پاکستان کے بیشتر علاقے اس وقت شدید سیلاب کی زد پر ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی مقدار بڑھ رہی ہے اور شہروں کو بچانے کے لیے بند یا رکاوٹیں ختم کی جارہی ہیں تاکہ بڑی آبادی والے علاقے محفوط رہ سکیں۔ ملک میں چونکہ بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، ا س لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے دنوں میں طغیانی کی کیا صورت ہوگی اور مالی و املاک کا نقصان کتنا ہوگا۔
ایک طرف سیلاب و بارشوں کی صورت میں آفت درپیش ہے تو دوسری طرف اس صورت حال پر سیاست کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ماہرین خاموش ہیں لیکن آبی ذخائر کے انتظام اور انہیں کارآمد بنانے کے بارے میں ہر غیر متعلقہ شخص رائے دینے اور حل تجویز کرنے میں مصروف ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ مین اسٹریم میڈ یابھی ان قیاس آرائیوں میں شامل ہے۔ کیوں کہ کسی ناگہانی صورت حال میں یا تو دشمن پر الزام لگا کر اطمینان قلب حاصل کیاجاتا ہے یا پھر حکومت وقت کو کوس کر دل کی بھڑا س نکالی جاتی ہے۔
اس وقت یہ دونوں کام فراخدلی سے ہورہے ہیں حالانکہ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسی بیان بازی یا طعنوں سے یہ مصیبت نہیں ٹلے گی۔ اس کے لیے قومی سطح پر تدبیر کرنے، باہم اتفاق رائے پیدا کرنے اور دیگر مسائل کی طرح آبی مینیجمنٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ جن دنوں دریا خشک ہوں تو ملک میں پانی کی قلت نہ محسوس ہو اور جب بارشوں و طغیانی کی وجہ سے سیلاب کی صورت حال درپیش ہو تو نقصان کم کرنے اور لوگوں کی زندگیاں بچانے کا انتظام موجود ہو۔ یعنی قومی سطح پر ایسا انتظامی ادارہ اور عملی وسائل دستیاب ہوں جو متاثرین کو سہولت پہنچا سکیں اور لوگوں کے ڈوبنے سے پہلے انہیں متاثرہ علاقوں سے نکالا جاسکے۔
سیلاب سے تباہی صرف پاکستان سے مخصوص نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی دریا بپھر جائیں یا پہاڑوں سے آنے والےپانی کی مقدار اندازوں سے زیادہ ہوجائے تو مشکل حالات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ تاہم فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان میں ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی اور انتظامات کا فقدان رہتا ہے جس کی وجہ ہر سال سیلاب کی وجہ سے درجنوں انسان جاں بحق ہوتے ہیں۔ اس سال بھی ابھی تک بیس افراد پانی میں ڈوب چکے ہیں حالانکہ جدید وسائل کے ہوتے ہوئے انسانی زندگیاں بچانا پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔
حالیہ سیلاب کی شدت میں اضافہ کی ایک وجہ موسمی تبدیلیوں کی صورت حال بھی ہے جس کے بارے میں ماہرین اور ماحولیات کے لیے کام کرنے والے دہائیوں سے متنبہ کررہے ہیں لیکن ان کی پیش بندی کے لیے کام کی رفتار کم ہے ی انہ ہونے کے برابر ہے۔ خاص طور سے پاکستان جیسے ملکوں میں ماحولیات کے بارے میں آگاہی نہ ہونے سے یہ شعور پیدا نہیں ہوتا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کیسے کم کیاجاسکتا ہے اور درجہ حرارت میں عالمی سطح پر اضافہ کی روک تھام کیسے ممکن ہے۔ دنیا پر آباد ہر فرد اس جد و جہد میں کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اگر کچھ ممالک میں دوسروں پر الزام تراشی سے احتیاطی تدابیر کے لیے مزاج سازی نہیں کی جائے گی تو کسی آفت کے آنے پر بھی ہیجان و اضطراب ہی دیکھنے میں آئے گا۔
اس وقت ملکی میڈیا کا زیادہ ہ زور اس بات پر ہے کہ یہ سیلاب بھارت کی طرف سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کی وجہ سے آیا ہے۔ اسے عرف عام میں بھارت کی آبی دہشت گردی کا نام دیا جارہا ہے۔ اس وقت بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر ہیں۔ مئی کے دوران ہونے والی جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں میں ہر قسم کی مواصلت و تعاون بند ہے حتی کہ بھارتی حکومت سندھ طاس معاہدے کو ماننے اور اس پر عمل کرنے سے بھی انکار کررہی ہے۔ بعض جوشیلے سیاسی لیڈر تو پاکستان جانے والے پانی کا ہر قطرہ روکنے کا دعویٰ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ لیکن ایسی زبان درازی کے باوجود جب پہاڑوں سے پانی بہتا ہے اور ندی دریاؤں میں ان کی گنجائش سے زیادہ پانی آجاتا ہے تو اس کے فطری بہاؤ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ موجودہ صورت حال بھی ویسی ہی ہے۔ بارشوں کی کثرت اور پہاڑوں پر برف پگھلنے سے پانی کی مقدار میں اضافہ ہؤا ہے اور بھارت کے پاس اسے روکنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
فطری طور سے یہ اضافی پانی پاکستان کے زمینی علاقوں کی طرف آئے گا تاکہ جاکر سمندر میں مل سکے۔ پہاڑوں سے پانی کے زیادہ اخراج کی وجہ سے جب اس کی مقدار میں اضافہ ہوگا تو یہ سیلاب کی صورت اختیار کرے گا اور راستے میں آنے والی رکاوٹوں اور بستیوں کو بہا کر لے جائے گا۔ اس وقت پاکستان اسی مشکل کا سامنا کررہا ہے۔ پاکستانی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت نے سرد سفارتی تعلقات کے باوجود اضافی پانی کی مقدار کے بارے میں اسلام آباد کو مطلع کردیا تھا۔ ایسے میں بھارت پر آبی دہشت گردی کا الزام عائد کرنا عوام کو دھوکہ دینے اور اپنی کم عقلی کا مظاہرہ کرنے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پاکستان میں دیکھے جانے والے نقصانات کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ فطری آبی گزرگاہوں یعنی دریاؤں کے راستوں پر آبادیاں قائم کرلی گئی ہیں۔ بستیاں بسانے کے علاوہ متعدد علاقوں میں تو دریائی گزرگاہوں پر کاشت کاری بھی کی جاتی ہے۔
ان حالات میں اگر کسی موسم میں پانی کا غیر معمولی اخراج نہ ہو تو کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ حتی کہ حکومت کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا کہ ملک کی بے ہنگم طور سے بڑھنے والی آبادی سر چھپانے کے لیے کون سے غیر فطری اور غیر قانونی طریقے اختیار کررہی ہے۔ بلکہ ملک میں وسیع کرپشن اور بدانتظامی کے ماحول میں سرکاری عمال بھی اپنے ذاتی فائدے کے لیے ایسی آبی گزرگاہوں پر رہائشی منصوبوں کی اجازت دینے سے گریز نہیں کرتے۔ البتہ جب ناگہانی طور سے سیلاب و طوفان کی وجہ سے ایسی سب بستیاں پانی کے راستے میں آتی ہیں تو حکومتی ذمہ داران غیر قانونی آبادیوں پر الزام عائد کرکے خود اپنی ذمہ داری سے گریز کا راستہ نکالتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ یہ غیر قانونی آبادیاں کس کی لاپرواہی یابدعنوانی کی وجہ سے پھیلتی جارہی ہیں۔ عام حالات میں حکومت کیوں ان کی روک تھام کے اقدامات نہیں کرتی تاکہ غیر معمولی صورت حال میں پریشانی نہ ہو۔
اس وقت وزیر اعظم سے لے کرتمام اعلیٰ عہدیدار ایسی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا عزم کررہے ہیں۔ آج ہی ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’موسمیاتی تبدیلی اور مون سون سے پیدا ہونے والے اثرات سے بروقت نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر پالیسی پر کام جاری ہے۔ آبی ذخائر کی تعمیر اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جو صوبوں کی مشاورت اور ہم آہنگی سے بنائی جائے گی۔ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کی مؤثر تیاری سے ہی قدرتی آفات کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں‘۔ حالانکہ نہ تو موسمیاتی تبدیلی یک بیک رونما ہوگئی ہے اور نہ ہی ملک کو سیلاب کا پہلی بار سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ یہ صورت تو تقریباً ہر سال ہی دیکھنے میں آتی ہے لیکن جب بحران کا سامنا ہو تو کمیٹیا ں بنانے، پالیسی تیار کرنے اور تعاون بڑھانے کی باتیں زور شور سے سننے میں آئیں گی لیکن خطرہ ٹلنے کے بعد یہ باتیں بھی پرانی فائلوں کی طرح نظر انداز کردی جائیں گی۔
دریائی گزرگاہوں پر غیر قانونی آبادیوں کے علاوہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں کو مناسب سہولتیں فراہم کرنے کا انتظام نہیں ہوتا۔ اس وقت بھی حکومت پنجاب یا دیگر حکام کی طرف سے بار بار اعلان کیا جارہا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بعض صورتوں میں سرکاری مدد بھی بہم پہنچائی گئی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ متاثرہ علاقوں سے منتقل ہونے والے لاکھوں لوگ کہاں جائیں اور انہیں سر چھپانے یا کھانے پینے کی سہولت کون فراہم کرے گا۔ حکومتیں عام طور سے ایسے امدادی مراکز قائم کرنے اور وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ حالانکہ سیلاب سے ہر سال متاثر ہونے والے ملک میں مستقل بنیاد پر ایسا امدادی انفرا اسٹرکچر موجود ہونا چاہئے۔
اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے اپوزیشن ہی نہیں بلکہ سرکاری عہدیدار بھی بے سر و پا بیان دے کر عوام کی ہمدردی تو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی مدد کے کسی ٹھوس انتظام کا حصہ نہیں بنتے۔ اس کی نمایاں مثال وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کا تازہ بیان ہے جو انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قدرتی آفت میں غریبوں کی بستیاں اُجاڑ کر طاقتور لوگوں کے ریزورٹس بچائے گئے۔ملک میں طاقتور طبقے کے مفادات کے تحفظ کی خاطر عام لوگوں کو قربانی دینا پڑی اور دریا کنارے موجود اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے ریزورٹس بچانے کے لیے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں۔پاکستان میں ایلیٹ کلچر نے معاشرتی ناانصافی کو جنم دیا ہے۔جہاں کسی غریب کو دریا کے کنارے جگہ نہیں ملتی لیکن بااثر شخصیات کے عالی شان ریزورٹس کھڑے ہیں‘۔ نہ جانے وزیر موصوف اس قسم کی بیان بازی کس دھن میں کس کے لیے کررہے ہیں۔ اگر ان کی حکومت امرا کے محلات کے لیے غریبوں کی بستیاں اجاڑنے میں شریک ہے تو پھر انہیں مگر مچھ کے آنسو بہانے کی بجائے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے۔
تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ لفظی بمباری کرتے ہوئے کوئی بھی ، اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کرتا۔ ایسے بیان سیلاب کی تباہی کا سامنا کرنے والے لاکھوں لوگوں میں بداعتمادی اور ہیجان پیدا کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ وفاقی وزیر کی سطح کے لوگ بھی ایسی گفتگو کاحصہ بن کر اصل مسئلہ سے گریز کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

