ہمیں آخر سچ سے ڈر کیوں لگتا ہے؟ کیا ہماری بنیاد واقعی اتنی کمزور ہے جسے مضبوط بنانے کے لیے ہمیں جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے؟ میں خود ایک عرصے تک مطالعہ پاکستان میں لکھے صاف جھوٹ کو سچ سمجھتا رہا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آج بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔ لیکن اب بھی بہت سے لوگ پاکستانی سلیبس میں لکھی گئی جھوٹی تاریخ کو سچ سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں جن پر کوئی بات نقش ہو جائے تو اسے اتارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جھوٹے عقائد کو کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہی اپنے مطالعے کو وسیع کر کے اپنے ذہنوں سے کھرچ سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں مطالعے کا رواج ہی نہیں ہے۔ ہماری اکثریت عام طور پر کورس سے باہر کی ایک ہی کتاب پڑھتی ہے، اسے بھی سمجھے بغیر پڑھتی ہے کیونکہ سمجھنے کے لیے ذہن پر زور ڈالنا پڑتا ہے جس کی ہمیں تربیت ہی نہیں دی جاتی۔
آج میں نے بی بی سی کے سوشل میڈیا پیج پر عقیل عباس جعفری صاحب کا ایک مضمون سنا۔ عقیل عباس جعفری پاکستان میں ایک محقق کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کا لکھا ہوا مستند تصور کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ سن کر بےحد افسوس ہوا کہ جعفری صاحب نے سندھ کی تاریخ پر مضمون لکھتے وقت پیشہ ورانہ دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ مطالعہ پاکستان اور دیگر تدریسی کتب میں برصغیر میں اسلام کی آمد کے بارے میں محمد بن قاسم کا ذکر ملتا ہے۔ محمد بن قاسم کو فاتح سندھ کے طور پر لکھا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس نے دیبل کو فتح کر کے ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ راجہ داہر کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ایک ظالم حکمران تھا، سندھ کے لوگ اس سے تنگ تھے اور وہ بحری قزاق بھی تھا۔ کورس کی کتابوں میں درج کیا گیا ہے کہ محمد بن قاسم ایک مسلمان خاتون کی پکار پر سندھ فتح کرنے گیا تھا جسے راجہ داہر نے بحری سفر کرتے ہوئے قید کر لیا تھا۔یہ سب سفید جھوٹ ہے۔پاکستان کے بہت سے سچے مورخین نے اس جھوٹی تاریخ کو مسترد کیا ہے لیکن وہ چونکہ عقیل عباس جعفری کے طرح پاکستانی ملا ملٹری ریاست کے وظیفہ خوار نہیں ہیں اس لیے نہ تو ان کی تحاریر کو سلیبس میں جگہ ملتی ہے اور نہ ہی انہیں کسی حکومتی تمغے کے لائق سمجھا جاتا ہے۔
حقیقی تاریخی کتب میں یہ صاف لکھا ہے کہ محمد بن قاسم ایک بیرونی حملہ آور تھا جسے اموی حکمران حجاج بن یوسف نے سندھ کو فتح کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ سندھ کو فتح کرنے کا مقصد اسلام پھیلانا نہیں بلکہ وہاں جا کر لوٹ مار کرنا تھا۔ کچھ روایات کے مطابق حجاج دشمن اہل بیت (ع) تھا اور اس نے محمد بن قاسم کو خانوادہ رسول (ص) کے ان افراد کو قتل کرنے کے لیے سندھ روانہ کہا تھا جنہیں راجہ داہر نے پناہ دی تھی۔ عقیل عباس جعفری نے اپنے مضمون کے بیچ میں کچھ حقائق بھی بیان کیے ہیں لیکن انہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ راجہ داہر نہیں بلکہ خود حجاج بن یوسف اور اس وقت کا خلیفۃ المسلمین ظالم حکمران تھے۔ جعفری صاحب نے حوالے دے کر بیان فرمایا ہے کہ اس وقت کے خلیفۃ المسلمین نے محمد بن قاسم کو جانور کی کھال میں اتر کر خودکشی پر مجبور کر دیا تھا۔ اس قتل کی وجہ یہ تھی کہ اسے شک ہو گیا تھا کہ محمد بن قاسم نے اس سے پہلے ہی راجہ داہر کی بیٹیوں کو چھو لیا تھا جنہیں محمد بن قاسم نے کنیزیں بنا کر حجاج بن یوسف کی خدمت میں بھیجا تھا۔ عقیل جعفری صاحب نے اپنے مضمون میں وہ سب تاریخی حوالے جمع کیے ہیں جن کے مطابق راجہ داہر ایک سفاک ڈاکو تھا اور اس کی بیٹیاں جنہیں کنیزیں بنا کر خلیفہ کے دربار میں پیش کیا گیا تھا عیار اور مکار۔ لیکن انہوں نے ان حوالوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جن کے مطابق راجہ داہر رحمدل اور مقبول حاکم تھا۔
میں مانتا ہوں کہ مورخ تاریخ سے دونوں طرف کے حوالے جمع کرتا ہے لیکن اسے تاریخ کو درست کرنے کے لیے اپنا غیرجانبدارانہ موقف بھی پیش کرنا چاہیے کہ کس طرف کے حوالے زیادہ مضبوط ہیں۔ پاکستانی صحافت بھی ایک مافیا ہے جس میں ریاست کی چاپلوسی کر کے انعام و اکرام حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک مورخ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ تاریخ میں درج کسی بھی ابہام کو درست کرے اور نئی نسل تک سچی تاریخ پہنچائے۔ سچ تو آخر سچ ہی ہوتا ہے اور بالآخر کھل ہی جاتا ہے لیکن ساتھ ہی تاریخ بھی ایک دن جھوٹے اور منافق تاریخ دانوں کو ان کی کچرا تحاریر سمیت اپنے کوڑے دانوں میں پھینک دیتی ہے۔نئی نسل کو چاہیے کہ وہ کسی بھی لکھی ہوئی تاریخ کو ہمیشہ تنقیدی نقطہ نظر سے پڑھے، اس پر سوال اٹھائے، اپنے مطالعے کو وسیع کرے اور صرف کورس کی کتابوں تک محدود نہ رہے۔
فیس بک کمینٹ

