ایک اچھوتی کتاب ،ملتان کی پچاس سالہ ادبی تاریخ کا احوال ،ان ادبی شخصیات کا تذکرہ جنھوں نے ملتان کی ادبی و ثقافتی پہچان کو آگے بڑھایا رضی الدین رضی نے رفتگان کی زندہ کہانیاں تخلیق کر کے انھیں امر کردیا۔
جب آپ ایک شہر میں اپنی ساری زندگی گزار دیتے ہیں تو اس شہر کی تاریخ، بوباس، تہذیب و ثقافت، ادب اور شخصیات بھی آپ کے اندر بسنے لگتی ہیں۔ مجھے جب معروف شاعر، محقق اور کالم نگار رضی الدین رضی کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ”کہانیاں رفتگانِ ملتان کی“ ملی تو گویا یادوں کا ایک دبستان کھل گیا۔ رضی الدین رضی نے جن مرحومین کا ذکر کیا ہے وہ سب ملتان کی نمایاں شخصیات رہی ہیں۔ میرا بھی ان سے اس لئے گہرا تعلق رہا کہ انہیں اپنے سامنے دیکھا، ان کے فن سے حظ اٹھایا اور ان کی محبتوں سے فیض حاصل کیا۔
رضی الدین رضی نے دو جلدوں پر مبنی اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک حصہ جنوری 1968ء سے جنوری 2006ء تک کا ہے جبکہ دوسرا حصہ جنوری 2006ء سے اکتوبر 2018ء تک کا ہے۔ مجھے یقین ہے رضی الدین رضی اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور بچھڑنے والے دیگر اہلِ قلم کی کہانیاں بھی سناتے رہیں گے۔ میرے نزدیک یہ ایک اچھوتا خیال اور اچھوتی کتاب ہے کہ تاریخ کے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا جائے۔ سمندر میں نے اس لئے کہا ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں شخصیات کے تمام حوالے یاد رکھنا اور پھر ایک مختصر کالم میں سمو دینا کوئی آسان کام نہیں۔

کتاب کے عنوان میں بھی مصنف نے جدت کا مظاہرہ کیا ہے۔ شخصیات کے بارے میں لکھتے ہوئے انہیں کوئی عنوان دیا جا سکتا ہے تاہم رفتگان کی کہانیوں کا عنوان دے کر تاثر کو گہرا کر دیا ہے ویسے بھی جو لوگ زندگی سے دور چلے جاتے ہیں، وہ ایک کہانی ہی تو بن جاتے ہیں، انہیں از سرِ نو دریافت کرنا پڑتا ہے۔ یہ رضی الدین رضی کا ہنر ہے کہ اس نے ان کہانیوں کو امر کر دیا ہے۔ یہ کتاب ملتان کی جدیدادبی تاریخ کی ایک ایسی دستاویز بن گئی ہےجس میں شخصیات بھی پوری قدوقامت سے نظر آتی ہیں اور اس عہد کا ماحول بھی ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ ملتان ایک ایسا شہر ہے جسے ہزاروں سال پرانی زندہ تہذیب کا مسکن کہا جاتا ہے او ریہ بات ہے بھی درست۔ یہ وہ دھرتی ہے جو کبھی مٹی نہیں اور عہد بہ عہد ہر جبر کو برداشت کرتی زندہ رہی۔ ایک زندہ شہر کی جمالیات بھی اور ہوتی ہے اور تہذیبی زندگی کا رکھ رکھاؤ بھی سب سے جدا ہوتا ہے۔
ملتان ہمیشہ سے ادب و ثقافت کا گہوارہ رہا ہے۔ اس شہر کی زندگی میں ایک تہذیبی و تاریخی رچاؤ ہے، جو ہر مکین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اب ظاہر ہے ایسے شہر میں کیسی کیسی شخصیات جنم نہیں لیتی ہوں گی۔ رضی الدین رضی نے تو صرف نصف صدی کے رفتگان کا حال سنایا ہے ذرا سوچئے ہزاروں برس کی تاریخ میں کیسے کیسے نابغہء روزگار زمیں زاد پیدا نہیں ہوئے ہوں گے۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

