لاہور : سیالکوٹ میں سیلاب کے باعث آج بھی متعدد مقامات پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ شہری اور دیہی علاقوں میں پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔
سیلابی پانی کے باعث لوگوں کے ذرائع آمد و رفت معطل ہوکر رہ گئے جبکہ سیالکوٹ کی تمام سڑکیں پانی کی وجہ سے بند ہیں۔
سیالکوٹ کے محلہ اسلام آباد، رنگ پورہ، کینٹ، نیکا پورہ سمیت پورا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے جس سے بچنے کے لیے لوگ گھروں کی دوسری منزلوں پر پناہ لیے بیٹھے ہیں۔
ضلعی حکومت کا موقف ہے کہ شہر سے گزرنے والے نالوں میں پانی کی سطح کم ہونے تک سیلابی پانی نہیں نکالا جا سکتا۔
دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد بند توڑنے کے بعد سمبڑیال سمیت قریبی گاؤں اور وزیرآباد شہر میں بھی داخل ہوگیا۔
پلکھو نالہ بپھرنے سےوزیر آباد کی چیمہ کالونی، جناح کالونی، حاجی پورہ، محلہ شیش محل، سوہدرہ میں بھی پانی داخل ہوگیا جس کے سبب عوام گھروں میں محصور ہوگئے۔
انتظامیہ کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام سے پانی کی سطح نیچے آنے لگی ہے۔
دوسری جانب سیالکوٹ پولیس کا سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ادھر دریائے راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب سے تباہی مچ گئی۔یلاب کے باعث بستیاں ڈوب گئیں، وزیرآباد کے گلی محلے اور بازار زیر آب آگئے، پانی دکانوں اور مکانات میں داخل ہو گیا۔
ہیڈ قادر آباد پر پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے منڈی بہاوالدین اور علی پور چھٹہ کے مقام پر 2 شگاف ڈال دیے گئے۔
لاہور،قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج طلب کرلی گئی، وزیراعظم نے گجرات،سیالکوٹ اورلاہورمیں ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے فوری انتظامی اقدامات کی ہدایت بھی کردی۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائےراوی میں جسڑ کے مقام پر 70 سال اور شاہدرہ کےمقام پر37 سال بعد پانی آیا ہے۔
دریائے چناب میں سیلاب سے پلکھو نالا بپھر گیا، گنجائش سے زیادہ پانی سے نالا اوور فلو ہوگیا، سیلابی ریلا وزیرآباد شہر میں داخل ہونے سے کئی دیہات اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔
گوجرانوالہ میں چار سے پانچ ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی، دیہات سے لوگوں نے اپنی مدد کے تحت نقل مکانی کی۔
منڈی بہاؤالدین اورعلی پور چٹھہ کے مقام پر دو شگاف ڈال دیے گئے، حافظ آباد کے گاؤں سجادہ میں سیلابی ریلا پل بہا کر لے گیا، مظفرگڑھ میں کئی دیہات زیرآب آگئے، بڑا سیلابی ریلا اگلے دو سے تین روز میں گزرے گا۔
رنگ پور، مراد آباد، ٹھٹھہ سیالاں سمیت کئی بندوں میں دراڑیں پڑگئیں، ضلعی انتظامیہ کے مطابق بندوں کی مضبوطی کے لیے کام جاری ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں ایک دہائی بعد اونچے درجے کا سیلاب آیا ہے، انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں۔
دریائے راوی میں شاہدرہ اور ہیڈبلوکی پر پانی کی سطح میں اضافہ ہونے لگا، شاہدرہ پر آج رات بڑا سیلابی ریلا گزرنے کاخطرہ ہے۔
قلعہ احمد آباد میں ریلوے ٹریک سیلاب کی زد میں آگیا جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی، نارووال میں 21 مقامات پر ریسکیو آپریشن جاری، ساہیوال کےنواحی علاقے میں دریائی کٹاؤسے مین جی ٹی روڈ سمیت مختلف مقامات پر پانی سڑک کے ساتھ بہنے لگا۔
فیس بک کمینٹ

