راول پنڈی : عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان کی سب سے بڑی غلطی 9 مئی کے واقعات تھے، 9 مئی ہمارے اور عمران خان کے لیے سیاہ ترین دن تھا۔
نجی چینل سما نیوز کے پروگرام ’میرے سوال ود منیب فاروق‘ میں میزبان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان میں میری سب سے چھوٹی پارٹی ہے جس کے پاس ایک نشست ہے اور میں پہلے دن سے پاک افواج کے ساتھ ہوں۔
شیخ رشید نے کہا کہ ’میں کل بھی فوج کے ساتھ کھڑا تھا، آج بھی فوج کے ساتھ کھڑا ہوں اور اصلی و نسلی ہوں‘۔انہوں نے کہا کہ ’میں بڑی دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں پاک فوج دنیا کی عظیم افواج ہے اور میں نے سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی یہ درخواست کی تھی کہ ان کے ساتھ بنا کر رکھیں‘۔
شیخ رشید نے کہا کہ ’یہ عجیب اتفاق ہے کہ جو تین لوگ عمران خان کی طرف سے پاک فوج سے مذاکرات کر رہے تھے ان تینوں نے اپنی جماعت بنالی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’9 مئی کے واقعات کے وقت میں پاکستان سے باہر تھا، اگر ہوتا بھی تو کیا کرلیتا، میں نے 10 مئی کو واقعات کی مذمت کی لیکن وہ سنی نہیں گئی‘۔
CC نے کہا کہ ’پاک فوج جیسے اداروں کے نام نہ لیے جائیں، یہ ملک اداروں کےبغیر نہیں چل سکتا، معیشت کے جو حالات ہیں ملکی اداروں اور سیاست دانوں کو مل کر چلنا چاہیے اور جب کسی ادارے کی سیاست دان سے لڑائی ہوتی ہے تو ادارہ ہی جیت جاتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی نہیں بنتی تھی اور یہ میں کہتا بھی رہا ہوں، جب مذاکرات ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ میں بھی اس میں اپنا حصہ ڈالوں کیونکہ پنڈی کے لوگوں کا کسی نہ کسی فوجی افسر سے تعلق رہتا ہے لیکن عمران خان کی طرف سے مجھے منع کیا گیا‘۔
شیخ رشید نے کہا کہ ’جو لوگ مجھے جانتے ہیں ان کو پتا ہے کہ میں فوج کے خلاف نہیں جا سکتا، ہمارے مسائل اتنے الجھ گئے ہیں کہ ان کو سلجھانا چاہیے‘۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ہماری غلطی وہیں سے شروع ہوئے کہ ہم نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے کہا کہ ’آبیل مجھے مار‘، جو فیصلہ آرمی چیف کرتا ہے وہی پوری فوج کو ہوتا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان ایک ضدی سیاست دان ہیں، 9 مئی کے واقعات کی ہر جمعے کے خطبے میں مذمت کرنی چاہیے، میں نے جب 10 مئی کو مذمت کی تو اداروں میں موجود میرے دوستوں نے کہا کہ ہم نے مذمت نہیں دیکھی اور میں دوسرے مرتبہ مذمت کرکے ان کو بیان بھیجا لیکن پھر بھی وہی جواب ملا‘۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

