اگر آپ محبت میں ناکامی کی وجہ سے پریشان ہیں اور اس پریشانی کی وجہ سے آپ کی راتوں کی نیند اڑ گئی ہے آنکھوں کے گرد سیاہ ہالے پڑ گئے ہیں، صحت خراب ہونا شروع ہو گئی ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔آپ سیدھا ماڈرن عامل بابے کے دفتر میں تشریف لائیں انشااللہ محبوب آپ کے قدموں میں لوٹنے لگے گا ،جو آپ سے پہلے بابا جی کے دفتر میں پہنچا ہو گا۔عامل بابا صرف تعویذ ہی نہیں دیتے مشورے بھی دیتے ہیں اور ان کے مشورے تیر بہدف ثابت ہوتے ہیں کیونکہ انہیں محبت میں ناکامی کا سترسالہ تجربہ ہے۔درج ذیل چند مشوروں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عامل بابا کتنے گھاگ قسم کے عاشق ہیں۔
عامل بابا کا سب سے پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ اگر آپ محبت میں کامیابی چاہتے ہیں تو ایک وقت میں ایک سے محبت کرنے کی بجائے دو تین سے کریں کہ محبت میں’’چانس‘‘ نہیں لینا چاہئےآپ نے داخلہ کسی ایک کالج میں لینا ہوتا ہے لیکن آپ فارم مختلف کالجوں میں جمع کراتے ہیں تاکہ ایک میں ناکامی کی صورت میں دوسرے کالج میں داخلہ مل سکے۔اسی طرح زیادہ سمجھ دار لوگ مختلف کالجوں ہی میں نہیں مختلف مضامین میں بھی داخلے کیلئے اپلائی کرتے ہیں اس رویئے کو دوسرے معنوں میں TO WHOM IT MAY CONCERN بھی کہا جاسکتا ہےمحبت میں بھی یہی طریق کار کارگر ثابت ہوتا ہے۔
محبت کا دیوتا کیوپڈ اندھا ہے چنانچہ عاشقوں کو بھی کبھی تیر کسی نشانے پر نہیں پھینکنا چاہئے بلکہ یہ تیر جسے لگ جائے اس کو غنیمت سمجھنا چاہئے عاشقوں کیلئےعامل بابا کا دوسرا قیمتی مشورہ یہی ہے کہ وہ دورانِ محبت مجنوں کی پیروی میںگریبان پھاڑ کر جنگلوں کی طرف نہ نکل جائے ۔عاشق کو ہمیشہ مکمل ہوش وحواس میں رہنا چاہئے اور
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
ایسے غیر حقیقت پسندانہ مشوروں پر عمل کرنے کی حماقت نہیں کرنا چاہئے ان دنوں جو عاشق آتش نمرود میں کودنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج ہو جاتا ہے اور پھر بڑی پھینٹی پڑتی ہے۔
عاشقوں کیلئے عامل بابا کا تیسرا مشورہ یہ ہے کہ انہیں جہاں ہمہ وقت محبوب کے حسن کے قصیدے پڑھتے رہنا چاہئے وہاں درمیان درمیان میں محبوب کو ہلکی سی تڑی لگانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔جو عاشق ایسا نہیں کرتے محبوب انہیں گھڑے کی مچھلی سمجھ بیٹھتا ہے اور یوں ایسے عاشق کو بالآخر محبت میںناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔
ایک اور ضروری مشورہ جو عامل بابا عشاق کو دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب انہیں محبت میں کامیابی حاصل ہو جائے تو فوراً اسے چھوڑ کر نئے محبوب کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں کیونکہ جو عاشق عامل بابا کے مندرجہ بالا گھٹیا مشوروں کے نتیجے میں کامیاب ہو گا وہ کچھ ہی عرصے بعد اپنے محبوب کے سامنے ایکسپوژ بھی ہو جائےگا۔لہٰذاایکسپوژ ہونے سے پہلے پہلے محبوب سے اپنی جان چھڑانا بہتر ہے تاہم اس میں یہ احتیاط بہت لازمی ہے کہ عاشق اپنے محبوب سے الگ ہونے کا کوئی ٹھوس بہانہ سوچے اور اگر کوئی ٹھوس وجہ نہ مل سکے تو ظاہر داری کیلئے کسی فضول سی وجہ کو بھی بنیاد بنایا جا سکتا ہے مثلاً یہ کہ آٹا گوندھتے وقت تم ہلتی کیوں ہو وغیرہ وغیرہ، اس مشورے پر عمل کرنے سے عاشق دنیا والوں کی نظروں میں بے وفا کہلانے سے بچ جائے گا بلکہ مزید احتیاط کے طور پر عاشق کو اپنے سابقہ محبوب کے خلاف ڈس انفارمیشن کی ایسی مہم چلانی چاہئے کہ لوگ الٹا محبوب کو بے وفا سمجھنے لگیں۔
جو عاشق مملکت حسن میں بہرصورت راج کرنا چاہتے ہیں وہ عامل بابا کے پاس ان کے دفتر میں تشریف لائیں۔اپنا نام رجسٹر کرائیں اور باقاعدہ فیس ادا کریں تاکہ انہیں بقیہ مشورے مع تعویذ دیئے جاسکیں۔بابا جی نے عاشقوں کی ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے رجسٹریشن فیس ادا کرتے ہی آپ خودبخود اس تنظیم کے رکن بھی بن جائیں گے اور اس کے بعد تنظیم کے ان خفیہ اجلاسوں میں بھی شامل ہوسکیں گے جو ’’خفیہ ‘‘ والوں کے دفتر میں ہوتے ہیں کہ آخر ان کا بھی دل ہوتا ہے یہ بھی محبت میں کامیابی چاہتے ہیں ….
اب آخر میں ظفر اقبال کی خوبصورت غزل:
اس کے سفر میں زاد سفر دیکھنا نہیں
خود بھی ملے تو ایک نظر دیکھنا نہیں
کرنا ہے اور طرح سے محسوس اب اسے
پھرنا ہے آس پاس مگر دیکھنا نہیں
کوئی سوار ہی نہ نکل آئے اس لئے
ہم کو غبار راہگزر دیکھنا نہیں
جب دیکھنے چلے تو ہمیں کچھ پتا نہ تھا
کس سمت دیکھنا ہے کدھر دیکھنا نہیں
آنکھوں میں ایک بار ہی بھرلیں گے اس کی شکل
دیکھا اسے تو بار دگر دیکھنا نہیں
اک لفظ جو لبوں پہ لرزتا ہے رات دن
کہنا ہے اور خواب اثر دیکھنا نہیں
اچھا ہے روکیے نہ ہمیں آپ بھی کہ ہم
دیکھیں گے اس طرف ہی جدھر دیکھنا نہیں
تم کچھ بھی ہو ہم آئیں گے بس دیکھنے تمہیں
مقصد تمہارے عیب وہنر دیکھنا نہیں
اس کی طرف سے بیٹھے ہو منہ موڑ کر ظفر
آئے ہی کس لئے تھے اگر دیکھنا نہیں
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

