گرو رجنیش المعروف بہ اوشو جنہیں ان کے پیروکار اور مرید بھگوان شری رجنیش کہتے ہیں ایک ڈسکورس میں فرماتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک یوگی فقیر پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھا گیان دھیان کرتا تھا ، وہاں قریب ہی ایک چوہے کا بل تھا ، چوہے نے اسے بے ضرر پایا تو اس کے قریب آنے لگا ، اس کے پاس بیٹھا رہتا تھا ، پھر زیادہ قربت ہوئی تو اس کے اوپر چڑھ جاتا ، کئی بار تو اظہار محبت کے طور پر کھانے کی چیزوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی اس کے آگے لا کر رکھتا ، یوگی کو بھی اس سے پیار ہو گیا ۔ ایک دن ایک بلی نے چوہے پر حملہ کیا ، یوگی کے پاس گپت شکتیاں یعنی خفیہ طاقتیں تھیں اس نے چوہے کو جنگلی بلا بنا دیا ، پھر ایک دن ایک کتے نے اس بلے پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو یوگی نے اسے چیتا بنا دیا ، پھر ایک دن ایک تیندوے نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو یوگی نے اسے ببرشیر میں تبدیل کر دیا ، جب وہ شیر بنا تو اس نے یوگی پر ہی حملہ کر دیا تب یوگی نے اسے واپس چوہا بنا دیا ۔
اوشو کہتے ہیں کہ تمہارا اہنکار یعنی انا ego طاقتور ہوتی جاتی ہے اور آخر میں تمہیں کھا جاتی ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ شیر میں تبدیل ہوئی انا اتنی آسانی سے دوبارہ چوہا نہیں بنتی جتنی آسانی سے یوگی نے اپنے بنائے ہوئے شیر کو واپس چوہا بنایا تھا۔
یہ انا ہی ہے جو آپ کو حسد اور نفرت کے منفی جذبات دیتی ہے ، آپ کو موازنے اور مقابلے کے چکر میں ڈال دیتی ہے ، فلاں اس برانڈ کے کپڑے یا جوتے پہنتا ہے ، فلاں نے نئی اور بڑی گاڑی خرید لی ہے ، اس نے فلاں ہاؤ سنگ سکیم میں پلاٹ خریدا ہے ، فلاں جگہ کوٹھی بنائی ہے مجھے بھی یہ سب حاصل کرنا ہے ۔ یہ بھاگ دوڑ جسے ریٹ ریس کہا جاتا ہے ایک تو سکون اور اطمینان کو کھا جاتی ہے اور دوسرا منفی ہتھکنڈوں اور جرم کو پروموٹ کرتی ہے اور یہ سب انا جھوٹی انا کی تسکین کے لیے ہو رہا ہوتا ہے ۔ پاکستان میں سول سروس یا پولیس سروس میں شامل ہونا کتنی بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے ، لیکن آپ ہر سال ایسے کئی کامیاب لوگوں کو خودکشی کرتے دیکھتے ہیں ۔
سیاست بھی یہاں ایک بہت بڑا منافع بخش کاروبار ہے اور ساتھ ہی سٹیٹس سمبل بھی لیکن کتنے سیاستدان ماہرین نفسیات کے کلائنٹ ہیں یا شراب اور نیند کی گولیوں کے بغیر سو نہیں پاتے یہ عام طور پر لوگ نہیں جانتے ۔ کتنے تاجر اور صنعتکار دوسرے تاجروں اور صنعتکاروں سے مقابلے میں دیوالیہ ہو جاتے ہیں اور پھر جس ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتے ہیں یہ داستانیں بھی سب تک نہیں پہنچتیں ۔
اپنے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی دیکھ لیجیے وہ نوبل پیس پرائز کے لیے پاگل ہوئے پھرتے ہیں ، وجہ ! کیونکہ اوباما کو ملا تھا ۔ اوباما دو بار صدر بنے ، ٹرمپ بھی دو بار بن گئے لیکن نوبل انعام میں وہ ان سے پیچھے ہیں لہذا وہ امریکہ پر انحصار کرنے والے اپنے ہر اتحادی ملک سے خود کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرا چکے اسرائیل آذربائجان پاکستان آرمینیا ۔۔۔ حد یہ کہ اس سال نوبل انعام نہ ملنے پر انہوں نے فٹبال مقابلوں کے بین الاقوامی ادارے فیفا سے خود کو امن انعام دلوا کر دنیا بھر میں اپنی ہنسی اڑوا لی، خود کو تمسخر کا نشانہ بنوا لیا۔
نپولین بوناپارٹ بہت بڑا فاتح تھا لیکن اسے اپنے قد کے چھوٹا ہونے کا کمپلیکس ہو گیا تھا جس نے اس کا سکون چھین لیا تھا ۔ حالانکہ اس کا قد چھوٹا نہیں تھا ، اس کے نام میں بونا اردو والا نہیں ، اس کا قد پانچ فٹ چھ انچ تھا اس دور میں فرانسیسی لوگوں کے اوسط قد اتنے ہی ہوا کرتے تھے ۔ ہوا یوں تھا کہ ایک برطانوی کارٹونسٹ اپنے کارٹونوں میں نپولین کا قد چھوٹا دکھاتا تھا چنانچہ وہ اس کمپلیکس میں مبتلا ہو گیا ، حد یہ ہے کہ اس نے اپنے دشمن ملک برطانیہ کو خط لکھ کر اس پر احتجاج کیا اور کارٹونسٹ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ۔
ہمیں کوشش کرنی چاہیے محنت کرنی چاہیے لیکن موازنے مقابلے رشک اور حسد کے چکر میں نہیں الجھنا چاہیے ۔ دل کی سننی چاہیے ، جو وہ نہ کرنا چاہتا ہو وہ اس پر نہیں تھوپنا چاہیے۔ سکون اور اطمینان ہی اصل نعمتیں ہیں ، ان کی قیمت پر حاصل کردہ ظاہری کامیابی کوئی کامیابی نہیں۔
فیس بک کمینٹ

