آج کل کے ٹی وی کمرشلز دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم کسی شاپنگ چینل پر نہیں بلکہ کسی کامیڈی سرکس میں آ گئے ہیں۔ جن چیزوں کو بیچنا مقصود ہوتا ہے، وہ کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں، اور جو تماشہ دکھایا جاتا ہے، وہ ذہن سے نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ دس روپے کی چیز بیچنے کے لیے کروڑوں روپے کا خرچ اور پانچ منٹ کی فلم۔ عوام سوچتی ہے کہ خریدے یا پہلے تماشہ دیکھے۔
ٹی وی پر جب بسکٹ یا کیک دکھایا جاتا ہے، تو کیمرہ اسے ایسے زاویے سے دکھاتا ہے جیسے وہ پورے خاندان کے لیے کافی ہو گا۔ بچہ اسے ایک ہاتھ میں پکڑ کر دوڑ رہا ہوتا ہے، اور پیچھے ماں تالیاں بجا رہی ہوتی ہے۔ جب وہی بسکٹ ہم دکان سے خریدتے ہیں، تو پیکٹ کھولتے ہی دل سے آواز آتی ہے کہ شاید کمپنی نے ٹرائل پیک دے دیا۔ بسکٹ اتنا چھوٹا کہ اگر غلطی سے سانس تیز آ جائے، تو اُڑ کر چائے میں گر جائے۔
چائے کے اشتہار میں کپ سے ایسی بھاپ اٹھتی ہے کہ لگتا ہے ساون کے سارے بادل اسی کپ پر برس رہے ہیں۔ ہیروئن چائے کی چسکی لیتی ہے، اور سب لوگ فوراً کہہ اٹھتے ہیں: واہ! یہی تو زندگی ہے۔ اصل میں ہمارے گھروں میں چائے ایسی بنتی ہے کہ بھاپ تو دور، چائے کی پہچان ہی مشکل ہوتی ہے کہ یہ دودھ ہے، پانی یا سوجی کا قہوہ۔
دودھ کی کمرشل میں گائے اتنی لمبی اور خوبصورت دکھائی جاتی ہے کہ لگتا ہے وہ کسی خوبصورتی کے مقابلے کی فاتح ہو۔ دودھ کی دھار اتنی موٹی کہ بندہ سمجھے موٹی رسی ہے جو ٹینک سے آ رہی ہے۔ بچہ دودھ پیتے ہی پہلوان بن جاتا ہے، دادی اماں کہتی ہیں: یہ دودھ نہیں، طاقت ہے۔ ادھر ہمارے گھر میں دودھ آتا ہے، پہلے تو چھاننا پڑتا ہے، پھر ابالنا، اور آخر میں بھی پینے سے پہلے دعا پڑھنی پڑتی ہے: یا اللہ کچھ ہو نہ جائے۔
انرجی ڈرنک کے اشتہار میں لڑکا ڈرنک پیتے ہی پہاڑ پھلانگتا ہے، سڑک پر دوڑتا ہے، اور شیر کو دیکھ کر مسکرا دیتا ہے۔ آواز آتی ہے: طاقت کا خزانہ۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر واقعی یہ خزانہ ہے، تو فٹ پاتھ پر بیٹھے مزدور پہلے کیوں نہیں خرید لیتے۔ ہم نے بھی پیا، لیکن سو کر ہی اٹھے – نہ قلابازی، نہ چنگھاڑ، نہ طاقت، بس نیند۔
شیمپو کی اشتہار میں بال ایسے دکھائے جاتے ہیں جیسے آسمان پر بادلوں کے درمیان جھول رہے ہوں۔ لڑکی برف پر دوڑ رہی ہوتی ہے، بال اڑ رہے ہوتے ہیں، اور نیچے آواز آتی ہے: بال ہوں، تو ایسے۔ اصلی زندگی میں شیمپو لگا کر اگر بال الگ الگ نہ ہو جائیں، تو بندہ سجدہ شکر بجا لاتا ہے۔
پیمپر کی کمرشل میں بچہ ایسا دوڑتا ہے جیسے فوجی تربیت لے رہا ہو۔ ماں فخر سے کہتی ہے: اب یہ رات بھر سوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں، یہ پیمپر ہے یا کوئی نیند آور دوا۔ اور جب بچہ ٹی وی پہ آ کر مسکراتا ہے، تو لگتا ہے وہ خوش نہیں بلکہ سوچ رہا ہے: مجھے روز اشتہار میں کیوں لاتے ہو؟
ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار میں ایک بچہ اگر پیسٹ نہ کرے تو ماں کہتی ہے: دانت گدھے جیسے ہو جائیں گے۔ گلہری تالیاں بجاتی ہے، خرگوش دانت چمکاتا ہے، اور ایک ماہرِ دندان پیسٹ کو ایسے اٹھاتا ہے جیسے کعبہ کی چابی ہو۔ اور عوام سوچتی ہے: کیا واقعی پیسٹ سے دانت چمکتے ہیں، یا بس گلہری ہی خوش ہوتی ہے۔
کپڑے دھونے کے پاوڈر کے اشتہار میں ایک چمچ پاوڈر ڈالنے سے داغ ایسے بھاگتے ہیں جیسے پولیس کی ریڈ پڑ گئی ہو۔ کپڑے ایسے نکھر جاتے ہیں جیسے ابھی برانڈ نیو ہوں۔ شوہر خوش ہو کر کہتا ہے: واہ بیگم! نئی قمیص؟ اور بیگم کہتی ہے: نہیں، پاوڈر بدلا ہے۔
عوام بھی اب ان اشتہاروں کی عادی ہو گئی ہے۔ کبھی کہتی ہے: بسکٹ کا سائز دیکھ کر ہنسی آتی ہے، کیک اتنا چھوٹا کہ چاقو سے کاٹنے کے بجائے ناخن سے توڑ لیں، چائے کی بھاپ صرف اشتہار میں، دودھ کی طاقت صرف ٹی وی میں، اور انرجی صرف بل میں۔ عوام اب اشتہار دیکھتی ہے اور دل میں کہتی ہے: شکر ہے، یہ سب صرف سکرین پر ہے، ورنہ ہم سب اُڑ رہے ہوتے۔
یہ کمرشلز اب صرف چیزیں نہیں بیچتے، بلکہ خواب بیچتے ہیں، خوش فہمیاں بانٹتے ہیں، اور قلابازیاں دکھاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان سے ہنسیں یا سنجیدہ ہو جائیں۔ شاید بہترین حل یہی ہے کہ ہنسیں بھی، اور اگلی بار جب اشتہار میں بسکٹ کو محل، چائے کو طوفان، یا انرجی ڈرنک کو جم کا متبادل دکھایا جائے، تو دل میں کہیں: یہ اشتہار ہے، حقیقت نہیں۔
فیس بک کمینٹ

