نفسا نفسی کا عالم ہے۔۔سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔۔تعلیم ہو طب ہو کہ تعلق داریاں ہوں سب اپنے نفع کے حصول کی لاحاصل دوڑ کا حصہ ہیں۔۔ایسے میں زمانے کی سختیوں اور تلخیوں سے گھبرا کر زندگی کی دوڑ سے قبل از وقت شکست تسلیم کرنے والوں کی کس کو فکر ہو گی۔۔۔سبقت لے جانے کی دوڑ میں کون ہے جو کسی کو خاک میں مل جانے سے بچانے کی سعی کرتا ہے؟؟کوئی نہیں۔۔۔۔ہمارے اس خيال کی نفی کر کے ہمیں بے لوث اور بے غرض محبتیں اور شفقت بھری عقیدتیں کر کے دکھانے والی شخصیت، ہمیں حقیقی معنی میں تربیت کی اہمیت، لفظوں کے تقدس اور اہل قلم اور اہل زبان کی حرمت سکھانے والے،سب کے حبیب اور ہمارے سر حبیب الرحمن بٹالوی۔۔
سر نے اس محبت کے لیے ترستی ہوئی دنیا میں کہاں کہاں اپنی محبتوں کے خزانے لٹا کر اپنے لیے محبتوں عقیدتوں اور دعاوں کے کھاتے کھول رکھے ہیں سر بھی نہیں جانتے۔۔۔اپنی زندگی کی سختیاں کبھی بھولے نہیں اور ان کو اپنی کمزوری بنایا نہیں۔۔۔خود جس دکھ کو محسوس کیا اس سے تا حیات دوسروں کو بچانے کی سعی کرتے رہے۔۔۔برداشت کے ریگ مار سے زندگی کے کونے رگڑ کر زندگی ہموار کرتے رہنے کی نصیحت کرتے اور آخری دم تک تکلیف اور زخم کو چھپانے کی کوشش میں مگن رہے۔۔۔
مجھے لفظوں کی دنیا سے متعارف کرانے اور حوصلہ افزآئی کرتے رہنے ، میری زندگی کے تاریک ترین ادوار میں امید اور ہمت کے راستے کی نشاندہی کر کے ،مجھے بے لوث اور بے غرض محبتیں بانٹنے ، مجھے ملتان کے محترم اہل قلم میں اپنے شاگرد کے طور پر متعارف کرانے اور بیٹی کہہ کر ڈھارس بندھانے والے استاد محترم ایسے مجھے اور اپنے کئی شاگردوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں جن کو آپ کے شاگرد ہونے پر ہمیشہ حیرانی رہی کہ سر کیسے ہمیں مل گئے۔۔آج کے دور میں کون ہے جو اپنے شاگردوں کی مالی ،جزباتی اور روحانی مدد کر کے انہیں اس معاشرے کا سودمند حصہ بنانے کا حوصلہ رکھتا ہے؟؟؟آپ انشاءاللہ جنت کے سب سے بہترین رتبے پر ہوں گے اور بہت خوش اور مطمئن ہوں گے۔۔۔۔ہم آپ کے شاگرد ہو کر بھی خودغرض ٹھہرے کہ ہم آپ کے جانے سے اپنے اکیلے رہ جانےکے نقصان پر بے جان ہیں۔۔۔نہ پیروں تلے زمین محسوس ہو رہی ہے نہ سر پر آسمان ہے بس اسی بات کا مان ہے کہ آپ ہمارے استاد ہیں آپ ہماری پہچان ہیں
فیس بک کمینٹ

