یہ ستمبر 1965ء کی کہانی ہے اس رات کی کہانی جب گرمی کی شدت ختم ہوچکی تھی اور حبس نے ملتان کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ شہر میں شدید حبس اور گھٹن کی کیفیت تھی۔ جوش ملیح آبادی نے تو حبس سے نجات کے لیے لُو کی دعا مانگی تھی مگر ملتان والے تو حبس میں لُوکی دعا بھی نہیں کر سکتے کہ وہ لُو کے تھپیڑوں سے بخوبی آشنا ہیں۔
بات کسی اور جانب نکل گئی ورنہ ہم حبس اور گھٹن کی بات کر رہے تھے جب ستمبر1965 ء کی اس رات آسمان روشن ہو گیا۔ اور اتنا روشن ہوا کہ یہ تاریک شہر اس روشنی میں مکمل طورپر نہا گیا۔ کوئی ایک خطہ، محلہ یاعلاقہ نہیں اس روشنی نے تو پورے شہر کو چند لمحوں کے لیے دودھیا کر دیا تھا۔ آسمان پر اگرچہ چاند بھی موجود تھا۔ وہ چاندنی رات تھی لیکن اس روشنی نے تو چاند کی روشنی کو بھی ماند کر دیا تھا۔ پنکھوں یا ایئرکنڈیشنرز کا اس زمانے میں ابھی رواج نہیں تھا۔ لوگ گرمی کے موسم میں گھروں کی چھتوں پر، سڑکوں پر، گلیوں میں یا کھلے احاطوں میں سوتے تھے۔ اس روشنی سے گہری نیند میں سوئے ہوئے لوگوں کی آنکھیں بھی چندھیا گئیں اور وہ نیند سے بیدارہو گئے۔ روشنی گہری نیند سے کیسے بیدارکرتی ہے اہل ملتان کو یہ تجربہ اسی روز ہوا تھا۔ اورابھی وہ نیند سے پوری طرح بیدار بھی نہ ہوئے تھے۔ ابھی انہوں نے اس روشنی کو پوری طرح دیکھا بھی نہیں تھا کہ زور دار دھماکوں کی آواز نے انہیں خوفزدہ کر دیا۔ جو بے خبر اس روشنی سے بھی بیدارنہ ہو پائے تھے۔ وہ دھماکوں کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ رات کے پچھلے پہر پورا ملتان جاگ اٹھا اور پھر خطرے کے سائرن بجنے لگے۔
فضا میں طیاروں کی گھن گرج سنائی دینے لگی۔ لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ بھارت نے ملتان پر فضائی حملہ کر دیا ہے۔ برقی رو بند کر دی گئی۔ بلیک آﺅٹ کے نتیجے میں شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔ رضاکاروں نے وردیاں پہنیں اور سیٹیاں بجاتے ہوئے سڑکوں اورگلی محلوں میں نکل آئے۔ کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے لوگ بھاگ کر کمروں اور خندقوں میں گھس گئے۔ چھت پر سویا ہوا ایک بچہ بھی دھماکے سے خوفزدہ ہو کر رونے لگا۔ ماں نے اسے سینے سے لگایا اور بھاگ کر کمرے میں چلی گئی۔ جنگی طیاروں کی بھاگ دوڑ کچھ دیر جاری رہی اور پھر سناٹا ہوگیا۔ مہیب تاریکی اوراس سے بھی زیادہ مہیب سناٹا۔ یہ ملتان کی ایک اور رات تھی جو شہروالوں نے جاگ کرگزاری تھی۔ حملہ کہاں ہوا ہے ؟کس جگہ کو نشانہ بنایا گیا؟ کتنا نقصان ہوا ہو گا؟ یہ سب کچھ رات بھر زیربحث رہا۔ ہرشخص یہ سمجھتا تھا کہ جیسے بم اس گھر کے قریب ہی کہیں گرے ہیں۔ رات اسی بے یقینی کے عالم میں گزری۔ صبح کی اذان سنائی دی تو مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھرگئیں۔ سب کے چہروں پر پریشانی اور آنکھوں میں بہت سے سوال تھے۔ جنگ کے دوران اگرچہ مساجد میں ملکی سلامتی کی دعائیں پہلے ہی مانگی جارہی تھیں لیکن اس رات ملتان کی مسجدوں میں صرف شہر کی سلامتی کی دعائیں کی گئیں۔ اورجن ماﺅں کے بیٹے محاذ پر تھے وہ اپنے اپنے گھروں میں مصلے بچھا کر بیٹھ گئیں۔ صبح صبح سب کے کانوں کے ساتھ ریڈیو لگا ہوا تھا۔ سب سے پہلے بی بی سی سنا گیا کہ اطلاعات کا مصدقہ ذریعہ اس زمانے میں بی بی سی کو ہی سمجھا جاتا تھا۔ بی بی سی پر جنگ کی خبریں توتھیں مگر ملتان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
دن چڑھا تو معلوم ہوا کہ حملہ قاسم بیلہ کے قریب ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ بھارتی طیاروں نے اس علاقے پر بمباری کی تھی لیکن جو بم پھینکے گئے ان میں سے صرف ایک پھٹ سکا اور باقی ریت میں دھنس گئے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہواتھا۔ اور وہ جو شہر روشنی میں نہا کر دودھیا ہو گیا تھا وہ دراصل بھارتی طیاروں سے پھینکے گئے روشنی کے گولے تھے جن کے ذریعے وہ ہدف کا تعین کرنا چاہتے تھے۔ یہ خبر ملتے ہی پورا شہر قاسم بیلہ کی جانب روانہ ہوگیا۔ اس زمانے میں سائیکل ہی عام سواری تھی۔ سو ایک قطار تھی سائیکلوں کی جو اس سڑک پر روانہ تھی جہاں کبھی محمد بن قاسم نے ڈیرہ ڈالا تھا اور جہاں اس کے فوجیوں نے کھجوریں کھا کر ان کی گٹھلیاں پھینکی تھیں اور پھر اس کے بعد وہاں کھجوروں کے جھنڈ اگ آئے اور ملتان والے آج بھی کہتے ہیں کہ ملتان میں کھجوریں محمد بن قاسم کے سپاہی اپنے ساتھ لائے تھے۔ یوں صبح سویرے ہی قاسم بیلہ میں لوگوں کا ایک ہجوم لگ گیا۔
اور پھراس واقعہ کے 6 سال بعد ایک اور جنگ ہوئی۔ ایک اورحملہ ہوا۔ شیر شاہ سوری کی بنائی ہوئی سڑک پر ملتان سے مظفرگڑھ جاتے ہوئے ایک دربار حضرت شیر شاہ کابھی ہے۔ یہاں تیل کے ڈپو ہیں۔ ان ڈپوﺅں میں اس حملے کے بعد آگ لگ گئی جو کئی روز تک بھڑکتی رہی۔ ملتان کے لوگ اپنی چھتوں سے اس دھوئیں کے بادل دیکھتے تھے جو آسمان کی جانب بلند ہوتے تھے لیکن اس دھوئیں میں پرانے شہر کے شعلوں اور دھوئیں کے ساتھ دم توڑتی ہوئی وہ چیخیں سنائی نہیں دے رہی تھیں جو ملتان پر انگریز کے قبضے کے دوران گولہ باری سے ہونے والے دھماکوں اور آتشزدگی کے بعد سنائی دی تھی۔
وہ بچہ جو 1965ء کے حملے میں چیخیں مارکر اٹھ بیٹھا تھا اورجسے اس کی ماں رات بھر سینے سے لگا کر بیٹھی رہی تھی۔ وہ اب اپنے بچپن میں جنگ کی باتیں سنتا تھا۔اور سکول جاتا تھا جہاں ۔ ان دنوں سکول تو بند تھے لیکن شہر کی دیواروں پر کرش انڈیا ( بھارت کو کچل دو ) کے نعرے درج تھے اس کے دادا روزانہ صبح شام بی بی سی پر ”جہاں نما“اور ”سیربین“میں جنگ کی تفصیلات سنتے تھے۔ پھرایک شام اس نے دیکھا کہ گھرمیں ریڈیو پر ایک تقریرسنائی دے رہی ہے۔ ایک ٹرانسسٹر تھاجس کے پاس بیٹھے اس کے دادا غور سے وہ تقریر سن رہے تھے۔ ”دشمن ہماری لاشوں سے گزرکررہی مشرقی پاکستان فتح کرے گا“۔ سپہ سالار کی آواز فضاﺅں میں گونجی اور اس کے دادا کاچہرہ خوشی سے دمک اٹھا لیکن اس سے اگلے روز ہی اس بچے نے دیکھا کہ اس کی والدہ رو رہی ہیں۔ آنسوﺅں سے تر چہرے کے ساتھ گلوگیر آواز میں اس کی ماں نے بتایا کہ ڈھاکہ پر قبضہ ہوگیاہے۔
لیکن اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے ۔ یہ 2025 کا زمانہ ہے پاکستان اب ایٹمی قوت بھی بن چکا ہے ۔ لیکن بھارت اسی پرانی خوش فہمی اور طاقت کے زعم میں سات مئی کو ہم پر حملہ آور ہوا تھا لیکن اس بار تو اسے لینے کے دینے پڑ گئے ۔ ہم سب جنگ سے نفرت کرتے ہیں لیکن اس جیت پر جشن تو بنتا ہے ہم یوم تشکر منا چکے دیکھنا یہ ہے سرحد پار والے یوم تفکر کب مناتے ہیں ؟
( بشکریہ روزنامہ پاکستان )
فیس بک کمینٹ

