پیر غلامانِ حسینی کانفرنس کا پروگرام ہر سال ایران کے ایک عظیم شہر میں منعقد ہوتا ہے، جس میں مختلف ملکوں کے شاعر، ذاکرین، اور نوحہ خوان تشریف لاتے ہیں۔ ایران کے مشہور و معروف مرثیہ خوان، نوحہ خوان، شاعر، اور خطیب حضرات کو بھی مدعو کیا جاتا بے پیر غلام وہ اہم شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی، نوجوانی سے لے کر بڑھاپے تک، واقعہ کربلا کو دنیا میں عام کرنے کی کوشش کی۔۔ان شخصیات میں خطباء شعراء اور مدح خوان شامل ہیں۔ اس سال کا پروگرام روضہ مطہر امام رضا علیہ السلام میں منعقد ہوا، جس میں داخل ملک کے علاوہ ہندوستان، پاکستان، جرمنی، افریقہ، جنوبی امریکہ، تھائی لینڈ، افغانستان، عمان، ترکیہ، عراق، الجزایر، اور جمہوریہ آذربائیجان جیسے ممالک کی اہم شخصیات مدعو تھیں۔ پروگرام کے بعد مہمان شخصیات کو نفیس انعامات سے نوازا گیا۔۔
مجھ حقیر کی خوش بختی کہ اس دفعہ پاکستان سے مجھے عزت بخشی گئی۔۔میں اپنے مولا ابا عبداللہ کے حضور آنسؤوں بھری آنکھوں اور غمگین دل کے ساتھ مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھ حقیر کی بے مایہ محبت کو اپنی توجہ کا اعزاز عطا کیا۔۔ اور مجھ ناچیز کو( پیر غلام) کا اعزاز عطا کیا گیا یعنی حضرت ابا عبداللہ کا بوڑھا غلام ۔۔یہ نشانِ اعزاز گویا مکتب وفا میں حبیب ابن مظاہر کی یاد تازہ کرتا ہے۔۔
الحمدللہ امام رؤف علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام کے روضہ مطہر میں منعقدہ یہ تین روزہ پیر غلامِ حسینی کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس میں کئی ممالک کے ذاکرین عظام نے شرکت کی ۔بہترین دانشور علماء نے ذکر حسینی کے فکری نظریاتی اور عرفانی امور کے متعلق بیش بہا اور لطیف نکات بیان کیے اس تین روزہ کانفرنس میں ایران کے تقریبا تمام معتبر اور بہترین علماء نے علمی نشستوں کی صورت میں رزق علم تقسیم کیا۔۔ اور شب شعر جیسی یادگار محفل سخن نے ایسا تبرک عشق تقسیم کیا کہ دل باغ باغ ہو گیا۔۔جہاں مدح خانوں کے ولائی کلام نے دلوں کو گرمایا وہاں پرتاثیر رثائی کلام نے فرش عزا کو عرش عزا بنا دیا۔۔مولا امام رضا کی میزبانی میں اور گنبد طلائی کے سائے میں گزارے ہوئے یہ تین خوب صورت دن ہمیں ہمیشہ یاد رہیں گے۔
تقریبا پانچ سو ذاکرین شعراء اور مدح خوانوں نے اس بابرکت نورانی سلسلے میں شرکت کی اگرچہ زبانیں الگ الگ تھیں ملک الگ الگ تھے لیکن دل کی دھڑکنوں میں نام حسین یکساں منور تھا بے شک حسین ع کی محبت تمام انسانوں کو یکجا کر دیا کرتی ہے”حب الحسین یجمعنا”۔امام حسین امام الناس ہیں اس کا تجربہ تمام ذاکرین عظام سے مل کر ہوا جن کی زبانیں الگ الگ تھیں مگر دل باہم پیوست تھے خدا کرے کہ ہم بھی عزاداری کے فروغ کے لیے ایسے ہی روح پرور سلسلے جاری کرسکیں۔۔۔یہ بھی حقیقت ہے کہ منبر حسینی ایسا وسیلہ ہے کہ ہر انسان بلا تفریق رنگ و نسل اور بغیر تفریق سن و سال اس مکتب سے فیض یاب ہو سکتا ہے ایک ایسا عمومی رابطہ جو معاشرے میں بہترین تبدیلی اور فکری بلندی کا امین بن کر نسلوں کو اخلاقی، اعتقادی، روحانی اور عرفانی وجدان عطا کر سکتا ہے اس لیے خطباء کی تربیت اور ان کی عزت افزائی ایک عظیم الشان انقلاب کی نوید بن سکتی ہے یہی منبر حسینی تھا جس نے ایرانی انقلاب جیسے عظیم الشان رزمیے کی بنیاد رکھی ۔۔گویا یہ منبر ایک ایسا آفاقی انقلابی اور لازوال مدرسہ ہے جس کی جڑیں مضبوط کر کے پورے معاشرے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔۔میں ملت ایران کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے صاحبان منبر یعنی خطباء ،شعرا اور مدح خوانوں کو جمع کر کے ایک بین الاقوامی فکری انقلاب کی بنیاد رکھی ہے جس کے نتائج انشاءاللہ ان تمام ملکوں میں نظر آئیں گے دعا ہے کہ یہ سلسلہ ایک عظیم الشان تربیت کی صورت میں جاری و ساری رہے۔۔اگر غور کیا جائے تو مدارس دینیہ میں عمومی معاشرے کے چند فیصد لوگ اکتساب کرتے ہیں اور معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ ان سے فیض یاب ہوتا ہے جبکہ منبر حسینی وہ عالمی اوپن یونیورسٹی ہے جس میں ہر عمر کے لوگ پورے عقیدے عشق اور محبت کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور کہے گئے سخن ہائے عشق سے اپنے دلوں کو منور کرتے ہیں سب سے موثر اور پرتاثیر تبدیلی فقط منبر حسین سے ممکن ہے اس لیے اس عالمی مدرسے کی عظیم برکات سے فیض یاب ہونے کے لیے خطباء کی تعلیم و تربیت کا بہترین اہتمام اور ان کی عزت افزائی ضروری ہے۔

