تعصبات سے نمٹنے اور تعلیمی اداروں کے ذریعے باہمی احترام کے طرز عمل کو فروغ دینے کی کوششوں کو بھی دخل ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے کم وسیلہ ملک میں جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہو اور قومی پیداوار تنزلی کا شکار ہو، صنفی تخصیص سے قطع نظر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوں اور لوگوں کو پیٹ بھرنے کے لیے یا تو ملک چھوڑنا پڑے یا خیرات و فلاحی اداروں کی امداد پر انحصار کرنا پڑے، وہاں یہ قیاس کر لینا درست نہیں ہو سکتا کہ عورتوں اور مردوں کو مساوی حقوق حاصل ہوجائیں گے۔ یا ہر شعبہ زندگی میں انہیں یکساں مواقع نصیب ہوں گے۔
لیکن اس کے ساتھ ہی یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ ایسے معاشرے میں مرد و زن کے درمیان مساوات قائم کرنے، دونوں کو معاشرے میں یکساں مقام دینے، سماجی رتبہ میں اونچ نیچ کے تصور کو ختم کرنے اور عورت کو صنف نازک قرار دے کر متعصبانہ، جارحانہ یا سوقیانہ رویوں کی بیخ کنی کے لیے زیادہ مستعدی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی پاکستان میں اگر وسائل کی کم یابی، قومی سطح پر پائی جانے والی ’غربت‘ کی وجہ سے سب شہریوں کو تعلیم، روزگار اور مختلف شعبوں میں برابر مواقع دینا ممکن نہیں تو کم از کم سماجی سطح پر ایسا مزاج استوار کیا جائے کہ صنفی امتیاز کو باعث افتخار سمجھنے کی بجائے ایک بری علت مانا جائے اور سب مل جل کر ایسے متعصبانہ اور امتیازی رویوں کے خلاف کام کرنے کا عزم کریں۔
اصولی طور سے یہ ذمہ داری ملک کے تعلیمی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ حکومتوں کا کام ہے کہ وہ اسکولوں و یونیورسٹیوں میں نصاب کی نگرانی کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ طالب علم شروع ہی سے یہ سبق سیکھیں کہ کسی فرد کی صلاحیت، اہلیت اور خوبی کا تعین اس کی صنف، رنگ و نسل، ذات برادری یا عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا نظام تعلیم شدید بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف یہ طبقاتی تقسیم کی علامت بن گیا ہے تو دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اچھی تعلیم کا حصول صرف دولت مند طبقہ کا ہی حق ہے۔ کسی ملک میں نجی تعلیمی ادارے تعلیمی سہولتوں کو بہتر بنانے کا موثر ذریعہ ہوسکتے ہیں لیکن یہ کام اسی صورت میں مثبت طریقے سے آگے بڑھ سکتا ہے جب سرکاری اسکول کا نظام ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہو۔
اس کے برعکس پاکستان میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سرکاری اسکول مسلسل انحطاط کا شکار ہیں جبکہ نجی اسکولوں کو فروغ نصیب ہو رہا ہے۔ تعلیمی ادارے چلانے والے افراد یا گروپ بنیادی طور پر منافع خوری کے نقطہ نظر سے کام کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اسکول معاشرے میں اخلاقی بنیادیں استوار کرنے کی بجائے، ان کی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ ہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط تعلیمی نظام کے زوال کی یہ کہانی اب سنگین صورت اختیار کرچکی ہے۔ سرکاری اسکول کی سہولت سے استفادہ کرنے پر مجبور بچے اردو میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، انہیں اچھے استاد، کتابیں اور ماحول دستیاب نہیں ہوتا اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد معاشرے میں انہیں نہ احترام ملتا ہے اور نہ ہی روزگار حاصل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
اس کے برعکس نجی ادارے وسائل سے مالامال ہیں۔ والدین جتنی فیس ادا کریں، اسکول کی انتظامیہ اسی حساب سے سہولتیں فراہم کرنے پر آمادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجی اسکولوں کی فیسیں چند ہزار سے لاکھوں روپے ماہانہ تک ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سالانہ فی کس آمدنی دو ہزار ڈالر سے بھی کم ہو کسی طالب علم کے لئے اتنی ہی ماہانہ فیس کا تعین بجائے خود ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب ہر حکومت اور ہر ذمہ دار ریاستی ادارے پر واجب ہے۔ تاہم نجی شعبے میں وسائل کی اس فراوانی کے باوصف سماجی رویوں کی تشکیل میں یہ ادارے بھی کوئی مثبت کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ ایک تو نصاب کی عمومی کمزوری اس کی وجہ ہے لیکن دوسرے نجی تعلیمی ادارے اب معاشرے کی طبقاتی تقسیم کی علامت بن چکے ہیں۔ کسی طالب علم کی شناخت اس حوالے سے ہوتی ہے کہ وہ کس اسکول میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔ بدنصیبی سے معاشرے میں کامیابی کے امکانات بھی اسی حساب سے میسر ہوتے ہیں۔
گویا ایک تو معاشرے میں پہلے ہی مواقع کم ہیں، پھر ان کے حصول کے لئے منصفانہ نظام موجود نہیں ہے۔ بلکہ کوئی فرد صرف صلاحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ طبقاتی پس منظر اور خاندانی وسائل کی صورت حال کے حساب سے عہدوں، ملازمتوں اور دیگر سہولتوں میں حصہ حاصل کرتا ہے۔ سماجی طور سے چونکہ لڑکیوں کو نظرانداز کرنے کا چلن عام کیا گیا ہے، اس لیے انہیں روزگار حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی جد و جہد کرنا پڑتی ہے۔ اور انفرادی صلاحیت کے بل بوتے پر کامیابی کی صورت میں بھی تعصب، طعنوں، جنسی زیادتی اور متعدد دیگر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان رکاوٹوں کو کھڑا کرنے میں پاکستان کے نظام تعلیم اور نصاب نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
یہ تو اسکولوں کے عام نظام کا احوال ہے۔ لیکن دین کے نام پر قائم کیے گئے مدارس کی صورت حال اس سے بھی ابتر ہے۔ ایک تو مدارس منظم کرنے والے مذہبی لیڈروں اور ان کے پشت پناہ سیاسی گروہوں نے ان مدارس میں اصلاح کو شجر ممنوعہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح وہ نصاب کے بارے میں کوئی مکالمہ کرنے اور طالب علموں کو معاشرے کا صحت مند شہری بنانے کے لیے کوئی حکمت عملی اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور سماجی ناہمواری کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے لیے دینی مدارس ہی واحد آپشن رہ جاتا ہے جہاں ’صدقہ و خیرات و ذکات‘ سے حاصل وسائل سے تعلیم کے علاوہ عام اور متعدد صورتوں میں رہائش کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ دیکھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے کہ ان مدرسوں میں کیا پڑھایا جاتا ہے، جسے کھانے پینے کی سہولت کا نام دیا جاتا ہے، اس کی نوعیت کیا ہے اور وہاں تعلیم پانے والے یا قیام کرنے والے طالب علموں کی بہبود کی نگرانی کیسے کی جائے۔
دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں دہشت گردی کی کارروائی کے بعد اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت ایک قومی ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔ اس پلان کے تحت دینی مدارس کے نصاب کی نگرانی کا وعدہ کیا گیا تھا تاکہ دینی اداروں میں مذہبی شدت پسندی کی تبلیغ کا قلع قمع ہو اور یوں ملک میں دہشت گردی کی صورت حال پر قابو پایا جا سکے۔ لیکن ایک دہائی گزرنے کے باوجود مدارس کا انتظام کرنے والے مذہبی لیڈروں نے اپنے نظام میں کسی قسم کی اصلاح یا نگرانی کو قبول نہیں کیا۔ کسی سیاسی حکومت کو اتنا حوصلہ نہیں ہوا کہ اس قومی فیصلے پر ریاستی طاقت کے ذریعے عمل درآمد کروا سکتی۔ ان مدارس میں جو ذہن سازی کی جاتی ہے، اس کی نمائندگی گزشتہ دنوں دارالعلوم کراچی کے مہتمم مفتی تقی عثمانی کے اس بیان میں ہو جاتی ہے جس میں مقابلہ حسن میں چند لڑکیوں کی شرکت کو ’قومی زوال‘ کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مفتی صاحب کی نگرانی میں چلنے والا دارالعلوم پاکستان کے اعلیٰ مدارس میں شامل ہوتا ہے جہاں سہولتوں کا فقدان نہیں ہے۔ اسی سے ان مدارس میں دی جانے والی تربیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جہاں دیگر سہولتوں کے علاوہ مستند استاد بھی دستیاب نہیں ہوتے۔
ملک میں صنفی مساوات ایک اہم موضوع ہے جسے قومی مباحث میں بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے لیکن مقابلہ حسن میں لڑکیوں کی شرکت کے علاوہ چیف جسٹس کی اہلیہ کا حلف برداری کے موقع پر اپنے شوہر کے ہمراہ کھڑے ہونے کے واقعات پر جس طرح حرف زنی کی گئی ہے اور اسے قومی اخلاق پر حملہ قرار دینے کی کوشش ہو رہی ہے، اس سے اس ذہنی افلاس اور کم ظرفی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے جو اس وقت اقوام عالم میں عزت و وقار پانے کے لیے پاکستان کو درپیش ہے۔ اس پس منظر میں سرینہ قاضی نے جس حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، اسے ملک میں صنفی مساوات کے لیے نیک شگون سمجھنا چاہیے۔
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

