اسلام آباد:وزیرِاعظم محمد شہبازشریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دو طرفہ تعلقات کے فروغ، تجارتی و مواصلاتی روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو بھی کی۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے مابین نیک خواہشات کا تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد آپ پہلے سربراہِ مملکت ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم آپ کے اس دورے کا خیر مقدم کرتی ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال پر وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر 3 روزہ اہم ترین دورہ پر پاکستان پہنچ گئے
ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ابراہیم رئیسی پاکستان میں انتخابات اور نئی حکومت کے آنے کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت ہیں۔
ایرانی خاتون اول جمیلہ عالم الہدی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، کابینہ ارکان، اعلیٰ حکام اور بڑا تجارتی وفد بھی صدر کے ہمراہ ہے۔ وفاقی وزیر ہاوسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے نورخان ایئر بیس پر ان کا استقبال کیا، پاکستانی ثقافت کے مطابق بچوں نے ایرانی صدر کو گلدستے پیش کیے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی وزیرِاعظم ہاؤس پہنچ گئے
ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے استقبال کیا۔ اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کے دستے کی جانب سے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ گارڈ آف آنر کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے معزز مہمان ایرانی صدر اور خاتون اول کو فرداً فرداً وفاقی کابینہ کے ارکان سے متعارف کروایا۔ ایرانی صدر نے سب سے باری باری مصافحہ کیا۔
ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے عالمی یوم ارض کی مناسبت سے وزیراعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا۔
دورہ پاکستان کے دوران ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔ وہ لاہور اور کراچی کا دورہ بھی کریں گے اور صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی سے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ملاقات
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تعاون کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوششوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال اور علاقائی چیلنجوں کے حل کے لیے امن اور تعمیری بات چیت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ایرانی صدر کا پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کی خواہش کا اظہار
پاکستان کے 3 روزہ دورے پر روانگی سے قبل تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ برادر اسلامی ملک ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان عوامی اور حکومتی سطح پر ماضی سے آج تک سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور تاریخی تعلقات ہیں۔ پاکستان سے باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک لے جائیں گے، پاکستان ایرانی مارکیٹ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا مختلف عالمی مسائل پر ایران اور پاکستان مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق، فلسطین، انسداد دہشت گردی جنگ میں پاکستان اور ایران کا مشترکہ مؤقف ہے۔ پاکستان اور ایران متعلقہ امور پر ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا پاکستان میں حکام کے ساتھ سیکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی امور پر مذاکرات ہوں گے۔
دورے کا ایجنڈا باہمی اعتماد سازی، تعلقات اور باہمی تعاون کا فروغ ہے
وزیراعظم ہاؤس میں ڈاکٹر ابراہیم رئیسی اور وزیراعظم شہباز شریف میں انفرادی ملاقات ہوگی۔ انفرادی ملاقات کے بعد صدر ابراہیم رئیسی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان باضابطہ وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
وزیراعظم ہاؤس میں 7 سے 8 پاک ایران مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔ وزیراعظم ہاؤس میں دونوں سربراہان پالیسی بیان دیں گے جو براہِ راست نشر ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے۔ آج شام ایرانی سفیر رضا امیری مقدم ایرانی صدر کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔
جنوری کی کشیدہ صورتحال کے فوری بعد اعلی سطح کے دورے سے پاک ایران مثبت اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔ دورے کے دوران مشترکہ چیلنجز بشمول انسداد دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ، پاک ایران آزادانہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت ہوگی۔
پاک ایران فیری سروس و میری ٹائم تعاون کے فروغ کا بھی جائزہ لیا جاے گا۔ انسداد منشیات، نئے فری تجارتی و اقتصادی زونز اور سرحدی منڈیوں کے قیام سمیت سرحدی انتظام پر تبادلہ خیال کیا جاے گا۔ ایران پاکستان گیس پائپ لاین پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر بھی غور کیا جائے گا، افغانستان کی موجودہ صورتحال سے پاکستان اور ایران دونوں متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان اور ایران کا غزہ کی صورتحال پر یکساں موقف ہے۔ ایران نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ اعلانیہ پاکستان اور کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔ دونوں ممالک کا اسلامو فوبیا کے خلاف بھی موقف مماثلت رکھتا ہے۔
ہر برس 7 لاکھ سے زائد زائرین ایران مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے دورہ کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالرز تک پہنچانے کی کوشیش جاری ہے۔ حالیہ دورے کا ایجنڈا باہمی اعتماد سازی، باہمی تعلقات و باہمی تعاون کا فروغ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف ایرانی مہمانوں کو ظہرانہ دیں گے
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایرانی مہمانوں کو پہلے دن ظہرانہ دیا جائے گا، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت متعدد وزرا ایرانی صدر سے ان کے ہوٹل میں ملاقاتیں کریں گے۔
پیر کی شام ہی ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی اپنے پاکستانی ہم منصب صدر آصف زرداری سے ملاقات کریں گے، جس کے بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی منگل کو لاہور پہنچیں گے، جہاں ان کی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمان سے ملاقاتیں ہوں گی۔
گورنر پنجاب کی جانب سے ایرانی صدر کو ظہرانہ دیا جائے گا، ڈاکٹر ابراہیم رئیسی علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دیں گے جس کے بعد منگل کو ہی ایرانی صدر کراچی پہنچیں گے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کراچی میں مزار قائد پر بھی حاضری دیں گے۔ دورے کے خاتمے پر کراچی میں پاک ایران مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا۔ بدھ کے روز مہمان صدر ایک روزہ دورہ پر سری لنکا روانہ ہوجائیں گے۔
(بشکریہ:وی نیوز)
فیس بک کمینٹ

