شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے فیض احمد فیض کی یہ مشہور زمانہ نظم نہ سنی ہو یا کم از کم اس کا یہ مصرع "ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے نہ گنگنایا ہو۔فیض احمد فیض نے یہ نظم مئی 1954 میں اس وقت لکھی تھی جب وہ راولپنڈی سازش کیس ( جو فیض احمد فیض اور ان کے چند ساتھیوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ تھا’ میں گرفتار ہو کر جیل میں قید تھے۔)
دوسری جنگ عظیم کے بعد جولائی 1950 میں جولیس اور ایتھل روزن برگ نامی ایک جوڑے کو امریکہ میں روس کے لئے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس گرفتار شدہ جوڑے کے صحت جرم سے انکار اور دنیا بھر سے ان کی گرفتاری پر اٹھنے والی احتجاجی آوازوں کے باوجود جون 1953 میں الیکٹرک شاکس کے ذریعے ان کی موت کی سزا پر عملدرآمد کر دیا گیا تھا۔اس جوڑے کے خطوط پر مشتمل ایک کتاب کسی طرح جیل میں فیض احمد فیض تک پہنچی جسے پڑھنے کے بعد فیض احمد فیض نے "ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے” جیسی نظم تخلیق کر کے نہ صرف اپنے بلکہ آنے والے زمانے کے ہر مظلوم کا نوحہ لکھا تھا۔
فیض احمد فیض نے 71 سال پہلے جولیس اور ایتھل روزن برگ جن پر جاسوسی کا الزام تھا’ کی سزائے موت پر "ہم جو تاریک راہوں میں مارے” گئے جیسا نوحہ لکھا تھا مگر گزشتہ روز اپنے ہی وطن کی "تاریک راہوں میں مارے جانے والوں” پر تو کوئی الزام نہیں تھا نہ ان سے کوئی جرم سرزد ہوا تھا۔ہاں یہ جرم ضرور تھا کہ وہ روزی روٹی کی تلاش میں اپنے گھروں سے دور اپنے ہی ملک کے ایک دوسرے حصے میں جا کر قیام پذیر ہوئے تھے۔انہیں گمان نہیں یقین تھا کہ وہ وہاں بھی سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے محفوظ رہیں گے۔وہ "پاک سر زمین شاد باد” کا ترانہ سن کر جوان ہوئے تھے۔ان کا قصور یہ تھا کہ پاک سر زمین کے ہر گوشے ہر ٹکڑے اور ہر حصے کو "کشور حسین شاد باد” سمجھتے تھے وہ نہیں جانتے تھے کہ "پاک سر زمین” کی بیشتر گزر گاہیں اب "تاریک راہوں”میں ڈھل کر قتل گاہیں بن چکی ہیں اور ان تاریک راہوں میں کوئی بھی کبھی بھی کہیں بھی مارا جا سکتا ہے۔تاریک راہوں میں مارے جانے والے یہ پہلے بیگناہ و بے قصور مقتول نہیں تھے ان سے پہلے بھی ایسے بہت مقتول ہوئے ہیں جن کی ارواح آج بھی دہائی دے رہی ہیں "میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں”.
گذشتہ روز کے ناحق قتل کے بعد حکام کی میٹنگز اور حکمرانوں کے رٹے رٹاۓ بیانات کا سلسلہ جاری ہے مگر کوئی فیض احمد فیض موجود نہیں جو تاریک راہوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کا ایک تازہ نوحہ ہی لکھ دے۔۔
فیس بک کمینٹ

