ایک عجب اپنائیت تھی اس تقریب میں جو پچیس اپریل کو خالد سعید صاحب کی سالگرہ منانے کے لیے ملتان آرٹس فورم نے ترتیب دی تھی ۔ تفصیل اس کی کچھ یوں ہے کہ گزشتہ ہفتے ہم نے آرٹس فورم کے اجلاس میں شاہد راحیل خان اور ڈاکٹر انوار احمد کے ہمراہ شرکت کی تھی ۔ اور اسی اجلاس میں ڈاکٹر مقبول گیلانی صاحب اور ڈاکٹر عامر سہیل نے اعلان کیا کہ اگلے جمعہ کو فورم کے بانی خالد سعید صاحب کی سالگرہ کا کیک کاٹا جائے گا ۔۔ آرٹس فورم میں اس مرتبہ حاضری بھی غیر معمولی تھی ۔ ان میں خالد صاحب کے دوست بھی تھے اور شاگرد بھی ۔ خالد سعید صاحب کی زندگی میں بھی ہم نے ان کی محبتیں سمیٹیں اور اب بھی ہم انہیں اپنے درمیان محسوس کر کے ان کی محبتیں حاصل کر رہے ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ ہم تک پہنچتی رہتی ہیں ۔خالد صاحب کے ساتھ میری وہ قربت تو نہیں رہی جو عامر سہیل ، علی نقوی ، مقبول گیلانی اور فورم کے دیگر دوستوں کے حصے میں آئی لیکن خالد صاحب مجھے دستیاب ہمیشہ رہے ۔ روزنامہ جنگ کے زمانے سے اے پی پی تک مجھے جب بھی ان سے نفسیات کے کسی موضوع پر رائے لینا ہوتی تھی خالد صاحب میری مدد کرتے تھے ۔ وہ ایک مست درویش کی طرح اپنی دھن میں مگن رہتے ۔ خالد سعید علم کا ایک سمندر تھا جو ٹھاٹھیں مارتا تھا ۔ سٹیج پر ہم انہیں مدعو کرتے اور پھر مبہوت ہو جاتے ۔ وہ روایتی پروفیسروں کی طرح حاضرین کے ضبط کا امتحان نہیں لیتے تھے ۔ وہ ایسی مزے کی گفتگو کرتے کہ گفتگو طویل ہو جانے کے باوجود کسی کو بوجھل نہ کرتی تھی حاضرین کا انہیں سن کر لطف آ تا تھا ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کا اجلاس ہو یا فیض میلے اور ملتان لٹریری فیسٹیول خالد صاحب کے ساتھ ہمیشہ میرا مکالمہ رہتا تھا ۔ پہلے ملتان لٹریری فیسٹیول میں میری عدم شرکت کو انہوں نے محسوس کیا اور علی نقوی سے پوچھا رضی کیوں نہیں آیا ؟ نقوی نے انہیں کہا کہ رضی بھائی میرے کہنے پر تو نہیں آتے آپ انہیں بلا کر دیکھ لیں ۔ بس پھر ان کا فون آیا ’’ رضی توں میلے اچ آنڑا اے ‘‘ اور مجھ میں اتنی جرات کہاں تھی کہ میں دوسری بات کرتا ۔ وہ ان چند سینیئرز میں سے تھے جن کے ساتھ میں پنجابی میں بات کرتا تھا ۔ اور طویل بات کرتا تھا ۔ ایک زمانے میں منو بھائی کی تقلید میں میں نے پرنسٹن سگریٹ پینا شروع کیا ۔ یہ سگریٹ دستیاب بھی آسانی سے نہ ہوتا تھا اور کنگ سائز ہونے کے باعث ختم بھی دیر سے ہوتا تھا ۔ خالد صاحب کا برانڈ بھی یہی تھا پھر ہم میں پرنسٹن برادری والابرادرانہ رشتہ بھی قائم ہو گیا ۔ خالد صاحب کی بڑائی یہ تھی کہ وہ خود کو بڑا نہیں سمجھتے تھے ۔ وہ اقبال ارشد کی طرح نوجوانوں کے ساتھ لڑکے بالے بن جاتے تھے ۔ جیسے میں اقبال ارشد کے ساتھ قہقہے لگاتا تھا ۔ انہیں اپنےسب دکھ سناتا تھا ۔ بہت سی راز کی باتیں انہیں اس لیے بتا دیتا تھا کہ مجھے یقین ہوتا تھا اقبال ارشد بہت زیادہ شور مچانے ، اور بہت زیادہ گفتگو کرنے یا دوسرے لفظوں میں باتونی ہونے کے باوجود میرے راز کو راز ہی رکھیں گے ۔ میں ان سے شاکر کی اور حسین سحر کی شکایتیں اس لیے بھی کردیتا کہ مجھے پورا یقین ہوتا تھا وہ ان کا ازالہ کریں گے۔
بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں نکل گئی اور اس لیے نکل گئی کہ ڈاکٹر عامرسہیل نے فورم کے 30 ویں یوم تاسیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وہ وجوہات بیان کیں جو خالد سعید اور ان کے دوستوں کی اردو اکادمی سے علیحدگی کا باعث بنیں ۔ ان میں بزرگوں کے روئیے اور پھر ان کے تدارک کے لیے روزنامہ سنگ میل میں عامر سہیل نے ’ ہمراز ملتانی ‘ بن کر قلمی نام سے جو کالم لکھے تھے ان کا حوالہ بھی شامل تھا ۔ اور پھر مجھے یاد آیا کہ ہمراز ملتانی کے کالموں پر خود میں نے بھی ’ ہمراز ملتانی کی جاسوس پروازیں ‘ کے نام سے کالم لکھا تھا ۔ ڈاکٹر عامر سہیل نے سینئیرز میں لطیف الزماں خان ، ڈاکٹر محمد امین ، اصغر شاہیا اورفاروق عثمان کی خاص طور پر تعریف کی اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایسے بہت سے حقائق کو منظر عام پر لےآئیں تاکہ نئی نسل کےسامنے اصل چہرے سامنے آ سکیں ۔ ہم نے بہت سے بت بنائے ان کی پوجا کی لیکن کسی نہ کسی مقام پر ہر بت ٹوٹ گیا ۔۔ عامر سہیل نے کہا خالد سعید صاحب ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں کہ ہم نے آپ کا جو بت بنایا تھا آپ نے اسے ٹوٹنے نہیں دیا ۔ لیکن یہ سب عامر سہیل پر ہی نہیں بیتی بابوں نے یہ روئیہ صرف اسی کے ساتھ نہیں اپنایا ۔۔ہم سب کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ۔ لیکن ہم نے اس کے باوجود اپنے ’’ بابوں ‘‘ کا احترام جاری رکھا اگرچہ ہم خود بھی بابوں میں شمار ہونے لگے تھے ۔۔
فیس بک کمینٹ

