پاکستان کے لیے 2026 کا مون سون ایک بڑے امتحان کی طرح ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس پیشگوئی کے ساتھ کہ مون سون بارشوں کی شدت پچھلے برسوں کے مقابلے میں نمایاں حد تک زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق انسانی اثرات کی وجہ سے شمالی پاکستان میں 30 دن کی زیادہ سے زیادہ بارشیں آج کل تقریباً 22 فیصد زیادہ شدید ہو چکی ہیں، جیسا کہ حالیہ عالمی تحقیق میں بتایا گیا ہے۔ بعض آب و ہوا کے ماڈلز اس اضافہ کو 40 سے 80 فیصد تک ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ متعلقہ غیر یقینی عوامل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ جنوب مغربی ایشیا کے مرطوب علاقوں میں بارش میں 200 فیصد تک اضافہ بھی ممکن ہے، خاص طور پر اگر اخراج کی سطح درمیانی یا زیادہ رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں شمالی پاکستان کے بعض حصوں میں 30 دنوں کے دوران بارش 600 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔ اس تناظر میں اگر موسمیاتی تبدیلی کی عمومی شرح یعنی 15 فیصد اضافی شدت کو مدنظر رکھا جائے تو 2026 میں ایسے 30 روزہ ادوار میں بارش کی مجموعی سطح 270 سے 300 ملی میٹر یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ مقدار پہلے ہی کمزور انفراسٹرکچر اور ناقص نکاسی والے شہروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
یہ غیر یقینی موسمی صورت حال صرف موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی غلطیوں کا بھی نتیجہ ہے۔ سب سے پہلی وجہ درختوں کی بے جا کٹائی ہے۔ جنگلات کے خاتمے سے نہ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بارش کے پانی کو زمین جذب کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہروں اور دیہی علاقوں میں پانی کے بہاؤ کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور اربن فلڈنگ کے امکانات کئی گنا زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کثیر المنزلہ عمارتوں کی بے ہنگم تعمیر بھی ماحولیاتی توازن کو بگاڑتی ہے۔ جب زمین پر کنکریٹ اور اسفالٹ کا پھیلاؤ بڑھتا ہے تو بارش کا پانی جذب ہونے کی بجائے ندی نالوں میں تیزی سے جاتا ہے اور وہاں رکاوٹ بن کر سیلابی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
اسی سلسلے میں ایک نکتہ یہ بھی قابل غور ہے کہ شہروں میں سولر پینلز کی تیزی سے بڑھتی تنصیب بھی درجہ حرارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اگرچہ سولر توانائی ماحولیاتی طور پر صاف سمجھی جاتی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر پینلز لگنے سے وہ سورج کی شعاعوں کو جذب کر کے بجلی میں بدلنے کے ساتھ کچھ حرارت فضا میں واپس چھوڑتے ہیں۔ اس طرح مقامی طور پر "heat island effect” میں اضافہ ہو سکتا ہے، یعنی شہروں میں درجہ حرارت نسبتاً زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ اثر عالمی حدت کے بڑے عوامل کے مقابلے میں کمزور ہے، لیکن اربن ایریاز میں موسمیاتی دباؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
حکومت پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے 2025 کے لیے ایک پلان بنایا تھا جسے اب مزید بہتر کیا جا رہا ہے تاکہ مون سون بارشوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس پلان میں ضلعی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے اور عوام کو پیشگی آگاہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ ڈیٹا اور ایمرجنسی وارننگ سسٹم کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
بالآخر، 2026 کا مون سون پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہوگا۔ اگر بارش کی مقدار واقعی 270 سے 300 ملی میٹر یا اس سے زیادہ تک پہنچ گئی تو کمزور نکاسی والے شہروں کے لیے یہ خطرہ سنگین ہوگا۔ لیکن اگر حکومت، ضلعی ادارے اور عوام مل کر کام کریں، درختوں کی کٹائی روکی جائے، بے ہنگم تعمیرات اور غیر منصوبہ بند سولر پراجیکٹس پر قابو پایا جائے اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے عملی منصوبے بنائے جائیں تو اس بحران کو ایک موقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر اربن فلڈنگ، جانی و مالی نقصانات، اور معاشی مسائل کا بوجھ پاکستان کے عوام کو مزید مشکل میں ڈال دے گا۔ یہ وقت ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کو محض ایک موسمی خبر نہیں بلکہ ایک قومی ترجیح سمجھ کر اس کے مطابق اپنی پالیسیوں کو ڈھالیں۔
فیس بک کمینٹ

