الیکشن کمیشن آف پاکستان بڑی آسانی سے دھاندلی کے تمام الزامات کو فوری طور پر جھٹلا سکتا ہے اگر وہ متعلقہ حلقوں کے فارم 47 کے ساتھ ہر امیدوار کے ہر پولنگ سٹیشن میں حاصل کردہ ووٹ کی تفصیل بھی سرکاری طور پر جاری کر دے۔ آخر ایسی دستیاب تفصیل کے ساتھ ہی تو کمیشن نے فارم 47 تیار کیا ہوتا ہے۔ بظاہر تو فارم 45 کی شکل میں یہ ڈیٹا ہر پولنگ سٹیشن پر تعینات ہر امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کو موقعے پر دیا جاتا ہے مگر اِن سینکڑوں فارموں کو اکٹھا کر کے امیدواروں کی تیار کردہ ڈیٹا شیٹ عدالتوں میں قابلِ غور دستاویز نہیں تسلیم کی جاتی جب تک ایسی شیٹ پر الیکشن کمیشن کی مہرِ تصدیق ثبت نہ ہو-
الیکشن کمیشن کیطرف سے ایسی ڈیٹا شیٹ اپنی مُہر کیساتھ جاری نہ کرنے کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ اُسکا RO جان بوجھ کر کچھ جیتے امیدواروں کو ھروا دے اور جب تک عدالتیں کمیشن کے امیدواروں کو جاری کردہ سینکڑوں فارم 45 کی تصدیق کرنے کا عمل پورا کریں اُس وقت تک 15 یا 20 یا اُس سے بھی زیادہ حلقوں کے معاملات لٹکا کر مخصوص پارٹی کی نئی حکومت کی تشکیل آسان بنائی جا سکے۔ یوں تو عدالتوں میں ایسی چوری پکڑی ہی جانی ہے مگر کئی ماہ یا کئی سال تک عدالتوں کے دھکے کھانے والے امیدواروں کی پارٹی وفاداری بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ تبدیل کروانا آسان ہو جاتا ہے۔
پولنگ سٹیشن میں حاصل کردہ ہر امیدوار کے ووٹوں کی معلومات بغیر کسی قانون یا قواعد میں ترمیم کے بھی جاری کی جا سکتی ہے۔ پولنگ سٹیشنوں کا یہی وہ ڈیٹا ہے جو اگر RTS یا پھر EMS کے ذریعے فوری ROs تک پہنچ جاتا تو RO بھی فارم 47 کیساتھ ہر پولنگ سٹیشن کے اِس ڈیٹا کو بھی جلد جاری کرنے پر مجبور ہو جاتا اور پھر نتائج میں ردِ و بدل کے کئیے کسی کو ٹائم ملتا اور نہ ہی ایسا ممکن ہوتا۔ شاید اسی لئیے ماضی میں نہ RTS چلا نہ EMS اور یہ چل پڑتے تو سوال اُٹھتا کہ جب ہر امیدوار کے ہر پولنگ سٹیشن کے ووٹ کا ڈیٹا ایک بٹن دبا کر حاصل ہو سکتا ہے تو پھر اِسے فارم 47 کیساتھ ہی جاری کیوں نہیں کیا جاتا۔
اگر پولنگ سٹیشن وائز ڈیٹا فارم 47 کیساتھ جاری ہو جائے تو ہماری عدالتوں اور اِس قوم کا قیمتی وقت ضائع ہی نہ ہو ۔ فارم 47 میں امیدواروں کے نام کیساتھ صرف پورے حلقے سے حاصل کردہ امیدوار کے کل ووٹ درج کئیے جاتے ہیں جو پولنگ سٹیشنوں کے ڈیٹا پر مشتمل کمیشن کی اپنی مصدقہ ایکسل شیٹ کی مدد سے تیار ہوتا ہے۔ جبکہ امیدواروں کی اپنی ایکسل شیٹ غیر مصدقہ ہونے کے باعث عدالتوں میں بھی قابل قبول نہیں ہوتی اور ایک حلقے کی سینکڑوں فارم 45 کا جائزہ لیتے عدالتیں کئی ہفتے،مہینے اور سال بھی لگا دیتی ہیں۔ عدالتیں کہتی ہیں الیکشن ٹریبونل میں جائیں جو الیکشُ کے متعلقہ حلقوں کے متنازعہ نتائج کے چند ہفتے بعد نوٹیفیکیشن کے وقت ہی تشکیل پاتے ہیں۔
اِس تمام دھاندلی اور محض ووٹوں کی تعداد میں ردوبدل کے الزامات کو الیکشن کمیشن ایک بٹن دبا کر جھٹلا سکتا ہے۔ بس اتنا کرنا ہے کہ الیکشن کمیشن رضا کارانہ طور پر یہ ہر حلقے کے فارم 47 کیساتھ پولنگ سٹیشنوں کے فارم 45 کے ڈیٹا پر مشتمل ایکسل شیٹ والا ڈیٹا بھی جاری کر دے۔ یا پھر اسکو کم از کم اُن حلقوں کے فارم 47 سمیت اپنی ویب سائٹ پر ڈال دینا چاہئیے جن متعلق کسی متاثرہ امیدوار کو شک پیدا ہوا ہو۔ آٹھ فروری کی رات نتائج میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے خصوصی سیل کے دو اعلی افسران سے ایسے ڈیٹا جاری نہ ہونے کا پوچھا تو اِسکا کوئی جواب نہ ملا، ایک افسر نے رازداری میں کہا کہ ایک حلقے کے سینکڑوں فارم 45 ایک امیدوار کو مل بھی جائیں تو انہیں عدالتوں میں ثابت کرتے جو وقت لگتا ہے اُس وقت نئی حکومت انجینئیر ہو چکی ہوتی ہے اور اگر یہ آپکا تجویز کردنیا ڈیٹا فارم فوری جاری ہو گیا تو سارا رولا ہی ختم ہو جائیگا۔
فارم 45 اور 47 کے بیچ امیدواروں کے پولنگ سٹیشن وائز مرتب ووٹوں کے ڈیٹا کو نئے فارم کی شکل بھی دی جا سکتی ہے جسکو الیکشن والے دن غیر حتمی نتائج کیساتھ جاری کرنا لازمی قرار دے دیا جائے تو ریٹرننگ افسروں کی سطح پر نتائج کی تبدیلی ناممکن بنائی جا سکتی ہے۔ یہ وہ ڈیٹا ہے جو RO کی طرف سے امیدواروں کے ایجنٹوں کو فوری طور پر اور پوری طرح فراہم نہ کر کے دھاندلی اور غیر ضروری مقدمہ بازی کا چور دروازہ کھولا جاتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

