ادب اور صحافت سے اپنی وابستگی کی شروعات پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے ”روزنامہ امروز“ملتان اس کی بنیاد دکھائی دیتا ہے۔بچپن کا ابتدائی زمانہ،جب کوئی بچہ لفظو ں کی تھوڑی بہت پہچان کرلیتا ہے تو وہ اپنی درسی کتابوں میں،بچوں کے رسائل اور اخبارات میں شائع ہونیوالے بچوں کے ایڈیشن میں شائع ہونیوالی کہانیوں اور لطیفوں کو بڑے شوق سے پڑھنا شروع کردیتا ہے۔ یہ غالباً 80کی دہائی کے زمانہ کی بات ہے، بچپن میں ہوش سنبھالنے کی عمر میں قابل احترام شخصیت ہومیو پیتھک ڈاکٹر محمد صدیق‘ جنہیں فوجی ڈاکٹر بھی کہا جاتا ہے،محلے میں واقع ان کے صاف ستھرے کلینک پر”روزنامہ امروز“آتا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر آنے سے پہلے ”روزنامہ امروز“ کا بچوں والا صفحہ،جو ہفتہ وار شائع ہوتا تھا،وہ بڑے بھائی محمد یونس
(ڈاکٹر محمد صدیق صاحب کے کمپاونڈر) کی مہربانی سے پڑھ لیتا تھا ۔ وہ ایک محبت کرنے والے انسان تھے،جنہوں نے بعد میں مدینہ بیکر ی والی گلی میں گورنمنٹ قاسم پرائمری سکول کبیروالا کے سامنے اپنے گھر کی بیٹھک میں ہومیو پیتھک کا ایک چھوٹا کلینک بنالیاتھا،جو اب ان کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد ارشادکا کلینک ہے۔ہومیو پیتھک ڈاکٹر محمد صدیق،ارائیں فیملی سے تعلق رکھتے تھے،انتہائی مہربان اور شفیق شخص تھے،کبیروالا میں ترقی پسند تحریک کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے،خاموش طبیعت کے مالک،سچ بولنا اور سننا پسند کرتے تھے، ان کے کلینک پر’’روزنامہ امروز“ آنے کا ایک اہم سبب ”روزنامہ امروز“کا ترقی پسند تحریک اور پسے ہوئے طبقات کی طرف واضح جھکاؤ بھی ہوسکتا ہے۔آج کل ان کا کلینک ان کے جانشین اور بڑے صاحبزادے ہومیو پیتھک ڈاکٹر منیر احمد چلارہے ہیں۔ڈاکٹر محمد صدیق کے چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر نعیم طارق محکمہ کسٹم کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد آج کل بطور قانون دان تحصیل کچہری کبیروالا میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے ہیں،پی ایچ ڈی ہونے کے باعث ڈاکٹر کہلاتے ہیں،صاحب مطالعہ ہیں،کتاب اور اہل ادب کے ساتھ گہرا تعلق اور حسن ظن رکھتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی اہل ادب ہیں۔
بعدازاں جب ”روزنامہ امروز“ نے روزانہ کی بنیاد پر رنگین ایڈیشن میں آدھا صفحہ بچوں کا شائع شروع کرنا شروع کیا تو ان دنوں میں جامع مسجد غوثیہ کی گلی کے کارنر پر واقع راؤ جمشید علی خاں کی دکان میں صوفی محمد نواز کے بنائے گئے ہوٹل میں بھی ”روزنامہ امروز“ آنا شروع ہوا اور میری موجیں لگ گئیں اور ہمارا کہانیاں پڑھنے کا شوق مزید بڑھ گیا۔،روزانہ صبح سویرے ہی جب اخبار ان کے ہوٹل پر آجاتا تو میں بھی اخبار پڑھنے کے لئے پہنچ جاتا،بعض اوقات مجھ سے پہلے افتخار احمد خان بھٹہ(گڈو خان بھٹہ اور کامی خان بھٹہ کے والد)پہنچ جاتے تو وہ پورا اخبار اپنے قبضے میں لے لیتے،چائے اور سگریٹ پیتے رہتے اور اخبار پڑھتے رہتے،ان سے احتراماٰ اخبار مانگنا بڑا دشوار ترین مرحلہ ہوتا تھا،خصوصا اخبار کا وہ صفحہ‘جس میں بچوں کا ایڈیشن ہوتا تھا،وہ صفحہ بھی نہیں دیتے تھے۔ بعدازاں میں روزنامہ امروز کا ہفتہ وار خریدار بن گیا،اُن دنوں ”روزنامہ امروز“ کی قیمت ایک روپے یا سوا روپے تھی۔”روزنامہ امروز“ کی ایجنسی میاں عبدالجبار(میاں عبدالحفیظ کے بڑے بھائی)حفیظ بک ہاؤ س والے کے پاس تھی اور سینئر صحافی قیس سلیمی صاحب ”روزنامہ امروز“ کے نامہ نگار تھے۔”روزنامہ امروز“ کی شہر بھر ترسیل کی ذمہ داری حفیظ بک ہاؤس کے ملازم محمد شفیع کی تھی۔ برادر محمد شفیع آج کل بستی حسین آباد میں رہائش پذیر ہیں اور کریانے کی چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔کبھی کبھار،کہیں راہ چلتے یا کسی اجتماع میں ان سے ملاقات ہوتی ہے تو بچپن کے زمانے کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہوجاتی ہیں۔
یہ 1985ء یا 1986کی بات ہے،میں ساتویں جماعت کے طالبعلم کے طور پر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کبیروالا میں زیر تعلیم تھا۔اُن دنوں میں ایک لطیفہ نما تحریر ”روزنامہ امروز“ میں بذریعہ ڈاک ارسال کی،جو آئندہ ہفتہ وار ایڈیشن میں شائع ہوئی تو مجھے ایسا لگا ہے کہ شاید مجھے قارون کا خزانہ مل گیا۔پھر کیا ہوا،بس ایک دھن سوار ہوگئی کہ بچوں کے ایڈیشن میں لکھنا ہے لہذا چھوٹی موٹی اور عام سی تحریریں جیسے لطیفے،اقوال زرین،معلوماتی شائع ہونے لگیں۔اسی دوران میں نے ایک مرتبہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کبیروالا کی سالانہ تقریب کی پورٹ”روزنامہ امروز“ کو ارسال کی،وہ شائع ہوئی تو میرا رجحان بچوں کے ایڈیشن کے ساتھ تعلیمی اور سپورٹس کے ایڈیشن کی جانب ہوگیا،میں ”روزنامہ امروز“ کے بچوں کی ایڈیشن میں اپنی ہلکی پھلکی تحریروں کے ساتھ ”روزنامہ امروز“ کیلئے بطور ڈائری رپورٹر کا کردار بھی ادا کرنے لگا۔کبیروالا شہر میں ہونے والی ادبی،سماجی،سپورٹس کی تقریبات کی رپورٹس میرے نام اور تصویر کے ساتھ ”روزنامہ امروز“ میں شائع ہونے لگی۔ابھی میں نے ایڈیشن میں بچوں کی کہانیاں لکھنا شروع نہیں کی تھیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے بچوں کی کہانیاں لکھنے کا باقاعدہ آغاز ”روزنامہ نوائے وقت“ کے بچوں کے ایڈیشن ”پھول اور کلیاں“ سے کیا،جس کے انچارج شیخ سلیم ناز تھے، مجھے پھول اور کلیاں میں بچوں کی کہانیاں لکھنے کا شوق ماہر تعلیم محمد ارشد سلیم کھوکھر کی وجہ سے ہوا،پھول اور کلیاں میں ان کی ہر دوسر ے ہفتے کہانی شائع ہوتی تھی،پھول اور کلیاں میں قارئین بذریعہ خط ایڈیشن میں شائع ہونیوالی کہانیوں پر اپنی رائے دیتے،جس کی روشنی میں ایڈیشن میں شائع ہونیوالی کہانیوں کو اول،دوئم اور سوئم پوزیشنیں دی جاتی،اس تناظر میں ارشد سلیم کھوکھر کی شائع ہونے والی تقریبا ہر کہانی پہلے نمبر کی حق دار ٹھہرتی تو ہمیں اس بات کا تجسسس ہوا کہ کبیروالا سے تعلق رکھنے والے محمد ارشد سلیم کھوکھر سے ملا جائے،ان کے بارے میں پتا چلا کہ وہ گورنمنٹ قاسم بوائز پرائمری سکو ل کبیروالا میں معلم ہیں اور بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا فریضہ ادا کرتے ہیں،ان سے ملاقات ہوئی تو ان کی باتوں اور کہانیاں لکھنے کے بارے مفید مشوروں نے ہمیں بھی پھول اور کلیاں میں بچوں کی کہانیا ں لکھنے کی جانب راغب کردیا۔میں نے اُنہی دنوں میں انجمن طلباء اسلام سے وابستگی اختیار کی تو کبیروالا شہر کی تنظیم کا سیکرٹری نشرواشاعت بنادیا گیا۔انجمن طلباء اسلام ضلع خانیوال کے سیکرٹری نشر واشاعت محمد اسلم سعیدی تھے،یہ محمد اسلم سعیدی،جامعہ غوثیہ مہریہ نوریہ کبیروالا کے ناظم اعلیٰ محمد اسلم سعیدی نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق حضرت مولانا ایوب الرحمن حامدی ؒ کے خاندان سے تھا۔آج کل لاہور میں کسی قومی اخبار غالباً روزنامہ انصاف کے ادبی ایڈیشن کے انچارج ہیں۔انہوں نے مجھے تنظیم کے اجلاس اور دیگر سرگرمیوں کی پریس ریلیز لکھنا اور بنانا سکھایا۔یوں میں‘ انجمن طلباء اسلام کی تنظیمی سرگرمیوں کی پریس ریلیز لکھنے اور کبیروالا شہر میں صحافیوں کو فراہم کرنے لگا۔اس وقت کبیروالا شہر میں گنے چنے صحافی ہوتے تھے،جن میں روزنامہ امروز کے قیس سلیمی،روزنامہ جنگ کے مہر محمد اقبال اُوتیرا،روزنامہ نوائے وقت کے فیاض اسلم چوہدری،روزنامہ سنگ میل اور روزنامہ مساوات کے رمضان جاوید انصاری شامل ہیں۔پریس ریلیز لکھنا اور صحافیوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جو شروع ہوا تو میں جو پہلے ہی روزنامہ امروز میں ڈائری رپورٹر والا کام کررہاتھا، عملی صحافت کے میدان کا حصہ بن گیا اور مختلف اخبارات کے لئے بطور نمائندہ صحافتی خدمات سرانجام دینے لگا۔
جنوبی پنجاب کے اخبارات میں روزنامہ امروز،روزنامہ آفتاب، روزنامہ سنگ میل،روزنامہ نوائے وقت کو صحافت کی یونیورسٹیاں کہا اور سمجھا جاتا ہے،ماضی کے کئی نامور اہل صحافت اور جنوبی پنجاب کے اضلاع اور مضافات علاقوں کے اہل قلم اور اہل صحافت نے ان ہی اخبارات سے اپنی صحافت اور ادبی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ان میں روزنامہ امروز کو اس حوالے سے دیگر اخبارات میں منفرد حیثیت اور نمایاں مقام حاصل تھا۔اگر کبیروالا کے اہل ادب اور اہل صحافت کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو وہ بھی جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں کے اہل ادب اور اہل صحافت کی طرح روزنامہ امروز ملتان سے اپنی سرگرمیوں کی شروعات کرنے والوں میں شامل ہیں۔
روزنامہ امروز نہ صرف ایک عہد ساز اخبار تھا بلکہ وہ مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کیلئے جدوجہد کرنے والوں کی موثر آواز بھی تھا،روزنامہ امروز نے اپنے اداریوں اور مضامین میں مظلوم عوام کے لئے بھر پور آواز اٹھائی، خاص طور پر ٹریڈ یونین، کسانوں، طلبہ اور خواتین کی تحریکوں کو بھر پور کوریج دیتا تھا۔ریاستی جبر کا شکار ہونے والے بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں، طالب علموں اور مزدوروں کی خبریں امروز میں شائع ہوتی تھیں اور سامراج دشمن تحریکوں کو خوب تفصیل سے شائع کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام، عوام کی تعلیم، صحت اور ووٹ کے حق کے بارے میں ادارئیے اور مضامین شائع ہوتے تھے۔ سرحد، بلوچستان، سندھ اور مشرقی پاکستان کے عوام کے احساس محرومی ان کی زبان اور ثقافت کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں لکھا جاتا تھا۔

4 مارچ1948 ء میں اپنی اشاعت کا آغاز کرنے والا”روزنامہ امروز“ پاکستان کی متبادل صحافتی تاریخ میں ایک معتبر مقام کا حامل ہے۔ روزنامہ امروز کے بانی اور مالک میاں افتخار الدین تھے جبکہ فیض احمد فیض اس کے پہلے چیف ایڈیٹر اور مولانا چراغ حسن حسرت ایڈیٹر تھے۔ بعد میں طفیل احمد خان اور احمد ندیم قاسمی بھی اس کے ایڈیٹر رہے ہیں۔ ناشرپروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے تحت روزنامہ امروز کا پہلا شمارہ 4 مارچ 1948ء کو اور آخری شمارہ 24 اکتوبر 1991ء کو شائع ہوا۔ روزنامہ امروز کی پیشانی ملک کے معروف خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی نے لکھی تھی۔ پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے دیگر شائع ہوانے اخبار ات اور میگزین پاکستان ٹائمز، لیل و نہار اور سپور ٹس ٹائمز شامل ہیں۔بعدازاں روزنامہ امروز سمیت دیگر اخبار ات حکومتی ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ کے تحت شائع ہوتے ہیں۔امروز کے پہلے ادارئیے میں فیض احمد فیض نے اخبار کے اجرا کے تین اغراض و مقاصد کا بطور خاص ذکر کیا:٭بے زبان عوام کی خدمت٭عوام کے سیاسی اور جمہوری حقوق کا تحفظ٭ دولت کی منصفانہ تقسیم۔امروز پاکستان کا پہلا اردو اخبار تھا،جس نے عام لکھنے والوں کو ان کی شعری و نثری تخلیقات کا معاوضہ دینا شروع کیا۔ روزنامہ امروز میں نچلے طبقے کی ترجمانی میں پیشہ ورانہ تنظیموں کی خبروں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ جولائی 1948 ء میں اخبار کے صفحہء اول پرایک نظم شائع کی گئی ”کیا حل ہے اس ناداری کا؟“ جس میں مرد مسلمان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا ناداری کے خلاف مزدور کے حامی کافر ہیں؟۔ ”بڑی زمینداریوں کی تنسیخ“ کے عنوان سے ادارئیے میں لکھا گیاکہ زمینداری کے خاتمے کے سلسلے میں مشرقی پاکستان میں فیصلہ ہو چکا ہے۔ ہندوستان میں یو پی اور بہار اسمبلی بھی اس سلسلے میں غور کر رہی ہے لیکن مغربی پاکستان والے خاموش ہیں چنانچہ ایسی تمام زمینیں بلا معاوضہ کاشتکاروں میں تقسیم ہونی چاہئیں۔امروز نے 1978 میں کالونی ٹیکسٹائل مل میں ہونے والی پولیس فائرنگ کے نتیجے میں مزدوروں کی ہلاکت کی تفصیل شائع کی۔ کالونی ٹیکسٹائل مل کے مالک اس وقت کے صدر جنرل ضیا ء الحق کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ وزارت اطلاعات کے دباؤ پر روزنامہ امروز ملتان کے ایڈیٹر مسعود اشعر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا،جس پر امروز کے صحافیوں نے احتجاجی تحریک چلائی، جس پر ان کا تبادلہ منسوخ ہوا۔ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران پنجاب کے صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں نے سندھ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایک دستاویز پر دستخط کیے۔ غیر ملکی میڈیا نے اس دستاویز کو خاصی اہمیت دی۔ صدر جنرل ضیا الحق کی ہدایت پر اس دستاویز پر دستخط کرنے والے روزنامہ امروز اور مشرق کے دس صحافیوں کو بر طرف کر دیا گیا۔ 1988 ء میں بے نظیر نے اقتدار میں آنے کے بعد ان صحافیوں کو بحال کیا۔روزنامہ امروز کے ملتان ایڈیشن سے جو صحافی
بطور ریذیڈنٹ ایڈیٹر وابستہ رہے ان میں نظیر لدھیانوی شامل تھے۔ ان کے بعد مسعود اشعر 1957ء سے 1968ء تک ملتان میں اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر رہے، اقبال ساغر صدیقی 1978ء میں اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے،سید سلطان شاہ بھی ملتان میں اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر رہے،روزنامہ امروز 43 برس تک صحافتی منظر پر چھائے رہنے کے بعد 25 اکتوبر 1991ء کو بند ہو گیا۔ روزنامہ امروز کا آخری شمارہ 24 اکتوبر 1991ء کو شائع ہوا،اس وقت لاہور میں اخبار کے سینئر سب ایڈیٹر اسلم ملک کے مطابق 25 اکتوبر کے اخبار کی کاپی تیار کی گئی تھی مگر اسے پریس میں بھجوانے کی نوبت نہ آئی۔روزنامہ امروز کے حوالے سے بہت سی باتیں اور یادیں ذہن میں محفوظ ہیں،جو پھر کبھی لکھوں گا،مذکورہ تحریر لکھنے کا مقصد خود ستائشی نہیں ہے بلکہ صحافت کے عہد زریں کی ایک جھلک صحافت کے میدان میں نئے آنیوالوں کو دکھانا مقصود ہے،تاہم اس تحریر میں جو کچھ لکھا گیا ہے،وہ میری ذاتی رائے اور نقطہ نظر ہے،جس سے اختلاف کرنے کا سب کو حق ہے۔
فیس بک کمینٹ

