دنیا کی سیاست میں بعض ملاقاتیں محض رسمی نہیں ہوتیں بلکہ آنے والے برسوں کا منظرنامہ تشکیل دیتی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ ملاقات کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملاقات جہاں خوشگوار ماحول میں ہوئی، وہیں امریکی صدر نے دونوں رہنماؤں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’’بہترین قیادت‘‘ کا حامل قرار دیا۔ بظاہر یہ جملے محض سفارتی روایات معلوم ہوتے ہیں، مگر پس پردہ کہانی کہیں زیادہ گہری اور اہم ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں کئی نشیب و فراز آئے۔ کبھی فوجی امداد اور انسداد دہشت گردی کی شراکت نے دونوں کو قریب کیا، تو کبھی ایبٹ آباد آپریشن اور سلالہ واقعے نے یہ تعلقات پاتال میں دھکیل دیے۔ لیکن آج کے عالمی منظرنامے میں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ایک نئے زاویے سے ہے اور وہ زاویہ ہے چین۔ واشنگٹن کی انڈو پیسفک پالیسی اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کم کرنا امریکی اسٹریٹجی کا بنیادی ہدف ہے۔
پاکستان میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے خصوصاً سی پیک نہ صرف معاشی بلکہ جغرافیائی اعتبار سے بھی امریکہ کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ پاکستان چونکہ بیجنگ کا قریبی شراکت دار ہے، اس لیے امریکہ چاہتا ہے کہ اسلام آباد کو کسی نہ کسی شکل میں اپنے قریب لایا جائے تاکہ چین کے اثرات کا توازن قائم کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ ملاقات میں سول اور عسکری قیادت دونوں کو شامل کیا گیا۔ اس سے یہ پیغام بھی ملا کہ امریکہ پاکستان کو صرف ایک تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے چین معاشی لحاظ سے کہیں زیادہ بڑا پارٹنر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم تقریباً 27 ارب ڈالر ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ یہ حجم 12 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ چین پاکستان میں 65 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، جب کہ امریکہ کی براہِ راست سرمایہ کاری 2024 میں صرف 250 ملین ڈالر رہی۔ ایسے میں اگر پاکستان امریکی دباؤ میں آ کر چین سے دوری اختیار کرتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان سی پیک اور توانائی کے منصوبوں کو ہوگا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سی پیک کے تحت پاکستان کے قومی گرڈ میں تقریباً 8 ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہوئی ہے۔ اگر یہ منصوبے سست ہوئے تو بجلی کی قلت دوبارہ شدت اختیار کرے گی اور عوام کو مہنگی درآمدی توانائی پر انحصار کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف اگر امریکہ توانائی یا انفراسٹرکچر میں کچھ سرمایہ کاری بھی کرے تو وہ چین کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ناکافی ہوگی۔
عوام کی زندگی پر ان معاہدوں کے اثرات کئی جہا ت رکھتے ہیں۔ اگر امریکہ تجارتی مراعات دیتا ہے اور سرمایہ کاری لاتا ہے تو برآمدی صنعت، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کو فائدہ ہوگا۔ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مزدور طبقے کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ مگر اگر اس کے بدلے چین ناراض ہوتا ہے اور اپنے منصوبے سست کرتا ہے تو عوام کو مہنگائی، بیروزگاری اور توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی طرح فوجی اور سکیورٹی تعاون کے معاہدے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت تو دے سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی ہے کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بن جائے۔ اس صورت میں داخلی سلامتی کے چیلنجز بڑھ جائیں گے، جیسا کہ ماضی میں دیکھنے کو ملا۔ عوام کو اس کے نتائج حملوں، بدامنی اور خوف کی صورت میں بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
مالی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ اگر امریکہ کے اثرورسوخ سے پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے آسان قرضے ملتے ہیں تو وقتی طور پر معیشت کو سہارا ملے گا۔ لیکن یہ قرضے سخت شرائط کے ساتھ آتے ہیں، جو عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کی صورت میں بوجھ ڈالیں گے۔ اس کے برعکس چین کی امداد اور قرضے عموماً طویل المدتی اور نرم شرح سود پر ہوتے ہیں، جو پاکستان کے لیے نسبتاً سہولت کا باعث بنتے ہیں۔
اصل نکتہ یہی ہے کہ پاکستان کو ایک توازن قائم کرنا ہے۔ اگر اسلام آباد صرف امریکہ پر انحصار کرے گا تو چین کے ساتھ تعلقات خراب ہوں گے، اور اگر وہ صرف چین پر بھروسہ کرے گا تو امریکہ کی ناراضی عالمی مالیاتی دباؤ کی شکل میں سامنے آئے گی۔ موجودہ حالات میں سب سے بڑی کامیابی اسی میں ہے کہ پاکستان دونوں طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھے اور عوامی مفادات کو مقدم رکھے۔
یہ ملاقات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت دونوں عالمی اسٹیج پر ایک پیغام دینا چاہتی ہیں کہ پاکستان کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے توازن قائم کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ توازن صرف بیانات سے نہیں، بلکہ عملی فیصلوں سے ثابت ہوگا۔ اگر ان فیصلوں میں عوامی بھلائی کو اولین ترجیح دی گئی تو یہ تعلقات پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے، ورنہ بڑے فیصلوں کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عوام کے کندھوں پر ہی آ گرے گا۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ ایک نیا امتحان ہے۔ امتحان اس بات کا نہیں کہ وہ امریکہ یا چین کے ساتھ تعلقات رکھ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل امتحان اس بات کا ہے کہ وہ اپنے عوام کی بھلائی اور قومی خودمختاری کو ترجیح دیتے ہوئے کس حد تک دانش مندی سے یہ تعلقات نبھاتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو پاکستان کو نہ صرف عالمی سیاست میں باوقار رکھے گا بلکہ عوام کو بھی حقیقی سکون دے
فیس بک کمینٹ

