لاہور : معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ قذافی اسٹیڈیم میں اداکردی گئی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔عاصمہ جہانگیرکی نماز جنازہ مولانا مودودی کے صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی، نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی شخصیات، وکلا اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت ہزاروں خواتین نے شرکت کی پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا جنازہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں خواتین شریک ہوئیں ۔عاصمہ جہانگیر کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی سلیمہ آج بیرون ملک سے واپس پاکستان پہنچی ہیں،جبکہ عاصمہ جہانگیر کی تدفین ان کے فارم ہاؤس بیدیاں روڈ پر کی جائے گی۔عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جانے والی عاصمہ جہانگیر کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں خاص شہرت حاصل تھی اور انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عاصمہ جہانگیر کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کرنے کے لیے وزیر اعظم کو خط لکھا تھا اور ان کی تدفین کے دوران قومی پرچم سرنگوں کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
منگل, اپریل 28, 2026
تازہ خبریں:
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
- ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی
- ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس میں قاتلانہ حملہ : بال بال بچ گئے
- امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اندھیر نگری چوپٹ راج : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی : وجاہت مسعود کا کالم
- ایران امریکہ مذاکرات ۔۔ برف ابھی پگھلی نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی
- عمران خان کے ساتھ ناانصافی، سیاسی اعتماد کیسے بحال ہو گا ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

