پاکستان کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر محض تعریف یا تنقید کے پیمانوں سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اُن کے کردار کو تاریخ کے کڑے امتحانوں، قومی بحرانوں اور اجتماعی فیصلوں کی کسوٹی پر پرکھنا پڑتا ہے۔ آصف علی زرداری اُن ہی چند ناموں میں شامل ہیں جن کا سب سے زیادہ میڈیا ٹرائل ہوا، سب سے زیادہ تہمتیں لگیں، اور سب سے زیادہ طعن و تشنیع کی بوچھاڑ ہوئی۔ مگر اسی ہجومِ دشنام والزام میں اُن کی سیاسی بصیرت، مفاہمتی حکمتِ عملی اور ریاستی استحکام کے لیے کی گئی کاوشیں اکثر نظر انداز کر دی گئیں۔
زرداری صاحب کا خاندانی پس منظر امارت، شرافت اور سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ وہ شہیدِ جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کے شریکِ حیات اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے والد ہیں۔ بھٹو خاندان کی سیاسی روایت اور قربانیوں کا تسلسل اُن کے مزاج اور فیصلوں میں بھی جھلکتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی، معاشی اور آئینی تاریخ کے کئی اہم ابواب بھٹوز اور زرداری کے ذکر کے بغیر ادھورے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض معاملات میں زرداری صاحب کی عملی سیاست نے ریاستی ڈھانچے کو سہارا دینے میں زیادہ وزن دکھایا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایک نیا آئینی، عسکری اور سفارتی وژن دیا، اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی نئی قدروں کو فروغ دیا۔ ان دونوں عظیم شخصیات کے بعد جس دور میں زرداری صاحب نے قیادت سنبھالی، وہ دہشت گردی، معاشی دباؤ، سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کشمکش کا زمانہ تھا۔ ایسے میں روشن خیال جمہوری عمل کو رواں دواں رکھنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔ زرداری صاحب نے وقت کی روح کو سمجھا اور تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔
اُن کے دور میں 1973ء کے آئین کی بحالی، صوبوں کو اختیارات کی منتقلی، این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وسائل کی منصفانہ تقسیم، دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کی تشکیل، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ اور خارجہ امور میں توازن پیدا کرنے کی کوششیں ایسی کامیابیاں ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمتی رویہ اپنا کر مارشل لا کے امکانات کو روکنا، روس اور چین کے ساتھ تعلقات کو نئے زاویے سے استوار کرنا اور سیاست و معیشت میں توازن پیدا کرنے کی سعی ۔۔۔یہ سب اُن کی عملی سیاست کے نمایاں پہلو ہیں۔
آصف علی زرداری کی اصل قوت اُن کی برداشت، صبر اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کو تعصب، اجنبیت اور ذاتی دشمنیوں کے بجائے مل بیٹھنے، سننے اور جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اُن کی سیاست ٹکراؤ نہیں بلکہ جوڑ توڑ نہیں، بلکہ جوڑنے کی سیاست ہے—ایسی سیاست جو ریاست کو بکھرنے سے بچاتی ہے اور نظام کو چلتا رکھتی ہے۔
تاریخ جب غیرجانبداری سے لکھی جائے گی تو یہ بات ضرور سامنے آئے گی کہ آصف علی زرداری نے مشکل ترین حالات میں جمہوری تسلسل کو برقرار رکھا، آئین کو طاقت دی اور وفاق کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ افسوس یہ ہے کہ اس مدبر شخصیت کی قدر اُس طرح نہیں کی گئی جس کے وہ حق دار تھے۔ مگر وقت کا انصاف دیر سے سہی، سچائی کو نمایاں ضرور کرتا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں آصف علی زرداری ایک مدبر، صابر اور مفاہمت کے علمبردار رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
فیس بک کمینٹ

